• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آپ کاگزارہ خوابوں پر ہے اور طوطے شاہ کا ان کی تعبیریں کھوجنے پر ۔ آپ کے پاس خواب دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ ہے ،نہ شاہ جی کے پاس تعبیریں بتانے کے سوا کوئی ہنر۔ پس آپ آنکھیں بند کرکے خواب دیکھتے جائیں، طوطے شاہ ان کے عذاب بیان فرماتے رہیں گے۔ اللہ نے چاہا تو یہ ریاضت رائیگاں نہ جائے گی اور روشن مستقبل کے سارے امکانات اسی دریچے سے پھوٹیں گے ۔ شائقین خواب کے لئے طوطے شاہ کا پیغام ہے کہ
جنہوں علم اے تعبیر دا ، اِکو منظر ہونا ایں
او فیر خواب ای کیوں نہ ویکھے ، او فیرا کھاں کیوں کھولے
خواب: کل صبح اٹھ کر میں نے ناشتے میں لسی کے تین گلاس چڑھائے تو ایسی گھوکی چڑھی کہ میں دوبارہ عالم خواب میں پہنچ گیا۔ کیادیکھتا ہوں کہ حالات یکسر بدل چکے ہیں ۔ امن وامان کی صورتحال مثالی ہے ۔ قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہے ۔نیز خالص اشیائے ضروریہ ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں اور چہرے کھلے ہوئے ہیں ۔ اس خواب کی تعبیر کیا ہے ؟
تعبیر: لسی کے تین عدد مزید گلاس چڑھائیے کہ ایسے بچگانہ خوابوں کی تعبیریں ’’ایجاد‘‘ ہوئی ہیں اور نہ محض خواب دیکھنے سے حالات بدلتے ہیں ۔ تاہم چونکہ خواب دیکھنے پر پابندی سے متعلق ہنوز کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوا اور نہ اس خوئے بد پر ابھی تک کفر کا کوئی فتویٰ سامنے آیا ہے ۔ لہذا آپ’’عالم گھوکی‘‘ میں خواب دیکھتے رہیں کہ اس میں لسی ہی خرچ ہوتی ہے ، پٹرول تو نہیں ۔
خواب: خواب میں بیگم کے ساتھ کسی یورپی ملک کی سیر کرنا کیسا ہے ؟
تعبیر: ایسا ہی ہے ، جیسے کوئی فائیو اسٹار ہوٹل میں لنچ کرنے جائے اور اپنا روٹی اچار ساتھ باندھ کر لے جائے۔
خواب: میں خواب میں دیکھتی ہوں کہ سارے علاقے کی بجلی بند ہے لیکن میرے کمرے کی ٹیوب لائٹ جل رہی ہے۔
تعبیر: یہ ترقیاتی خواب ہے ۔ آپ لوڈ شیڈنگ سے تنگ آکر عنقریب گھر میں UPSلگوائیں گی ۔
خواب: مجھے خواب میں تیز دھار کلہاڑا نظر آتا ہے ، جو کسی نامعلوم چیز پر چلنے والا ہے ۔ میں تو ڈر گیا۔
تعبیر: ضرور ڈریں ۔ یہ 22ویں آئینی ترمیم کا کلہاڑا ہے جو آپ کے مفادات پر چلنے والا ہے۔ بالکل اسی طرح، جیسے 21ویں ترمیم کے کلہاڑے نے آپ کے سیاسی و گروہی مفادات کا بیڑہ غرق کیا۔
خواب: شاہ جی ! میں بینڈ باجوں کے شور میں خود کو سہرا باندھے دیکھتا ہوں ۔ اس خواب کی تعبیر کیا ہے ؟
تعبیر:صدقہ خیرات دیں ۔ کوئی مصیبت آپ کے ساتھ پنجہ آزما ہونے والی ہے ۔
خواب: مجھے آج کل اکثر خواب میں بریف کیس نظر آتے ہیں ۔
تعبیر: صرف خواب میں ہی نہیں ، حقیقت میں بھی آپ کو بریف کیس دکھائے جاتے ہیں… سینیٹ کے انتخابات میں آپ کا ضمیر خریدنے کےلئے ۔ حالانکہ آپ تو کب کا اسے …
خواب: میں اپنے کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو وہ ملکی خزانے کی طرح خالی ہے ۔
تعبیر:آپ کے گھر چوری کا امکان ہے۔ محتاط رہیں۔
خواب: میں خواب میں کسی نومولود بچے کے رونے کی آواز سنتی ہوں ۔
تعبیر: گھر میں ایک عدد مزید ترقی کا قوی امکان ہے۔ آپ محکمہ بہبود آبادی کا ضلعی سطح کا کوئی آفیسر معطل کرانے میں کامیاب رہیں گی ۔
خواب: کل رات ایک خواب نے میرے بچپن کی یاد تازہ کردی ۔ میں تختی سے پرانی تحریر دھوتا ہوں اور پونچا لگا کر اس پر قلم دوات سے نیا سبق لکھتا ہوں ۔
تعبیر: مبارک ہو ! آپ اپنی پارٹی تبدیل کریں گے اور اپنے سابقہ بیانات سے پھر جائیں گے ۔
خواب: جناب شاہ صاحب میں نے خواب میں ٹی وی پر ایک با روعب آواز سنی ’’میرے لذیذ ہم وطنو! السلام علیکم‘‘ … خوف کے مارے میری چیخ نکل گئی اور پھر آنکھ کھل گئی ۔
تعبیر:کثرت سے توبہ استغفار کریں ، نیز مقدور بھر صدقہ و خیرات بھی دیں ۔ اس سے مصیبتیں اور بلائیں ٹل جاتی ہیں ۔
خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میری موٹر سائیکل اچانک میرے کنٹرول سے باہر ہو جاتی ہے ۔میں اس کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ناکام رہتا ہوں ۔ کہیں یہ کوئی بد شگونی تو نہیں ؟
تعبیر:بالکل ہے ۔ محبوب کانٹا بدلنے والا ہے ۔ اس کے ہاتھ ایک تگڑی آسامی لگ گئی ہے ۔
خواب: شاہ جی! کل رات میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ تمام صاحبان جبہ و دستار اور ٹوپی بردار اسمبلیوں ، سینیٹ اور دیگر سرکاری عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد اس جھوٹی دنیا کو بھی طلاق دے دیتے ہیں ۔ وہ فانی دنیا کی محبت اور جاہ و جلال ترک کر کے اپنی جائیدادیں ، بینک بیلنس ، پرمٹ ، لگژری گاڑیاں اور دیگر سائنسی بدعات عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کردیتے ہیں اور اپنے نفس کے خلاف جہاد پر کمربستہ ہو جاتے ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ مفتیان دین مبین اپنے اپنے عصاء مبارک ہاتھوں میں اور بستر سروں پر اٹھائے حضرت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جنگل کی طرف رواں دواں ہیں ، جہاں پہنچ کر وہ دنیاوی آلائشوں سے پاک بقیہ زندگی گزارنے کے لئے نورانی خیمہ بستی آباد کرتےہیں ۔ سبحان اللہ ! میری گناہگار آنکھیں تزکیہ نفس کے ایمان افروز مناظر کی تلاوت کرتی ہیں ۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے وارثانِ محراب و منبر پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور نورانی چہرے آنسوئوں سے تر ہوجاتے ہیں ۔ ایسے میں ایک نیا آمر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور قائد محترم سے اپنے ہاتھ مضبوط کرنے کی درخواست کرتا ہے ۔ وہ ’’مانگو جو مانگتے ہو ‘‘ کا نعرئہ مستانہ بھی بلندکرتا ہے مگرجواب میں وہ درویش مصلے پر بیٹھے بیٹھے فقط اس کو دھوپ چھوڑنے کا اشارہ کردیتا ہے ۔ میں علمائے کرام کو اس حالت میں بہت مطمئن اور مسرور دیکھتا ہوں ۔ واپس آتا ہوں تو عوام ان سے بھی زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔ آپ اس خواب کے بارے میں کیا کہیں گے ؟
تعبیر:دیوانے کا خواب۔
تازہ ترین