آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہی وہ وقت ہے جب فاٹا کی محروم نوجوان نسل کو قومی دھارے میں لایا جائے،انہیں وطن سے محبت کی ترغیب دی جائے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہیں حصہ دار بنایا جائے۔ اگرچہ حکومت فاٹا کو آئینی حیثیت دینے کےلیے سنجیدہ کوشش کر رہی ہے لیکن زمین پرکوئی ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے جن سے گزشتہ سات دہائیوں سے نظر اندازکی جانےوالی اس قوم کی ڈھارس بندھائی جاسکے اور انہیں یقین دلایا جاسکے کہ وہ پاکستانی ہیں۔ موجودہ دور میں جب ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے، فاٹا کے عوام کو قومی شناخت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ اس وقت پاکستان اور کے پی کے کی سلامتی کا انحصار فاٹا کے حوالے سے حکومت کی اہلیت پر ہے۔یہاں کے عوام میں کوئی نقص نہیں ہے بلکہ یہاں کی انتظامیہ کی طرز حکمرانی انتہائی ناقص ہے۔لیکن اب وفاق اس جانب توجہ دے رہا ہے۔
Border Management Control Systemپر مؤثرکنٹرول نہیں ہے۔اگر روزانہ 500ویزوں کی گنجائش ہے تو 15سے 20ہزار لوگ سرحد عبور کرتے ہیں ان حالات میں کئی دہشت گرد اورجرائم پیشہ افراد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور وارداتیں کرکے کسی رکاوٹ کے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ان اعمال کا سدباب بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے ۔یہی

وہ وقت ہے کہ فاٹا کی آئینی حثیت کا تعین کیا جائے۔اس کا فیصلہ یہاں کے عوام پر چھوڑ دیا جائے کہ انہوں نے اسی حیثیت میں وفاق کے ساتھ رہنا ہے یا وہ علیحدہ صوبہ کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں۔اس کےلیے ریفرنڈم موزوں ترین راستہ ہے۔اس طرح عوام اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریںگے اور ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس کےلیے انہیں سوچ بچارکےلیے محدود وقت دینا چاہیے۔تاکہ وہ اپنی سیاسی وابستگیوں اور سماجی اقدار کےمطابق اپنے علاقے میں طرز حکومت کا تعین کرسکیں۔اس کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیںہے کیونکہ اس قوم پر کوئی رائے یا فیصلہ قوت کے بل بوتے پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔انہیں قائل کیا جا سکتا ہے ۔اس کےلیے ریفرنڈم بہترین اور قابل عمل اور تمام قبائل کےلیے قابل قبول ہوگا۔انتخابی عمل کے دوران قومی سیاسی جماعتیں ان علاقوں میں جائیں گی۔سیاسی ماحول بیدار ہو گا،ان میں اپنائیت کا احساس اجاگر ہوگااور قومی یکجہتی بیدارہوگی۔
حکومت کی جانب سے فاٹا کو آئینی حیثیت دینے کےلیے مختلف انداز میں اقدامات کیے جارہے ہیں۔اس جستجو میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان نے فاٹا اور کے پی کے کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔اس بات کا علم نہیں کہ اس قائمہ کمیٹی نے حکومت کو کیا سفارشات پیش کیں لیکن توقع یہی ہے کہ کمیٹی نے حساس معاملات پر بھی غور کیا ہو گاجن کو علاقائی حوالےسےنظراندازنہیںکیاجاسکتا۔ دوسری طرف حکومت بھی اس بارے میں باخبر ہے کہ یہاں کی بیوروکریسی اس علاقے کو آئینی حیثیت دینے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگی کیونکہ یہ علاقہ ان کےلیے سونے کی کان ہے جہاں سے وہ سالانہ کڑوڑں اربوں روپے کماتے ہیں لیکن حکومت کو کرپشن کےراستےبندکرنےکےلیےبھی قانونی چارہ جوئی کرنی ہوگی۔
اس حوالے سے انسپکٹر جنرل آف پولیس کے پی کے ناصر خان درانی نے قائمہ کمیٹی کو چند قابل عمل سفارشات پر مبنی خط تحریر کیا ہے۔جس سے اس علاقے کے عوام کو قومی دھارے میں لانے کے سلسلے میںتجاویز پیش کی ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کیونکہ فاٹا وفاق کے زیر انتظام ہے اور یہاں کے نوجوان صرف اسلام آباد پولیس میں ہی بھرتی ہوسکتے ہیں لیکن ان کی تعداد اس لیے نہ ہونے کے برابر ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اسلام آباد کے کلچر سے متصادم ہے۔اس کا حل ناصر خان درانی نے یہ دیا ہے کہ وفاقی حکومت فاٹا کے 3000/4000 نوجوانوں کو اسلام آباد پولیس میں بھرتی کرے اور ان کی خدمات کے پی کے پولیس کے حوالے کردے۔جنہیں تربیت کے بعد خیبر پختونخوا کے فاٹا سے ملحقہ علاقوں میں تعینات کر دیا جائے۔اس عمل سے انہیں پولیسنگ کا تجربہ ہوگااور وہ رفتہ رفتہ اپنے علاقے میں امن قائم کرنے کے اہل ہوجائیں گے۔یہ تجربہ اس لیے بھی کامیاب ہوسکتا ہے کہ وہاں کے نوجوان دہشت گردوں کی حرکات کے علاوہ ان کے ٹھکانوںسے بھی آگاہ ہیں اور انفرادی طور پر بھی شورش پسند لوگوں سے آشنا ہیں۔جب پولیس یونیفارم میں ملبوس نوجوانوں کو اپنے علاقے کی سلامتی اور امن کے فرائض سونپے جائیں گے تو ایک تو ان میں احساس تحفظ پیدا ہوگا اور دوسرا اپنے علاقے میں امن قائم کرنا ان کی ذمہ داری ہوگی۔کیونکہ یہ لوگ اندر سے امن پسند اور پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں اور ان کے بزرگوں کو جو ملک کہلاتے تھے دہشت گردوں نے امن قائم کرنے کی کوششوں میں ایک ایک کر کے قتل کردیا۔اب وہاں اتنی دلیری کے ساتھ امن کے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں رہا۔یہ نوجوان جو اس کمی کو شدت کے ساتھ محسوس کررہے ہیں ،اپنے بزرگوں کی کمی کو پورا کرسکتے ہیں۔
یہی وہ وقت ہےکہ یہاں کے نوجوانوں کے راستے کا صحیح تعین بھٹکنےسےپہلےکردیاجائے۔ اور یہی قومی سلامتی اورامن کابہترین راستہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں