اسلام آباد (نمائندہ جنگ ) چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ چین اور پاکستان نے سی پیک کی ترقی کیلئے تبادلہ خیال اور کوآرڈی نیشن کا عمدہ نظام قائم کر رکھا ہے۔بارہ نومبر2015کو سی پیک کی پانچویں مشترکہ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں اقتصادی راہداری میں کئی راستے نامی اصول کی منظوری دی گئی تھی جس کے مطابق پورے پاکستان خاص کر مغربی اور شمال کے علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کو براہ راست فائدہ پہنچےگا اور گوادر بندرگاہ کیلئے موثر رابطوں کا نظام فراہم کیاجائےگا۔ برہان، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کے راستے سہراب جانے والی شاہراہ سی پیک کے اہم مقامات کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرےگی اور پاکستان کے مغربی علاقوں کو بھی منسلک کرےگی ، چینی سفارتخانے نے چین کے سفیر سن ویڈونگ کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ سے متعلق بات چیت سے متعلق خبر سرا سر غلط اور حقائق کے منافی قرار دیتےہوئےاپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ مغربی روٹ سے متعلق شائع ہونیوالی خبر سرا سر غلط اور حقائق کے منافی ہے جس میں یہ کہا گیا تھاکہ چینی سفیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت کو بتایا کہ اقتصادی راہداری میں مغربی روٹ موجود ہی نہیں ، ترجمان نے کہا کہ اقتصادی راہداری پورے پاکستان کے لئے ہے اور پاکستانی عوام جن میں ملک کے مغربی علاقوں میں بسنےوالے افراد شامل ہیں، کو بھی فوائد حاصل ہونگے۔ترجمان نے کہاکہ راہداری منصوبہ چین اورپاکستان کے درمیان ایک متفقہ منصوبہ ہے جودونوں ممالک کے درمیان باہمی رابطے ،عوام کے معیارزندگی اوراقتصادی وکاروباری تعاون میں اضافے کیلئے نہایت اہمیت کاحامل ہے،دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کی بدولت سی پیک کے تمام منصوبوں پر جامع طورپراحسن طریقے سے عملدرآمدکیاجارہاہے، مغربی پاکستان کے علاقوں میں سی پیک منصوبوں کو ترقی حاصل ہو رہی ہے اور عوام کی زندگی سے وابستہ کئی منصوبوں پر بھی عملدرآمد کیا جا رہا ہے،ہم پاکستان کیساتھ مل کرسی پیک پر مسلسل پیشرفت کےحصول اورعوام کوجلد فائدہ پہنچانے کے خواہاں ہیں۔