” میرے لان سے پنیزی اور پیٹونیا ختم ہو جائیں گے تو آپ لوگ آئیں گے؟ “ اسلام آباد سے بیٹے کے خفگی آمیز بلاوے پر ہم نے رخت سفر باندھا۔ یہ مارچ 2008ء کی آخری تاریخیں تھیں۔ بہار اپنی آخری خوشبوئیں اور رنگ لٹا رہی تھی۔ گھومتے پھرتے حسب دستور ایک روز ہم اس ہوٹل بھی جانکلے۔ جہاں کی فضا کچھ کچھ لاہور کے پاک ٹی ہاؤس سے ملتی جلتی ہے۔ کم از کم بہت سے جاننے والے مل جاتے ہیں۔ ہمارے نصیب کہ اس روز جب ہم چائے پی کر اٹھ ہی رہے تھے کہ احمد فراز دور سے آتے نظر آئے۔ ہم پر نظر پڑتے ہی وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر ادھر آ گئے۔ خیر خیریت پوچھنے کے بعد بولے، بس جانا نہیں۔ میں دو منٹ میں ان لوگوں کو فارغ کر کے آتا ہوں۔ ہمارا خیال تھا کہ جو لوگ کافی دیر سے ان کے انتظار میں تھے، ان سے جان چھڑانا مشکل ہو گا لیکن حسب وعدہ وہ پندرہ منٹ بعد ہی واپس آ گئے۔ ” ارے بھائی ان لوگوں کا کیا ہے، پھر آ جائیں گے لیکن تم لوگ کون سا روز ملتے ہو۔ بس آج میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ ذرا گپ شپ رہے گی“۔ ہم نے ایک لمحے کو سوچا اور خاموشی سے ان کے ساتھ چل دیئے۔
میرے میاں سے تو احمد فراز کی بڑی پرانی یہی کوئی پچپن سالہ پرانی جان پہچان ہو گی لیکن ان سے ملتے، ان کو دیکھتے مجھے بھی تیس برس تو ہونے کو آئے تھے۔ زیادہ دوستی یا جان پہچان کا دعویٰ تو میں نہیں کرتی لیکن وہ ہمیشہ سے بس اپنے اپنے سے لگتے تھے، لیکن کراچی میں جب بھی ان سے ملاقات ہوتی، ایک آدھ ہستی ان کی جان کو ایسی چمٹی ہوتی تھی کہ جس کی خاطر انہیں بھی عزیز ہوتی تھی۔ یہ سلسلہ کچھ بد مزہ کر دیتا تھا لیکن اسلام آباد میں اور ان کے گھر جانے کی تجویز بڑی خوش آئند تھی کہ چلو اس بہانے خاتون خانہ سے بھی ملاقات ہو جائے گی، ورنہ تو مجھے وہ ہمیشہ ایک تنہا فرد ہی نظر آتے تھے۔
آج سے تقریباً چھبیس ستائیس سال پہلے میں نے یہی سوال ان سے کیا تھا کہ احمد فراز کا تصور میرے نزدیک ایک تنہا شخص کا تصور کیوں ہے؟ آس پاس کوئی دوسرا فرد نظر نہیں آتا؟ میں اپنے ادبی پرچے کے لئے ان سے انٹرویو کر رہی تھی۔ میرے خیال کو پہلے تو انہوں نے جھٹلایا کہ ” یہ میرے شعری مجموعے تنہا تنہا کا تاثر ہے“ لیکن پھر کچھ سوچ کر بولے کہ شاعری دوسرے رشتوں پر غالب آ گئی ہے مثلاً ان کے والد جو خود بھی ایک مشہور اور صاحب دیوان شاعر تھے، پشاور کی ایک محفل میں ان کی موجودگی کو یوں رپورٹ کیا گیا تھا کہ احمد فراز کے والد آغا برق بھی موجود تھے۔
تو خیر مارچ 2008ء کی اس شام فراز ہمیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے۔ اپنی بیگم اور بیٹے سے ملوایا۔ بہت دیر تک محفل جمی رہی لیکن باتوں کے وقفے میں دو تین بار وہ یہ پوچھنا نہیں بھولے ” وہ میرے انٹرویو کا کیا ہوا “۔ اس سے پہلے بھی کئی بار وہ مجھے اس انٹرویو کا طعنہ دے چکے تھے حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک شمارے کے بعد اس ادبی پرچے کا اگلا کوئی شمارہ شائع ہی نہیں ہوا تھا، خود مجھے بھی دکھ تھا۔ میں نے بڑی محبت سے موسیٰ رضا کے ساتھ جا کر تصویریں بنوائی تھیں اور کوئی دو گھنٹہ بک بک کر کے فراز کا دماغ چاٹا تھا۔ اسلام آباد میں فراز کے گھر کی یہ ملاقات اب شاید کبھی نہ بھول سکوں۔ رات گئے گھر واپس آتے ہوئے نہ جانے کیوں مجھے عجیب سا احساس ہو رہا تھا کہ فراز سے شاید یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ اپنی یا کسی کی بھی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا لیکن جس طرح اچانک فراز ہمیں تقریباً زبردستی کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے، اس میں قدرت کا ضرورکوئی ہاتھ تھا۔فراز کی اچانک بیماری اور پھر موت کی خبر نے میرے خدشوں کی تصدیق کر دی لیکن جانے والی کی ابدی جدائی سے زیادہ ایک اور افسوس نے مجھے گھیر لیا کہ کاش میں وہ انٹرویو لکھ کر ہی انہیں دے دیتی۔ انہوں نے کیا کہا اور میں نے اسے کس انداز میں لیا۔ یہ سب تو اس فرد کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد بھلا اب وہ باتیں لکھنے کا کیا فائدہ، جنہیں پڑھ کر فراز مجھے ڈانٹنے یا تعریف کرنے کیلئے اس دنیا میں موجود نہیں۔یہ انٹرویو 1981ء میں لیا گیا تھا۔ اس میں ان کے خاندانی پس منظر، پہلی شادی ( جس میں پانچ سال بعد ہی علیحدگی ہو گئی تھی ) دو بیٹوں شبلی اور سعدی کا ذکر تھا۔ اب ان کا ایک تیسرا بیٹا بھی ہے۔ سرور جو اب خیر سے جوان ہے۔ ان کی موجودہ بیگم ایک نہایت ذہین، اسمارٹ اور ملازمت پیشہ خاتون ہیں ( اب ریٹائر ہو چکی ہیں ) فراز کے خاندانی پس منظر، ان کی زندگی کے نشیب و فراز اور ادبی حوالوں سے ان کے ان گنت انٹرویو ہو چکے ہیں اور اب تو اخباروں کے پورے ایڈیشن چھپ رہے ہیں۔ اس لئے اس تمہید میں جانا غیر ضروری ہے۔ البتہ جو باتیں ذرا ہٹ کے تھیں، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ اپنی ادبی وصیت نامہ اگر آپ کو چند لفظوں میں لکھنا ہو تو کیا ہو گا؟
فراز کا جواب تھا کہ ” میں نہ INHERITANCE (وراثت ) کا قائل ہوں نہ وصیت نامے کا۔ وصیت نامہ وہ لوگ لکھتے ہیں جو CONVINCE ( پُر یقین ) ہو جائیں کہ جلد جانے والے ہیں یا ان کے بعد جھگڑے اٹھیں گے۔ میرے خیال میں جو کچھ چھوڑے جا رہا ہوں، لوگ اس کو سنبھال کے رکھیں یا فٹ پاتھ پر ڈال دیں، انہیں پورا حق ہے، نہ توقع کروں گا، نہ کوئی خواہش INFLICT کروں گا لیکن کاش ہمارے ملک کے پبلشر لکھنے والوں سے دیانت داری برتیں یا کوئی ایسا قانون آ جائے“۔
اس زمانے میں کچھ ہم عصروں نے یہ تنقید کی تھی کہ احمد فراز کی شاعری کا گراف نیچے کی طرف جا رہا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ کچھ عرصے بعد فراز کو کون پوچھے گا۔ اس پر فراز نے صرف اتنا کہا ” اچھا ادب وہی ہوتا ہے جو وقت کی آزمائش پر پورا اترے۔ کچھ عرصے بعد دیکھیں گے“۔ پھر بولے ” جو میرا عہد گزر رہا ہے، اس عہد کی سچائیاں اور حوالے اگر بیان کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہوں، تو میرے لئے یہی کافی ہے۔ مجھے کبھی خواہشیں نہیں رہی کہ بعد کی تنقید کی کتابوں میں میرا نام آتا ہے کہ نہیں۔ کچھ اپنے لئے، کچھ اپنے لوگوں کے لئے، نقادوں کے لئے میں نے کبھی نہیں لکھا۔ خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ لوگوں نے میری تحریروں کو قبول کیا۔ محبت اور جتنی قدر مجھے دی وہ میرے لئے کافی ہے۔ مرنے کے بعد تاج محل میں دفن کر دیا جائے گا یا گمنام سپاہی کے طور پر، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا “۔
محبت کے بارے میں انہوں نے بڑی تفصیل سے گفتگو کی تھی۔” محبت میرا خیال ہے میری طاقت ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں TO FALL IN LOVE میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ انسان محبت میں RISE کرتا ہے، گرتا نہیں۔ گرچہ محبت محبت میں بھی فرق ہوتا ہے، بعض محبتیں نیچے لے جاتی ہیں اور بعض مضبوط اور توانا بناتی ہیں۔ میری زندگی میں بھی بعض ایسے ٹکڑے آئے کہ محبت نے مایوس کیا، لیکن وہ میری کمزوری تھی محبت کی کمزوری نہیں تھی“۔
کیا بار بار محبت ہو سکتی ہے؟
فراز کا جواب تھا ” میں نے جس کو بھی چاہا پورے خلوص سے چاہا“ سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا “۔ محبت بار بار ممکن ہے۔ ایک شخص کو دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کر لیتے۔ اس کی خوبیاں لے کر آگے چلتے ہیں۔ کچھ قدریں مشترک ہوتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی چیز HAUNT کرتی ہے مثلاً آنکھیں، قامت، کئی محرومیاں TRAVEL کرتی ہیں۔ کبھی پہلی نظر کی محبت والا معاملہ بھی ہوتا ہے۔ نہ بات ہوئی، نہ گفتگو ہوئی لیکن سالوں تک ایک تصور پیچھا کرتا رہا “۔ فراز کا کہنا تھا کہ انہیں زندگی میں کبھی کوئی مکمل عورت نہیں ملی۔ COMPONENTS میں ملی۔ انہیں عورت کی طرف سے بھی اظہار اور RECONFIRMATION چاہئے ہوتا ہے یعنی یکطرفہ محبت پر ان کا یقین نہیں لیکن عورت کی طرف سے اظہار میں پہل ان کے نزدیک اسے بڑا ٹارچر TORTURE نہیں“۔
کوئی ایسی کمی جو زندگی میں محسوس ہوتی ہو؟ میرے اس سوال کا جواب بڑا سیدھا تھا ” مجھے بعض اوقات بہت محسوس ہوتا ہے کہ جتنا پڑھنا چاہئے تھا اتنا پڑھا نہیں۔ دنیاوی اعتبار سے زندگی بہت اچھی ہے، لیکن کچھ REGRETS (پچھتاوے ) ہیں۔ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ کوئی یاد رکھ سکے۔ نہ تو میں نے کسی کو ٹوٹ کے چاہا اور نہ مجھے کسی نے۔ ہر شخص کی اپنی محرومی ہوتی ہے“۔
یہ جواب اس شخص کی طرف سے آیا تھا جس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ جتنی محبتیں اس نے سمیٹی ہیں شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہوں۔ بقول شخصے وہ تو سراپا عشق تھا لیکن محبت محبت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ALL CONSUMING ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینے والی محبت ہوتی ہے۔ یہ سود و زیاں سے پاک ہوتی ہے، جو اپنے وجود سے دل کے ہر کونے کو بھر دیتی ہے، لیکن یہ محبت بہت کم خوش نصیبوں کے حصے میں آتی ہے۔ باقی لوگ تو اس تجربے کے انتظار اور حسرت میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔زندگی تو بہرحال گزر ہی جاتی ہے اور بقول فراز کوئی ہمیں کس انداز میں یاد رکھتا ہے، اس سے جانے والے پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کچھ فرق پڑتا ہے تو پیچھے رہ جانے والوں پر۔ فراز سے محبت کرنے والے، اس کی ذات سے وابستہ لوگ، مدتوں اس خلا کو پُر نہیں کر پائیں گے۔ وہ ہنستا مسکراتا چہرہ، وہ شعر پڑھنے کا مخصوص انداز، انہیں لمحہ لمحہ یاد آئے گا اور میرا خیال ہے اسلام آباد جا کر اب میں بھی شاید ہوٹل جا کر چائے نہ پی سکوں۔ وہ آخری ملاقات میرے دل پر کنڈلی مار کر بیٹھ گئی ہے۔ خدا اس کی مغفرت کرے۔ وہ آخر اس دن ہمیں کھینچ کر گھر کیوں لے گیا تھا؟ کیا اسے اپنے آنے والے وقت کی خبر ہو گئی تھی؟