آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تعلیم کی افادیت سے آج کسی کو انکار نہیں تعلیم صرف ایک اچھا مہذّب انسان بننے کیلئے ہی ضروری نہیں بلکہ آج کی دنیا میں کاروبار اور ملازمت میں کامیابی اور قومی ترقی کیلئے بھی تعلیم ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہمیشہ ایک طبقے نے مذہب اور اخلاقیات کا سہارا لیکر تعلیم کے فروغ کے راستے میں مشکلات کھڑی کی ہیں۔ پہلے تو صدیوں تک اس طبقے نے اپنی گروہی اور فرقہ وارانہ مذہبی تعلیم کے علاوہ کسی بھی قسم کی تعلیم کو مسلمان مردوں پر بھی حرام کئے رکھّا خصوصاََ انگریزی اور سائنس کو تو انہوں نے کفر کا درجہ دے دیا تھا۔ اسی وجہ سے وہ مسلمان قوم دنیا کی پسماندہ ترین قوموں میں شمار ہونے لگی جن کے نبی اکرم ﷺ نے علم کو مومن کی کھوئی ہوئی میراث قرا ر دیا تھااور مسلمان مردوں اور عورتوں کیلئے تعلیم کے حصول کو ایک فریضے کا درجہ دیکر چین تک کے دور دراز ملک میں جانے کی تلقین کی تھی۔ لیکن مذہب اور اخلاقیات کی خود ساختہ تشریح کرنے والے اس طبقے نے علم کو اپنی قدامت پرستی کے دائرے میں محدود کردیا تھا۔ چنانچہ برّ صغیر میں جب سر سیّد احمد خان نے علیگڑھ تحریک کے ذریعے مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کی ٹھانی تو اُن کے خلاف وہ طوفان برپا کئے گئے کہ خداکی پناہ اُن پر کفر تک کے فتوے لگائے گئے۔ بعد میں وقت نے

ثابت کردیا کہ یہ طبقہ اپنی قدامت پسند سوچ کیوجہ سے کبھی بھی بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ نہ تو خود چلنے پر تیا ر ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو اسکی اجازت دیتا ہے۔ تحریک ِ پاکستان کے متعلق جو کہا جاتا ہے وہ یقیناً سچ کہا جاتا ہے کہ تحریک ِ پاکستان کی ابتداء علی گڑھ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور طالب علموں سے ہوئی ۔ جنہوں نے اپنے علم کی روشنی میں یہ باور کرلیا تھا کہ مسلمانانِ ہند کو انگریزوں کے چلے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہندو اکثریت اورانکی انتہا پسندی سے اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ جس کا واحد حل قیامِ پاکستان ہے لیکن اس وقت بھی یہ طبقہ اپنی کم علمی اور محدود سوچ کے پیشِ نظر مطالبہ پاکستان کا مخالف تھا اور اس کا جواز یہ دیتا تھا کہ مسلمانوں کو دوبارہ ہندو اکثریت پر بزورِ قوت غلبہ حاصل کرنا چاہئے ۔ جوکہ بذاتِ خود ایک نا ممکن خیال تھا۔ وقت آہستہ آہستہ ان کے نظریات کو شکست دیتا رہا لیکن انہوں نے حقائق کو تسلیم کرنے میں کبھی عقلمندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ مردوں کو جدید تعلیم سے محروم رکھنے میں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے عورتوں کو سائنسی یا بقول ان کے دنیاوی تعلیم سے باز رکھنے کو اپنا مشن بنا لیا۔ اور’’ ہماری بیٹیوں کو کون سی نوکری کرنی ہے‘‘جیسے محاورے گھڑ کر انہیں ایک عرصے تک ا سکول جانے سے روکے رکھّا ۔ حالانکہ تعلیم صرف نوکری کیلئے ہی نہیں ۔ انسانوں کو تہذیب و تمدّن سکھانے کیلئے بھی ضروری ہے۔ بچّے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتا ہے۔ اور پڑھی لکھی ماں جس طرح بچّے کی بہتر پرورش کر سکتی ہے ۔ اس کا تصّور ایک ان پڑھ یا نا خواندہ ماں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں ہمارے صوفیوں کا رویہّ بہت انقلابی رہا ہے انہوں نے ہمیشہ علم کے حصول پر زور دیا۔ بلکہ ان کا تو یہ کہنا تھا کہ فقیری بھی علم کے بغیر نہیں ہوسکتی ۔ بقول سلطان باہو علموں باہجھ کرے فقیری، کافر مرے دیوانہ ہو۔ لیکن ہمارے رجعت پسند طبقوں نے جب ایک محاذ پر پسپائی اختیار کرلی اور بدلتے ہوئے حالات کے دبائو کے تحت عورتوں نے بھی اسکولوں اور کالجوں میں جانا شروع کردیا۔ تو اس شکست خوردہ طبقے نے ایک مرتبہ پھر اپنے مذہبی عقائد اور اخلاقیات کو بنیاد بنا کر خواتین کو مردوں کے ساتھ مخلوط تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کیلئے طرح طرح کی تحریکیں شروع کر دیں۔ اس ضمن میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مخلوط نظامِ تعلیم بے حیائی اور اخلاقی اقدار کی پامالی کو فروغ دیتا ہے۔ دراصل یہ وہی سوچ ہے جس کے تحت زمانہء جاہلیت میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جاتا تھا۔ کیونکہ جسمانی طور پر ایک کمزور مخلوق ہونے کی وجہ سے مرد کے برابر مقام دینے کی بجائے اسے شرمندگی کی علامت قرار دیکر اپنی انا اور نام نہاد غیرت پر قربان کردیا جاتا تھا۔ حالانکہ اسلام میں عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق عطا کئے گئے ہیں۔ اور ہمارے نبی اکرمﷺ کی زندہ اولاد میں صرف بیٹیاں ہی تھیں۔ جو انہیں بے حد پیاری تھیں۔ مردانہ شاونزم یا مردانہ غلبے کی اس سوچ نے جہاں عورت اور مرد کے درمیان صنفی امتیاز کو ہوا دی وہیں ملکی ترقی کو بھی نا قابل ِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ قدم قدم پر وقت کے ہاتھوں پسپائی اختیار کرنے والا یہ طبقہ اب اس بات پر بھی آمادہ ہو چکا ہے کہ موجودہ زمانے کی ہوشربامہنگائی کا مقابلہ کرنے کیلئے عورتوں کا ملازمت کرنا بھی گوارا ہے۔ ویسے بھی اگر ملک کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل سے نکال دیا جائے تو وہ ملک اپنے ہی بوجھ سے گر جاتا ہے۔ اگر عورت کی عملی زندگی میں مردوں کے ساتھ ملازمت یا کاروبار میں شراکت ایک ضرورت اور مجبوری ہے تو پھر مخلوط تعلیم کی مخالفت کیا معنی رکھتی ہے؟ یا تو پورے ملک کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ایک حصّہ مردانہ ہو جس میں گلیوں ، بازاروں اور ہر جگہ صرف مرد پائے جاتے ہوں اور عورتوں کا داخلہ ممنوع ہو۔ اور دوسرا حصّہ زنانہ جہاں مردوں کیلئے نو انٹری ہو۔ کیا ایسا عملی طور پر ممکن ہے؟ یقیناََ نہیں تو پھر کیا یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ لڑکے لڑکیوں کو ابتداء ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طور طریقے ، رکھ رکھائو اور تہذیب و تمدّن کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالنے کیلئے مخلوط طریقہ تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ ان کے درمیان مختلف جواز کے تحت دوریاں پیدا کرنے کی بجائے ، ایک ایسی مثبت قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ نہ صرف ایک دوسرے کو عزت اور احترام دے سکیں بلکہ ان کے اشتراک سے معاشرے میں ترقی کا عمل بھی جاری رہ سکے۔ اس کیلئے مخلوط تعلیمی نظام کی مخالفت کرنے کے بجائے اسے ہر سطح پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے کچھ عرصے کیلئے تو موخر کیا جا سکتا ہے ۔ ہمیشہ کیلئے نہیں ۔ کیونکہ وقت اور حالات کا تقاضا یہی ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام کو ہر سطح پر رائج کیا جائے اور ایک بہتر ، پر اعتماد اور صنفی برابری اور عزت و احترام رکھنے والی نسل کو پروان چڑھایا جائےتاکہ معاشرہ ٹوٹ پھوٹ یا انتشار کا شکار نہ ہونے پائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں