آج سے بیس برس قبل جب مقبوضہ کشمیر سے جذبہ آزادی سے سرشار نوجوانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہوا تو شیخ عبدالعزیز بھی بیس کیمپ پہنچے۔ شیخ عبدالعزیز کا نام سن تو رکھا تھا کہ ان کا شمار بھارتی استبداد کو للکارنے والوں میں ہوتا تھا۔ سقوط مشرقی پاکستان کی وجہ سے جب سے کشمیرمیں مایوسی کے سائے گہرے ہوگئے اور شیخ عبداللہ جیسے بڑے لیڈر بھی اپنی جدوجہد سے مایوس ہوکر چند ذاتی مراعات کے بدلے اندراگاندھی کے آستانہ پر سجدہ ریز ہو گئے اس وقت جن لوگوں نے شمع آزادی کو روشن رکھا شیخ عبدالعزیز اسی قافلہ عزیمت کے ایک راہرو تھے۔ وہ سیاسی لحاظ سے فاروق رحمانی کی پیپلزلیگ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے دست راست کی حیثیت سے بیس کیمپ میں وارد ہوئے۔ باہم تعارف اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک عظیم مدبراور منصوبہ ساز کی حیثیت سے ان کی شخصیت کا نقش اجاگر ہوتا گیا۔ پیپلز لیگ سے تعلق ہونے کے باوجود برملا تحریک اسلامی کو اپنا فکری مربی قرار دیتے تھے اور سید علی گیلانی کے بے حد معتقد تھے۔ آہستہ آہستہ ہمارا یہ تعلق دوستانہ سے بڑھ کر برادرانہ شکل اختیار کرتا چلا گیا دو سال تک شب و روز ایک ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ جہاد کے ان اولین حدی خواہوں میں ان کے علاوہ سید مظفر شاہ مقبول الٰہی شہید اشرف ڈار شہید اور شیخ غلام حسن شامل تھے۔ ہمیں ان اولین لوگوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ ہماری مرکزی ٹیم میں برادر صغیر قمر اور برادر راجہ صفور شہیدان کے گہرے دوستوں میں سے تھے۔ کشمیر کی صورت حال پر ان دنوں ہماری گھنٹوں نشستیں ہوتیں آزادی کی تدابیر پر بحث ہوتی مسائل و وسائل کا تجزیہ ہوتا اور ہر نشست شیخ عزیز کی اس دو ٹوک رولنگ پر ختم ہوتی کہ اللہ پاک کی تائید اور نصرت سے ہم ہرحال میں آزادی لے کر رہیں گے۔
یہ حضرات سیاسی پس منظر کے لحاظ سے اگرچہ مختلف الخیال تھے لیکن بھارت سے آزادی کے ایجنڈے پر سب متفق تھے۔ چنانچہ جب وہاں سے ستم رسیدہ نوجوانوں کے قافلوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تو ان کو سنبھالنے والا کوئی نہ تھا۔اس موقع پر آگے بڑھ کر میزبانی کا فرضہ ہمیں ادا کرناپڑا جس سے عہدہ برا ہونے کیلئے ہم نے متذکرہ بالا افراد کی ایک مشترکہ ٹیم شیخ صاحب شہید کی سربراہی میں تشکیل دی جس نے صورتحال کو سنبھالنے میں اہم کردارادا کیا۔ وہ کام جو کوئی اور نہ کرپاتا شیخ عزیز کے حصے میں آتا۔ ان کے اندر خدمت اور انکسار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور اپنے آپ کو کوئی بڑا لیڈر یا ذمہ دار سمجھنے کے بجائے اس تحریک کے ایک عام سپاہی کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ہمیشہ لطف لیتے تھے۔ اس عرصے میں انہوں نے کبھی اچھی پوشاک پہنی اور نہ ہی اچھے کھانے کی فکر کی بلکہ ہمیشہ اپنے جوتے کپڑے گھڑی وغیرہ مجاہدین میں تقسیم کردیتے۔ اس خدمت اور انکسار کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں بہت ہردلعزیز ہوتے چلے گئے اور تمام تنظیموں میں ان کا یکساں احترام پایا جانے لگا۔ یوں ابتدائی دو تین برس تک میزبانوں کی ٹیم کا حصہ ہونے کی حیثیت سے انہوں نے تحریک کو منظم کرنے میں نہایت ہی کلیدی کردارادا کیا۔ جب بیس کیمپ میں ان کے اطمینان کے مطابق نظام قائم ہو گیا تو وہ میدان کارزار میں اتر گئے۔ ہم نے بہت روکا کہ یہاں بیس کیمپ میں رہ کر آپ تحریک کے لئے زیادہ بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن ان کا اصرار ہمیشہ بڑھتا رہا کہ میدان میں عوام اور مجاہدین کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی زیادہ ضرورت ہے۔ چنانچہ وہاں بھی انہوں نے تحریک کو منظم کرنے اور مختلف تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد وہ گرفتار ہوگئے اور کئی برس تک انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس عرصے میں ان کی صحت بھی بہت بگڑ گئی لیکن اس کے باوجود اس کوہ گراں کے پایہ ثبات میں لغزش نہ آئی۔ جیل میں قید کے دوران میں وہ نوجوانوں کو حوصلہ دیتے رہے۔ طویل عرصے بعد رہا ہوئے تو انہوں نے ساتھیوں کے مشورے سے حریت کانفرنس کو فعال بنانے میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ یوں گزشتہ بیس برسوں سے ان کی گرفتاری اور رہائی کی آنکھ مچولی چلتی رہی۔ حالات اچھے بھی آئے اور برے بھی لیکن شیخ عزیز تاریخی استقامت کے ساتھ جہد مسلسل میں مصروف رہے چند سال پہلے اپنے بھائی شیخ یعقوب کی شادی میں شرکت کے لئے پاکستان تشریف لائے تو اس وقت وہ حریت کے ایک مرکزی رہنما کا مقام حاصل کر چکے تھے یہاں ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔ ان دنوں میں تہران میں ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے گیا ہوا تھا کہ میزبانوں نے ان کے باغ کے دورے کا پروگرام بنالیا جس پر وہ مصر ہوئے کہ راقم کے بغیر وہ باغ کا دورہ نہیں کریں گے۔ انکے اس اصرار کی مجھے اطلاع تہران میں ملی تو میں پروگرام قدرے مختصر کرکے واپس پہنچا اسلام آباد سے ہم باغ پہنچے تو ہیلی پیڈ پر اور پورے باغ شہر میں ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔
راقم نے چند دن پہلے حریت کے دودھڑوں کو راولپنڈی میں ایک مشترکہ ڈیکلریشن پر متفق کیا تو انہوں نے فون پر مبارکباد دی اور یہ بھی بتایا کہ پاردونوں دھڑوں کو قریب لانے میں انہوں نے کیا کیا کاوشیں کیں۔ چند ہفتے قبل شرائن بورڈ کے مسئلے پر جو عظیم الشان تحریک اٹھی اس کو منظم کرنے میں بھی دیگر مرکزی قائدین کے ہمراہ نہایت ہی اہم کردارادا کیا۔ ان اثیار پیشہ قائدین کی وجہ سے وادی میں ایک عظیم الشان انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ ہم کیا چاہتے ہیں آزادی کا نعرہ ایک مرتبہ پھر کشمیر کے بچے بچے کے دل کی آواز بن چکا ہے۔ اس لہر کے نتیجے میں قائدین حریت سید علی گیلانی میرواعظ عمر فاروق شبیر احمد شاہ یاسین ملک فاروق قریشی اور میاں قیوم ایڈووکیٹ متحد ہو کر میدان میں نکل آئے۔ اتحاد کے اس منظر نے لوگوں کو اور پرجوش اور پرعزم کر لیا جس کا نقطہ عروج گیارہ اگست کو اس وقت دیکھنے کو ملا جب پار سے لاکھوں لوگ کرفیو توڑ کر چکوٹھی کی طرف نکل کھڑے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ہم بھی ایک جلوس لے کر چکوٹھی پہنچے چند گھنٹے کے نوٹس پر یہ جلوس ایک عظیم الشان کارواں میں بدل چکا تھا۔ چکوٹھی میں نوجوانوں کے جذبات کو بڑی مشکل سے قابو کیا۔ وہ ہر صورت میں پار جانا چاہتے تھے بہرحال انہیں یہ تشفی دے کر مطمئن کیا کہ آئندہ بڑے اہتمام کے ساتھ سیز فائر کو روند نے کی کال دیں گے۔
کنٹرول لائن کے اس طرف سے تقریباً دو لاکھ سے زائد لوگ شبیر احمد شاہ اور شیخ عزیز کی قیادت میں بارہ مولا سے گزر کر جب سنگرامہ پہنچے تو بھارتی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کرکے شیخ عزیز سمیت درجنوں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ چکوٹھی کے پروگرام سے واپسی پر معلوم ہوا کہ بھارتی فوج نے ٹارگٹ کرکے شیخ عزیز کو شہید کیا۔ یہ بھارت کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے قبل ازیں بھی وہ صف اول کے قائدین کو نشانہ بناچکا ہے۔ شیخ عزیز کی شہادت کی وجہ سے ایک طرف تو تحریک کے لئے زبردست خلا پیدا ہو گیا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا کے سامنے بھارتی عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں کہ بھارت کس درجے کی ریاستی درندگی پر اتر آیا ہے شیخ عزیز جیسے صف اول کے قائدین محفوظ نہیں ہیں تو پھر اور کون محفوظ رہے گا، ان کے علاوہ سینکڑوں لوگ زخمی اورشہید ہوئے اور ستم بالائے ستم گزشتہ روز ان کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آنے والوں پر بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے درجنوں لوگوں کو شہید کر دیا۔ لیکن نہایت افسوس ہے کہ اس موقع پر نہ صرف عالمی برادری بلکہ حکومت پاکستان بھی خاموش ہے۔ شیخ عزیز اپنی منزل پا گیا وہ اس کا مستحق تھا لیکن بھارت کو یاد رکھنا چاہئے کہ شیخ عزیز کی شہادت اسے بہت مہنگی پڑے گی۔ اس کے نتیجے میں وہاں انقلاب کی ایک لہر اٹھے گی جو بھارت کے استعماری ہتھکنڈوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔شیخ عزیز کی قربانی اور دیگر شہداء کا مقدس لہو ہم پر قرض ہے اور اس لہو کی یہ پکار ہے کہ ہم ایک باغیرت قوم کی حیثیت سے اپنا کردارادا کریں۔ یہ پکار پاکستانی قوم اور اس کی قیادت کے لئے بھی ہے کہ بھارت کے عزائم کا ادراک کرتے ہوئے خودفریبی سے نکلو ہر سکوت توڑو نام نہاد جامع مذاکرات کے ڈھونگ کو خیرباد کہہ کر عالمی برادری کے سامنے بھارت کی درندگی کو بے نقاب کرو اس پکار کے مخاطب اہل کشمیر بھی ہیں کہ آپس میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرکے دشمن پر آخری ضرب کاری لگانے کی تیاری کرو مخمصوں سے نکلو اور ہدف پر یکسو ہو جاؤ جمع و تفریق و تقسیم ضرب کے فارمولوں کو مسترد کرو اور وادی کے کونے کونے میں گونجنے والے اس نعرے کی لے میں لے ملاؤکہ
”ہم کیا چاہتے ہیں۔ آزادی!!“
بیس کیمپ کے حکمران اور سیاستدان بھی اس پکار کو سنیں اور ڈولتی ہوئی بھارت نواز قیادت کو کندھا دینے کے بجائے تحریک حریت کے دست و بازو بنیں شعوری یا لاشعوری طور پر بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ بننے کے بجائے مجاہدین کشمیر کے ایجنڈے کو تکمیل کرنے کا ذریعہ بنیں۔ یہ پکار ان خوش فہم دوستوں کے لئے بھی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جموں کے ہندو اور مسلمان ایک قوم ہیں قومیت کی لکیریں جموں کے انتہا پسند ہندوؤں نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دی ہیں اور یہ ثابت کیا کہ جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا وہ صحیح تھا اور تحریک آزادی کشمیر کے خمیر میں بھی یہ نظریہ متحرک قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریک کی مضبوطی کے لئے اس نظریے کی آبیاری بھی ضروری ہے۔