• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ قومی شعورکیا بلاہے؟ چند دن پہلے چیئرمین تحریک انصاف کا کراچی میں فرمان ’’دھرنوںنے قومی شعور پیداکیا‘‘، یعنی کہ دھرنوں سے پہلے قوم بے شعور تھی۔چینی فلاسفر کنفیوشس کا ڈھائی ہزار سال پہلے کہا فرمان ، شعور ہی رقم کر گیا، ’’اجتماعی (قومی ) شعور پیداوار ہے اجتماعی ضمیر کی، چنانچہ بے ضمیر قومیں بے شعورہی ‘‘۔آج قومی شعورپر بات ہو ہی جائے۔بھلا!یہ شعور ہے کیا چیز؟ ’’سادہ پیرائے میں حواس اور دماغ کی ایسی صلاحیت جو حضرت انسان کی اپنی بھلائی وبہتری کیلئے سوچ، فیصلہ، فہمیدگی ، بصیرت اور ادراک کے تعین میں مدددے ‘‘، (امریکن مورخ، فلاسفرہنری ڈیوڈ)۔ نیدر لینڈکا بانی مبانی اجتماعی شعور جارج پور George Por) کے نزدیک ’’اگر آپ باشعور قوم نہیں تو ناپید قوم ہیں ‘‘۔اسے کامن سینس کہیں، دانائی کہیںیا عقل سلیم یا کچھ شعور یہی کچھ۔
ابراہم لنکن کے قول کا ذکرخان صاحب بہت کرتے ہیں، میں بھی مداح ’’انسانوںکے جم غفیر کو لمبے عرصے تک بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا‘‘کہ اس میںقومی شعورہی تو مانع ہے، چنانچہ آج اگر نواز شریف پاکستان، شہباز شریف پنجاب، زرداری دیہی سندھ ، الطاف حسین شہری سندھ، عمران خان خیبر پختونخوامیں براجمان تو یہ فیصلہ قومی شعور کی عکاسی ہی ہے۔ موضوعات ہمیشہ کی طرح انواع اقسام،اکثر پیچیدہ وگمبھیر ۔ پچھلے دوہفتوں سے عالمی جنگجویانہ سیاست کا پڑائو ترکی اورروس کی حالیہ خطرناک چپقلش پر موقوف ہوچکا۔ بہت کچھ لکھ چکاہوں ، بہت کچھ لکھنے کو اور بہت کچھ کہنے کو دل مچل رہا ہے، فی الحال مؤخر۔نواز شریف مودی ملاقات، معنی خیز بھی اور تہلکہ خیز بھی۔ دومنٹی ملاقات چندفقروں کی متقاضی ہے۔ نہرو تا مودی ،بے شمار دھڑ ضرور، روح سب میںایک ہی۔ نہرو، شاستری ، اندرا ، راجیو تا مودی سب کو بھگت لیا، کچھ فرق نہیں ان ساروں میں ۔ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششوں میں سب ایک سے ایک بڑھ کر۔ مودی کا مقصد عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا کہ آجکل عالمی میڈیا ہاتھ دھو کر پیچھے ہے ،چنانچہ مودی دونہیں ایک ہی ،مکمل مکار اور جامع پراگندہ۔موضوع قومی شعور، پسند کس کو کیا، واہ رے ’’قومی شعور ‘‘،اپنا گلہ بنتا ہے۔ پچھلے چند سال، چند مہینے ، چند ہفتے قومی قائدین ، مفکرین ، اہل علم ودانش کے کہے ، لکھے فرمودات سنیں، پڑھیں، دیکھیں، بھالیں، جانچیں، پرکھیں۔ نیم خواندگی یا سطحی سوچ، نوسربازی، مکاری، غیر سنجیدگی براجمان نظر آئے گی۔ دونمبر مال اس لئے بک رہا ہے کہ قوم کو ایک نمبر مال کی چوائس ہی نہیں ۔ جہاں قومی سیاست کا سب سے بڑا ایشو، 2013ءکے انتخابی تنازع تک محدود ہو کررہ جائے ۔آئینی ، نظریاتی، اردوزبان ، ذریعہ تعلیم، کشمیر، لبرل پاکستان آنکھ اوجھل رہیں۔ درجنوں ضمنی انتخابات، بلدیاتی انتخابات ، سروے کمیشن رپورٹس، بین الاقوامی ادارے ہر دو زاویوں سے باربار، کئی بار جانچ پڑتال سب کا نتیجہ ایک ہی برآمدہوگا کہ بے شعور قائدین اور سیاسی جماعتوں کے جم غفیر میں قومی شعور بدرجہ اتم موجودنظرآئے گا۔کیا تحریک انصاف اپنی سیاست کو چار چاند لگانے کیلئے حکمت ، فہم و فراست، دانائی عقل، دانش ، شعورکو پکڑپائے گی۔سیاسی ہنر مندی ،سمجھ داری ، ہوشیاری سیکھ پائے گی ۔ وطن عزیز کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی تحریک انصاف کو کیسے اور کب پتہ چلے گاکہ قومی سیاست سے فراغت پا چکی ،بغیر کھیلے ریٹائرہرٹ ، پولین میں۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ن لیگ کے مقابلے میں آزاد امیدواروں کا جیتنا تحریک انصاف پر عدم اعتماد ہی۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات کیا پیغام چھوڑ گئے ؟سیکھنے والوں کیلئے سبق موجود ہے۔عمران خان بالترتیب میانوالی، اسلام آباد اور لاہور میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ حسن اتفاق تینوں جگہ اپنا گھربمع رجسٹری اپنے نام موجودہے۔ اپنے تینوں گھروں میں جاکر عمران خان نے بھرپور جلسے بھی کئے ، تینوں مقامات پر امیدواروں کی عبرت ناک شکست ،لمحہ فکریہ ہی ۔ زمان پارک(لاہور)، شیرمان خیل قوم (میانوالی )اور بنی گالہ(اسلام آباد) کے تمام وارڈز سے بری طرح ہار جانا ، سبق ہے صرف ان لیڈروںکیلئے جو شعور رکھتے ہیں۔ میانوالی اپنے گھرشیرمان خیل وارڈ سے عبرت ناک شکست ، کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ رہنی چاہئے۔ اپنے کزن میجر رفیع اللہ خان شیرمان خیل (بڑے عرصے بعد فیملی کاپہلی دفعہ متفقہ امیدوار ) بمقابلہ عبدالسلام آرائیں بلے پر ، ڈیئر کزن نے بنفس نفیس ’’میرٹ پر‘‘ اپنے کزن اور قوم کے خلاف جلسہ کیا، نتیجہ شکست کی صورت میں۔ ایک اور دلچسپ پہلو،بلدیاتی الیکشن میں میانوالی ، لاہور، اسلام آبادجیسے تحریک انصاف کے گڑھ ، میں حاصل شدہ ووٹوں کی مقدار2013ءکے مقابلے میں آدھی رہ جانا، عوامی شعور کا انوکھا مظاہر ہ ہی۔
قوم باشعور یا بے شعور؟جن سیاستدانوں کو الیکشن جیتنے کی سہولت دستیاب وہ قوم کے شعور، دانش فہم وفراست کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں، جو اس نعمت غیر مترقبہ سے محروم، قومی بے شعوری کا رونا پیٹنا شعار بنا لیتے ہیں۔سات سمندر ، دنیا کا بڑا حصہ دیکھنے بہت سارے مملکتوں کی سیاست چھاننے ، جانچنے کے نتیجے میں نپی تلی رائے کہ ’’پاکستانی قوم کے شعور کا اقوام عالم میں مقام، نمایاں ہے۔ قومی شعور کے جو مظاہرے اپنی قوم میںدیکھے ہیں، اپنی مثال آپ۔ چند مثالیں خدمت میں، عظیم قائد کی سیاسی جدوجہد نے 1938ءمیں ایک واضح اور فرق نظریاتی موقف اختیار کیا، جیسے ہی پیرومرشد کے بتائے طریقہ کار (خط نمبر 9)،منزل کا تعین ہوا، دو قومی نظریہ کو رہنماء اصول متعین کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانان ہند جوق درجوق، لپک لپک عظیم قائد کی ہر بات پر لبیک کہتے نظر آئے۔ کیاتاریخ انسانی میں کوئی اور مثال بھی کہ بیدار قومی شعور نے جغرافیہ ، تاریخ ، قوم سب کچھ بنا ڈالا۔ بے شعور قوم یا زندہ قوم؟ولیم مرٹز کو پنسلونیا یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری اسی ایک تحقیق پر مرحمت فرمائی ’’ علامہ اقبال کی نشاندہی پر، جناح نے جیسے ہی دوقومی نظریہ کو اپنایا، پلک جھپکتے مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر رواں نظر آیا،9سال کی قلیل مدت میں مسلمانوں کی شعوری سیاست نے روایتی سیاست، فلسفوں کے بخیے ادھیڑدئیے۔بقول اسٹینلے ولپرٹ’’ تاریخ کا دھارا موڑا، جغرافیہ تبدیل کیا، مسلم قومیتی ریاست بنا ڈالی ‘‘۔دنیا میں ایسی باشعور، مرتعش ، ولولہ انگیز ، پرجوش، جذباتی وجنونی قوم فی زمانہ کوئی دوسری بھی، اگر کوئی ہے ،تو سامنے لائو، پیش کرو۔
پچھلے68 سالہ، وطنی سیاست پر طائرانہ نظر ڈا لیں، قوم کو جب بھی پسند ناپسند کا اختیار ملا ، جتنا بھی ملا، بازار سیاست سے جوموجود مال خریدا،بہترہی خریدا۔ 1970 میں پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کا حق ملا، کوئی روک سکا مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کواکثریت حاصل کرنے میں؟1970ءکا الیکشن ، عوامی شعور نے مقابلتاًچنائو ہی توکرنا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور دھاندلی کی ہر جہت میں نمایاںتھا۔ شرطیہ کہتا ہوں اگر سو فیصد صاف شفاف الیکشن ہوتا تو بھی جیت عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کی ہی رہتی۔ دواورمحدود برمحل مثالیں ، بمطابق موقع محل۔ پیپلزپارٹی کے بعد میری ہی قوم کا ایک حصہ اپنے شعور میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر کمال وارفتگی دیوانہ وار عاشق ہوا۔ قطع نظر الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قیادت بطوراقدار، اطوار، قماش کیا رنگ جماتی رہی۔کسی قومی جماعت نے یہ تجزیہ بھی کیا،کہ کونسے حالات واقعات کہ نظریہ پاکستان اور وطن عزیز پر جانیں نچھاورکرنے والے، جان ہتھیلی پر رکھنے والے، ایسی جماعت کے پیچھے کیوںترتیب پا گئے؟وقت یاد کرو پورے مغربی پاکستان میں کراچی واحد شہرجہاں سے عظیم قائد کی عظیم بہن مادر ملت فاطمہ جناح کو جیت نصیب ہوئی ۔ اہالیان کراچی کو زندہ لاش کہنا، غلام سمجھنا،ان کے شعور کو آڑے ہاتھوں لینا، زیادتی ہے۔کبھی ان عوامل پر غور ہواکہ اردو اسپیکنگ قومی دھارے سے باہر نکلنے پر کیوں مجبور رہے۔ گارنٹی دیتا ہوں کہ جس قومی جماعت نے دلجمعی سے اردو اسپیکنگ کے مسائل ومصائب کو حل کیا، وہی ایم کیو ایم کا مقابلہ کرپائے گی۔ قومی جماعتوں کا زبانی جمع خرچ عوامی شعور کو دھوکا نہیں دے پائیگا۔ کراچی نے تو محترمہ فاطمہ جناح کے بعد جماعت اسلامی ، جمعیت العلماء پاکستان اور کسی حد تک پیپلزپارٹی کو پذیرائی دی۔باشعور اہالیان کراچی کے مسائل ومصائب کا شعور آئے گا تو باشعور کراچی وال متوجہ بھی ہوں گے۔ ڈینگیں ، بڑھکیں، بول بچن کسی کام کے نہیں، ناکامی ہی مقدر، NA-246 کا ضمنی انتخاب یہی کچھ بتا گیا ۔قوم نے بے نظیر، نواز شریف ، عمران خان وغیرہ جو کچھ مال سامنے تھا، ان میں سے جس کو بہترجانا اپنے لئے چن لیا۔ اسی قوم نے 2011ءمیںتحریک انصاف کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر فوقیت دی۔بمطابق دسمبر 2011 سروے، تحریک انصاف 34فیصد ،مسلم لیگ ن 27 فیصد ، پیپلزپارٹی 11فیصد، آخر کیا ہوا کہ جون 2012 میں تحریک انصاف 24فیصد جبکہ دسمبر 2012 ء میں 16 فیصد تک دھڑام آ گری۔ دوسری معمولی مثال 2002 میں جب خان صاحب کو میانوالی کی عوام سے متعارف کروایا توباشعور اہالیان میانوالی کی سیاست بوجوہ ذاتی مصائب اور مسائل بڑے دھڑوں میں تقسیم تھی۔ عوام الناس نے ذاتی قربانی دی اور سکے بند دھڑوں پر فوقیت دے کر 67 ہزار ووٹ کی تاریخی جیت سے ہمکنار کرایا۔ واحد سیٹ آپ کی آج کی تناور سیاست کا بیج ثابت ہوئی ۔
کبھی اس بات کابھی تجزیہ حاضر کروں گا کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وارثت محترمہ بے نظیر کے حصے میں کیوں؟ ، جناب مرتضیٰ بھٹووارث کیوں نہ بن سکا؟ جنرل ضیاء الحق کی مقبول ترین سیاست جناب اعجاز الحق کی بجائے جناب نواز شریف کوکیوں منتقل ہوئی ۔ یہ سب کچھ عوامی شعور کی درخشندہ مثالیں ہی تو ہیں۔ ایک اور دلچسپ مفروضہ 1964 ءکے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کی مدمقابل محترمہ فاطمہ جناح اگر 9جولائی 1966 ءکو انتقال نہ کرتیں اورمزیدفرض کر لیا جائے کہ 1970 ءکے الیکشن کی قیادت کرتیں تو مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹوشاید نہ ہوتے۔ عوامی شعور ہر طور فاطمہ جناح کیساتھ کھڑا نظر آتا ۔ لمبی بحث طویل مضمون’’کہ ڈبویا مجھ کو ہونے نے ‘‘، یہی تو ہے قومی شعورجناب چیئرمین ۔آپ کو نسا قومی شعور پیدا کررہے ہیں، یا ڈھونڈ رہے ہیں، اگر ایمپائر کی انگلی والا شعور کامیاب رہتا تو، ذرا سوچئے ، قوم کہاں پہنچ جاتی۔ ’’میرے شوق کی یہیں لاج رکھ، وہ جو شعور ہے مجھ سے دوررکھ‘‘۔
تازہ ترین