آبنائے ہرمز سے تحویل میں لیے گئے اسرائیلی جہاز کی تصاویر جاری کردی گئیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کارروائی کی تصاویر ایرانی میڈیا نے جاری کی ہیں، جن میں اسرائیل سے منسلک شپنگ کمپنی کے جہاز کو تحویل میں لیے جانے مناظر شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو روکا اور قبضے میں لیا، جن میں ایم ایس سی فرانسیسکا اسرائیلی جہاز بھی شامل تھا، جو بغیر اجازت آبنائے ہرمز میں داخل ہوکر نیویگیشن سسٹمز میں چھیڑ چھاڑ اور خفیہ طور پر آبنائے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جہاں حالیہ دنوں میں جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور حملوں نے صورتِ حال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران نے 22 اپریل کو 2 غیر ملکی کنٹینر جہازوں کو قبضے میں لے لیا تھا جبکہ ایک اور جہاز پر فائرنگ کی گئی تھی، اس سے قبل امریکا نے بھی ایک ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لیا تھا جسے ایران نے ’سمندری قزاقی‘ قرار دیا تھا۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب عملی طور پر دونوں ممالک کے کنٹرول میں آ چکی ہے مگر ایران اس پر مؤثر انداز میں قابض ہے، ایران نے مارچ کے آغاز میں اس گزرگاہ پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف اس کی اجازت سے ہی آبنائے ہرمز سے جہاز گزر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ایران نے صرف ’دشمن ممالک‘ کے جہازوں پر پابندی لگائی تھی تاہم امریکا کی جانب سے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے تمام غیر ملکی جہازوں پر سختی بڑھا دی ہے۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک 34 ایرانی یا ایران سے منسلک جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک اس کی تیل برآمدات پر پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حرکت ممکن نہیں۔