قدیم یونانی مفکر ارسطو کا کہنا ہے کہ آبادی میں غیر معمولی اضافہ انقلابات اورجرائم کا پیش خیمہ ہوتا ہے کیونکہ ریاست ایک ایسا بحری جہاز ہے کہ اگر اس میں مسافروں کی تعداد بڑھ جائے تو یہ ڈوب جاتا ہے۔اگر ہم ارسطو کی اس بات کا جائزہ لیں تو پاکستان کے حوالے سے یہ بڑی حد تک مبنی برصداقت دکھائی دیتی ہے کہ یہاں 49 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اوردنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 65واں ہے۔ جبکہ ساڑھے چار کروڑ افراد کی روزانہ آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔
اگلے روز میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی کے سیمینار میں ماہرین نے یہ کہا کہ ”پاکستان میں ایک منٹ میں آٹھ بچے پیدا ہو رہے ہیں اور دنیا بھر میں ایک منٹ میں 160بچے پیدا ہو رہے ہیں“۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی سائنسی اور سماجی ادارے یونیسکو UNECOکے مطابق 113ملین بچے کبھی سکول ہی نہیں گئے اور 150ملین بچے بنیادی تعلیم میں مہارت حاصل کرنے سے قبل سکول کو چھوڑ دیتے ہیں۔ایک امریکی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں زندہ لوگوں کی تعداد ساڑھے چھ ارب ہو چکی ہے جو 2010ء میں سات ارب کے قریب اور 2050ء میں دس ارب کے قریب ہو جائے گی اور خیر سے اپنے پاکستان کی آبادی 2020ء میں دوگنی ہو جائے گی۔ یعنی یہ ملک 32کروڑ افراد کا ہو جائے گا۔ ابھی سولہ کروڑ عوام کو آٹا اورپینے کے لئے صاف پانی نہیں مل رہا۔ تو ذرا سوچیں 2020ء میں یعنی اب سے صرف بارہ برس بعد ہماری آبادی 32کروڑ افراد پر مشتمل ہوگی۔ جبکہ ہمارے وسائل میں آج کے مقابلے میں کئی گنا کمی آچکی ہوگی۔ بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہوگا۔ بقول ایک روحانی شخصیت سید سرفراز شاہ کے آنے والے حالات اس ملک میں کافی مشکل ہیں۔
1971ء تک اور اس کے کچھ عرصہ بعد تک پاکستان میں اوسطاً پانچ افراد ایک گھر میں رہائش پذیر تھے۔ جن کی اب تعداد سات ہو چکی ہے اور 50فیصد سے زائد آبادی صرف ایک کمرے کے مکان میں رہتی ہے۔چین نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ سخت ترین قوانین کے باعث ہم گزشتہ تیس برسوں میں 40کروڑ بچوں کی ولادت کو روک سکیں۔ ہم اگر ایک بچے کی ولادت کم کر دیں تو بارہ سو امریکی ڈالر سالانہ بچاسکتے ہیں۔ہم اپنی آبادی کو روکنے کے لئے اس قسم کے قوانین تونہیں بناسکتے البتہ حکومت یہ تو کرسکتی ہے کہ جن خاندانوں کے ایک یا دو بچے ہیں ان کے تعلیمی اخراجات کے علاوہ ان خاندانوں کو ٹیکس، بجلی ، فون اورگیس کے بلوں میں چھوٹ دے۔ تاکہ دوسرے لوگ بھی خاندان کے افراد کم رکھنے کی طرف مائل ہوں۔ ہمارے وسائل میں بڑی تیزی کے ساتھ کمی آرہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ 2050ء میں بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا نمبر ون ملک ہوگا۔ کتنی دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف چین، بھارت، پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں آبادی میں اضافے پر سخت پریشان ہیں۔ تو دوسری طرف روس، اٹلی، ناروے، فرانس اورکئی دیگر یورپی ممالک میں آبادی میں کمی آچکی ہے۔ مثلاً روس میں ہر سال سات لاکھ افراد کی کمی ہو رہی ہے۔ حال ہی میں روس کی حکومت نے پانچ لڑکوں اور تین لڑکیوں کو بیک وقت جنم دینے والی خاتون کو اعلیٰ سول ایوارڈ اورنقد انعام دیا ہے اورحکومت روس نے کہا کہ زیادہ بچے پیدا کرنے والے جوڑے کو حکومت کی جانب سے مالیاتی تعاون ملے گا۔ آج روس اور اٹلی آبادی بڑھانے کے لئے اپنے لوگوں کو سہولیات اور نقد انعام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف کینیڈا بھی اپنی بے آباد زمینوں کے لئے دنیا بھرسے لوگوں کو بلا رہا ہے۔ہماری حکومت لوگوں کی غربت کو ویسے تو دور نہیں کرسکتی اور یہاں پر آنے والے وقت میں عوام کے لئے بے شمار وسائل بڑھ جائیں گے۔ جس میں روزگار ، بجلی، گیس کا بحران، بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح، علاج کی سہولیات کا فقدان، تحفظ ، دہشت گردی، پولیس گردی جرائم اورانصاف کے حصول میں تاخیر ۔ چنانچہ ہمارا حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ پاکستانی خاندانوں کو ان ممالک میں بھیج دیں۔ جہاں پر آبادی کی کمی کا مسئلہ ہے۔ ان ممالک کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اورہمارے عوام کا معیار زندگی بھی بہتر ہو جائے گا۔ پاکستان میں لوگ اس وقت غربت کے ہاتھوں خودکشیاں کر رہے ہیں۔ جسمانی اعضاء کو فروخت کرنے کا کاروبار ایک مدت سے جاری ہے۔ والدین اپنی اولاد کو بیچ رہے ہیں۔ بنت حوا کوچہ بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ اچھے اچھے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات رات کوٹھوں میں گانا گا کر اور ناچ کر اپنے اخراجات پورے کر رہی ہیں۔
اگر آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو آئندہ تین سو برسوں کے بعد انسان کرہ ارض پر صرف کھڑا رہ سکے گا۔یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ یعنی یو این ایف پی اے کے اگرچہ ساری دنیا میں دفاتر موجود ہیں اوریہ بڑا مثبت کام بھی کر رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک میں ان کی کوششوں سے آبادی کی شرح میں کچھ کمی آئی ہے لیکن آبادی کے سیلاب کو روکنے کے لئے جہاد کی ضرورت ہے۔ علماء کرام سے مدد لی جائے۔ جیسے آج سے چند برس قبل اسلام آباد میں بین الاقوامی علماء کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ جس میں 24ممالک کے علماء نے شرکت کی تھی۔ اس میں بنگلہ دیش، ایران، مصر، لبنان، تیونس اور شام کے علماء قابل ذکر تھے۔ اس کانفرنس میں مذہبی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے آبادی کے مسئلے پر اسلام آباد ڈیکلریشن منظور کیا گیا تھا۔ اس سیمینار میں پاکستان کے 350علماء نے شرکت کی تھی اور اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ موجودہ حالات میں آبادی میں کمی ہونی چاہئے۔
ہمیں اپنے نصاب میں آبادی کے بڑھتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کرنی چاہئے۔ ہمیں شرح پیدائش کو 1.3پر لانا چاہئے۔ اس طرح ہمارے وسائل اس آبادی کے لئے کافی ہو جائیں گے۔پاکستان میں 51فیصد آبادی کو گھروں میں بیت الخلاء کی سہولت نہیں۔ صرف 23.9فیصد آبادی کے پاس ریڈیو اور 35.3فیصد کے پاس ٹی وی سیٹ ہیں۔ صرف 21.2فیصد آبادی اخبارات کا مطالعہ کرتی ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 872سرکاری ہسپتال ہیں جو کسی طوربھی 2020ء میں 1744نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ بنیادی صحت مرکز کی تعداد 9892ہے۔ جو بارہ سال بعد 19784نہیں ہوسکیں گے۔ لیکن آبادی ہر صورت 2020ء میں 16کروڑ سے 32کروڑ ہو جائے گی۔ پھر کیا ہوگا؟ جبکہ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کی اس وقت آبادی 5ارب ہے۔ باقی ڈیڑھ ارب صرف ترقی یافتہ ممالک کی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اس خوبصورت ملک کو بچا لیں۔