آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیا یہ کیس چوری کا ہے یا سینہ زوری کا؟

کیا وہ قصور وار ہیں یا پروپیگنڈہ کا شکار؟ کیا شریف فیملی کے پاکستان سے کچھ چرانے یا قانون شکنی کا ارتکاب کرنے کا ثبوت موجود ہے؟ کیا لندن فلیٹس کی ملکیت پر شریف فیملی کے پیش کردہ ثبوت قابل ِا عتماد ہیں یا نہیں؟ ان سوالوں کے جواب کا دارومدار اس بات پر کہ آپ کس بات پر پہلے ہی یقین کرچکے ہیں۔ مبہم ماحول میں معروضی حقائق تلاش کرنے کی خواہش خال خال ، اورجب داخلی التباسات اٹل فیصلہ سنا چکے ہوں تو پھر ’’کلام ِ نرم ونازک‘‘ کے اثر کی گنجائش کم ہی نکلتی ہے۔ ارل وارن نے کہا تھا۔۔۔’’یہ قانون کی شکل نہیں، اس کی روح ہے جو انصاف کو زندہ رکھتی ہے ۔‘‘ گویا قانون اور انصاف کے درمیان ایک خلیج موجودہے ۔ قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور جسٹس سسٹم تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ انصاف کیا جاسکے ۔ تاہم الیور ونڈل ہومز جونیئر نظام ِ انصاف کی عملیت اور مثالیت کے درمیان فرق کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’نوجوان، یہ قانون کی عدالت ہے ، انصاف کی عدالت نہیں۔‘‘اس وقت عدالت میںپاناما کیس زیر ِ سماعت ، تو اس کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی، لیکن ہم دئیے گئے دلائل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ نواز شریف صاحب کے خلاف الزام کے تین پہلو ہیں1۔ الیکشن کمیشن کے سامنے فلیٹس کی ملکیت ظاہر نہ کرنا۔ اس کی پاداش میں ایم این اے اور وزارت ِ اعظمیٰ کے عہدے سے نااہلی

کی سزا ہوسکتی ہے ۔ 2۔ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کا ارتکاب3۔ فلیٹس خریدنے کے لئے غیر قانونی طریقے سے رقم ملک سے باہر بھجوانا۔ شریف فیملی اور پی ایم ایل (ن) کا موقف یہ ہے کہ لندن فلیٹس نواز شریف کی نہیں، اُن کے بچوںکی ملکیت ہیں۔ اُن کا بیانیہ یہ ہے کہ موجودہ وزیر ِاعظم کا نام پاناما لیکس میں موجود نہیں، اُنہیں سمندر پار کمپنیوں کے ایک مالک کا والد ہونے کے ناتے اس کیس میں گھسیٹا جارہا ہے ، نیز وہ سمندر پارکمپنیاں، جیسا کہ الزام ہے،1993 ء یا 1995-96 میں نہیں بلکہ 2006 ء میں خریدی گئیںاور رقم پاکستان سے باہر نہیں بھجوائی گئی ۔ وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی کیونکہ اُن کمپنیوں مالک ایک برطانوی شہری تھا۔ تاہم پی ٹی آئی اور دیگر ناقدین بہت چبھتے ہوئے سوالات پوچھ رہے کہ اگر وہ پراپرٹی 2006 ء میں خریدی اور پھر وہ 1993 ء سے وہاں کس حیثیت سے رہ رہے تھے ؟ یہ جائیداد اُنھوں نے کس سے خریدی ؟نیز خریدنے سے پہلے رہائش کی صورت کرایہ کس کو ادا کرتے رہے ، اور اس کے لئے رقم کہاں سے بھجوائی گئی۔ نیز کیا ان کے ٹیکس گوشواروں میں اس جائیداد کا ذکر موجود ہے؟اگر رقم پاکستان سے بھجوائی گئی تو کیا اس کے لئے قانونی ذرائع استعمال کیے گئے ؟ چوہدری نثار نے یہ کیوں کہا کہ یہ فلیٹس گزشتہ 18-20 سال سے اُن کے پاس ہیں۔ چنانچہ اہم سوالات ان فلیٹس کی ملکیت، فنڈز کے ذرائع اور بھجوائے جانے کے طریق ِ کار کے گرد گھومتے ہیں۔ اب شریف فیملی کے نوجوان افراد نے سپریم کورٹ میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے دادا، میاں محمد شریف مرحوم نے 70 کی دہائی میں متحدہ عرب امارات میں قرض لے کر ’’گلف اسٹیل مل‘‘ لگائی تھی کیونکہ اُ ن کا پاکستان میں کاروبار قومی ملکیت میں لے لیا گیا تھا۔ پھر اُنھوںنے اسٹیل فروخت کرکے قرض ادا کیا اور بار ہ ملین درہم قطرکے التھانی خاندان کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں انوسٹ کردئیے ۔جب 2000 ء میں نواز شریف جلاوطن ہوگئے تو میاں شریف نے التھانی سرمایہ کاری اور منافع کا وارث اپنے پوتے (نواز شریف کے بیٹے) حسین نواز کو بنانے کا فیصلہ کیا ۔ لندن فلیٹس التھانی خاندان کی ملکیت تھے ، اور اُنھوں نے شریف فیملی کو کرائے اور سروس چارجز کے عوض ان فلیٹس کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی ۔ 2006ء میں التھانی فیملی اور حسین نواز نے اپنا حساب کتاب نمٹا دیا، اور ایک سمندر پار کمپنی کے ذریعے وہ فلیٹس حسین نواز کومل گئے ۔ اس بیان کی تصدیق قطر کے شہزادے حماد بن جاسم التھانی نے کی ہے ۔تو کہانی اس طرح بنتی ہے کہ التھانی فیملی ، نہ کہ شریف فیملی ان فلیٹس کی 2006 ء تک مالک تھی۔ اس کے بعد میاں محمد شریف کے نامزدکردہ حسین نواز اُن کی قطر میں کی گئی سرمایہ کاری کے وارث بن گئے ، اور حسین نواز نے التھانی فیملی سے لند ن فلیٹس ایک سمندر پار کمپنی کے ذریعے خرید لئے ۔پاناما لیکس کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی حسین نواز نے یہی بات کی تھی کہ فلیٹس کرائے پر تھے ۔
شریف فیملی کے بیان کے مطابق میاں شریف پاکستان سے کوئی رقم لے کر نہیں گئے تھے، وہ رقم یواے آئی میں قرض لی تھی۔ حسین نواز 2006 ء سے پہلے ان فلیٹس کے مالک نہ تھے ، اور چونکہ وہ 2006 ء کے بعد پاکستان کی شہریت نہیں رکھتے ، اس لئے اُنہیں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ ا س کے بعد اہم ایشو وزیر ِاعظم کی صاحبزادی، مریم نواز کا ہے، جن کا نام سمندر پار کمپنیوں سے استفادہ کرنے والوں میں شامل ہے ۔ وہ ایک پاکستانی شہری ہیں اوردنیا میں جہاں بھی اُ ن کے اثاثے ہوں، وہ اپنے ٹیکس گوشواروں میں انہیں ظاہر کرنے کی پابند ہیں۔ اور پھر 2011 ء میں نواز شریف اُنہیں اپنی زیر ِکفالت اولاد کے طور پر ظاہر کرچکے ہیں۔ توپھر والد کے لئے بھی ضروری تھا کہ وہ اپنی زیر ِ کفالت اولاد کے اثاثے اپنے گوشواروں میں ظاہر کرتے ورنہ وہ غلط بیانی کا ارتکاب کرنے کی پاداش میں نااہل ہوسکتے ہیں ۔ مریم نواز کا موقف ہے کہ وہ سمندر پارکمپنیوں کی مالک نہیں ، نگران تھیں۔ تاہم اُن کے خلاف الزام کا سبب وہ خطوط ہیں جن کے مطابق سمندر پارکمپنیوں کی نگرانی کرنے والی ایک قانونی فرم مریم کو ان اثاثو ں کی beneficial owner تسلیم کرتی ہے ۔ ان الزامات کے جواب میں شریف فیملی نے سپریم کورٹ کے سامنے مریم اور حسین کے درمیان ہونے والا ایک معاہدہ پیش کیا ہے جس میں مریم نواز Coomber Group Inc کے اننچاس شیئر حسین نواز کے لئے اپنے پاس رکھنے پر راضی ہیں۔
شریف فیملی کی کہانی کے تمام پہلوئوں کا انفرادی جائزہ ظاہرکرتا ہے کہ ان میں جان ہے ۔ کیا میاں شریف التھانی خاندان کے پراپرٹی بزنس میں بارہ ملین درہم انوسٹ کرسکتے تھے ؟ ا س کاجواب ہاں میں ہوگا کیونکہ کاروباری لوگ تحریری معاہدوں کے بغیر بھی سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاروباری خاندان سرمایہ کاری اور ادائیگی کے معاملات کو منافع اور افہام وتفہیم کی بنیاد پر طے کرتے ہیں۔ یقینا ایسا ہی ہے ۔ کیا داد اپنے پوتوں اور پوتیوں میں سے کسی ایک کو ذاتی وجوہ کی بنیاد پر کسی اثاثے کا وارث بنانے کا مجاز ہوتا ہے ؟ اس کا جواب بھی ہاں میں ہے ۔ کیا ایسے لین دین، جسے تحریری شکل میں نہ لایا جائے ، کو غیر قانونی سمجھا جائے گا؟ہر گز نہیں۔ کیا یہ کہانی ٹھوس ہے ؟ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کا دل پہلے ہی کس نتیجے پر پہنچ چکا ہے ۔ آئیے ایک لمحے کے لئے فرض کرلیں کہ شریف فیملی جھوٹ بول رہی ہے ۔ توکیا وہ پاناما انکشافات کے بعد یہ ثبوت ’’تخلیق ‘‘ کرسکتے تھے جو وہ اب سپریم کورٹ میں پیش کررہے ہیں؟کیا میاں شریف کے التھانی فیملی کے ساتھ کاروبار اور حسین نواز کو وارث بنانے کے خلاف کسی کے پاس ثبوت موجود ہے ؟ایک اور بات، سمندر پار کمپنیاں راز داری سے کام کرتی ہیں، اور وہ اپنے تمام معاملات فائل نہیں کرتیں۔اس کیس میں فلیٹس فروخت کرنے والا اور خریدنے والا ایک ہی کہانی کی تصدیق کررہے ہیں۔ چنانچہ شریف فیملی کو عدالت سے سزا دلانے کے لئے اخلاقی جواز کے علاوہ بھی کچھ درکار ہوگا۔ یاد رہے، سپریم کورٹ قانون کی عدالت ہے اور قانون اخلاقی جواز نہیں، ثبوت مانگ رہا ہے ۔


.