• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گڈ گورننس کیلئے ہمہ گیر قانونی اصلاحات ناگزیر!

وطن عزیز کے قانونی ڈھانچے اور نظام انصاف کے حوالے سے جس اصلاحات پیکیج کے بارے میں خاصے دنوں سے خبریں گشت کررہی تھیں، یہ امر اطمینان بخش ہے کہ وزیر اعظم کی اصلاحاتی ٹیم نے اس پر کام مکمل کرلیا ہے اور ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر، وراثت کے سرٹیفکیٹ، دیوانی مقدمات میں غیرمعمولی تاخیر، مقدمات کو دانستہ التوا میں ڈالنے کی کوششوں سمیت کئی پیچیدگیوں کو دور کیا گیا ہے۔ قوانین درحقیقت معاشرے کے سیاسی، تمدنی اور معاشی ڈھانچے کا عکس ہوتے ہیں۔ چند عشروں قبل جب دنیا دو بلاکوں میں تقسیم تھی تو سرمایہ داری نظام کے حامل ملکوں کے قوانین سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورتوں کی نمائندگی کرتے تھے، جبکہ کمیونسٹ ممالک کے قوانین کمیونسٹ نظام کے آئینہ دار تھے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد اس بلاک کے ملکوں نے اپنی ضروریات کے مطابق نیا نظام اختیار کیا تو اپنے قوانین کو بھی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دی۔ دو بلاکوں کی سرد جنگ سے بھی پہلے جب دنیا کا بڑا حصہ استعمار کے زیر اثر تھا تو مقبوضہ اور قابض ملکوں کے علیحدہ علیحدہ قوانین ان کی حیثیت کو ظاہر کرتے تھے۔ آج کے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر مشتمل متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد جو قانونی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ بنایا گیا وہ اگرچہ نوآبادیاتی دور کی ضروریات کے مطابق تھا مگر اس میں برصغیر کے مخصوص حالات کے حوالے سے مختلف شعبوں میں نئے تصورات بھی متعارف کرائے گئے تھے۔ تعلیم، انصاف، قانون، جیلخانہ جات، مواصلات، تعمیرات، پانی کی ترسیل اور نہری نظام کے حوالے سے جو تصورات سامنے آئے تھے اگر آزادی کے بعد کی ضروریات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کا کام جاری رہتا، قانونی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں کے اصولوں اور ضابطوں کو طرز زندگی میں آنے والی نت نئی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا جاتا تو ہم کئی الجھنوں اور پیچیدگیوں سے بچ سکتے تھے۔ جب عام آدمی اپنے سسٹم میں ناکامی کا گلہ کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ رائج الوقت قوانین فرسودہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں ایف آئی آر کے اندراج کا جو طربقہ رائج ہے اس میں استحصال اور معصوم افراد کو ہراساں کرنے کا پہلو نمایاں ہے۔ وزیر اعظم کی قانونی ٹیم نے جو اصلاحاتی پیکیج تیار کیا ہے، اس میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے میں رائج طریق کار کی طرح پولیس بھی مکمل تحقیقات کے بعد ہی فوجداری مقدمات درج کرسکے گی۔ اس باب میں بھی قانونی حلقے ایسی تدابیر کی ضرورت بہرطور محسوس کرتے ہیں کہ تاخیر سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں برسراقتدار یا بااثر افراد کی خواہش پر حقائق نظرانداز کرنے کے امکانات معدوم ہوں۔ رائج الوقت طریق کار کے مطابق وراثت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے اور دستاویز حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو چھ ماہ سے لے کر ایک سال تک مختلف مقامات کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات ہماری عدالتوں پر مجموعی بوجھ کا 20فیصد حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ وراثت سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لئے غیرمتنازع معاملات بہت سے اداروں کے رجسٹروں کی چھان بین کے طویل طریق کار کی بجائے براہ راست نادرا کے ذریعے پراسیس میں لائے جاسکیں گے۔ دیوانی مقدمات میں عدالت کی جانب سے طلبی کے نوٹس جاری ہونے اور ان کی موصولی میں تاخیر اور کرپشن کا عنصر ختم کرنے کے لئے اس عمل کی نج کاری کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح دیوانی مقدمات نمٹانے میں لگنے والا عشروں کا وقت بچانے کے لئے اپیل کے تہہ در تہہ فورموں کی بجائے ایک ہی فورم اختیار کرنے اور سول ججز کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے حق میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اصلاحاتی پیکیج کے تحت ان متعدد معاملات میں تبدیلی لائی جائے گی جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ بات قانون سازی تک محدود نہ رہنی چاہئے بلکہ اصلاحات پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنانے خاص بھی توجہ دی جانی چاہئے۔ ہمہ گیر قانونی اصلاحات گڈ گورننس کے لئے ناگزیر ہیں اور یہ عمل مسلسل جاری رہنا چاہئے۔

افغان امن مذاکرات : سازگار ماحول ضروری
بین الاقوامی رائے عامہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام مذاکرات ہی سے لایا جا سکتا ہے مگر کابل حکومت اس سمت میں کوئی پیش رفت کر رہی ہے نہ افغان طالبان کے رویئے میں لچک دکھائی دیتی ہے پاکستان کی مصالحتی کوششوں سے فریقین میں گفتگو کا آغاز ہوا تھا امریکہ کی خواہش ہے کہ بات چیت دوبارہ شروع ہو منگل کو واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع ایشئن کارٹر اور سی آئی اے کے سربراہ جان برینن سے ملاقاتوں میں پاک آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے درست نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں امن عمل اور افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کی بحالی کے لئے ساز گار ماحول ضروری ہے کشت و خون اور داردگیر کے موجودہ ماحول میں امن بات چیت ممکن ہی نہیں پاکستان کابل حکومت سے پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اسے طالبان کو مارنا ہے یا ان سے صلح کی بات کرنی ہے کیونکہ دونوں کام بیک وقت نہیں ہو سکتے جنرل راحیل شریف کی زیادہ تر ملاقاتیں امریکی محکمہ دفاع کے ذمہ داروں سے ہی ہوں گی تا ہم دفاع اور سلامتی کے باہمی دلچسپی کے امور پر وہ امریکی وزیر خارجہ اور دوسرے حکام سے بھی بات چیت کریں گے خاص طور پر افغانستان میں پاکستانی طالبان کی موجودگی اور بلوچستان کراچی اور فاٹا میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے پر ضرور گفتگو ہو گی وزیراعظم نواز شریف گزشتہ ماہ اپنے دورہ امریکہ کے دوران اس سلسلے میں امریکی صدر کو ٹھوس ثبوت پیش کر چکے ہیں امریکی وزیر دفاع اور دوسرے حکام سے آرمی چیف کی ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اس حوالے سے افغانستان میں امن مذاکرات کی بحالی ایک اہم موضوع ہے اور امریکہ کی نظر میں پاکستان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہےاس مقصد کے لئے امریکہ کو چاہئے کہ وہ ایک طرف کابل حکومت کو پاکستان مخالف رویہ ترک کرنے پر مجبور کرے اور دوسری طرف بھارت کو ہماری مشرقی سرحد پر اشتعال انگیزی سے روکے تا کہ پاکستان یکسوئی کے ساتھ افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

قومی ایجنڈے پر اتفاق:ملکی ترقی کے لئے لازمی
وزیر اعظم نے پورے ملک میں مکمل ہوجانے والے اور زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے قوم کو بجا طور پر متنبہ کیا ہے کہ بے جا تنقید سے ان میں رکاوٹ ڈالنے والے حکومت کی نہیں ملک کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پیر کے روز گوجرہ میں فیصل آباد تا ملتان موٹر وے کے دوسرے حصے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں شاہراہوں کی اہمیت واضح کی۔پورے ملک میںذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے مختلف منصوبوں کے حوالے سے وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت ملک کے دور دراز علاقوں کو قریب لانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملانے کے لئے بھی کوشاں ہے ۔اس حوالے سے منگل کو ازبکستان میں وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر اورگزشتہ ہفتے تاجکستان کے صدر کی پاکستان آمد پر طے پانے والے باہمی تعاون کے سمجھوتے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔وزیر اعظم نےاس یقین کا اظہار کیا کہ 2018ء تک پورے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔حکومت کی ان کوششوں کی کامیابی کو عین قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ ماضی کے ادوار میں قومی ترقی کے لئے بنیادی اقدامات عمل میں نہ لائے جانے کے باعث آج پڑوسی ملک کی برآمدات ہم سے دس گنا زیادہ ہیں جبکہ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں دس پندرہ سال پہلے تھے لہٰذا قومی ترقی کے ایجنڈے کی تکمیل میں پوری قوم کا تعاون اور مخالفت برائے مخالفت سے گریز ضروری ہے ۔ قوم سے وزیر اعظم کی یہ اپیل بلاشبہ بالکل بجا اور فوری توجہ کی مستحق ہے۔ قومی ترقی کے لئے جاری منصوبوں کی محض سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے مخالفت ملک اور قوم سے محبت نہیں دشمنی کے مترادف ہے تاہم جائز اور تعمیری تنقید بہرحال ضروری ہے جسے خوش دلی سے برداشت بھی کیا جاناچاہیے اور درست ہونے کی صورت میں اس کے مطابق اصلاحی اقدامات بھی عمل میں لائے جانے چاہئیں۔
SMS: #JEC (space) message & send to 8001
تازہ ترین