آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’دبئی سے کراچی روانگی کے لئے میں تیار تھی میرے شوہر آصف کو دبئی میں ہماری بیٹیوں بختارور اور آصفہ کے ساتھ رہنا تھا۔ میں نے اور آصف نے بہت سوچ بچار کے بعد ایک مشکل فیصلہ کیا تھا کیونکہ میری وطن واپسی کے اثرات سے ہم آگاہ تھے۔ لہٰذا ہمارا فیصلہ تھا کہ کچھ بھی ہو جائے ہماری بیٹیوں اور بیٹے بلاول کے سر پر کسی ایک کا سایہ سلامت رہنا چاہئے۔ یہ ایک مشکل اور غیر معمولی فیصلہ تھا۔ ایک عرصہ پہلے میں اپنی ترجیح واضح کر چکی تھی جو کہ پاکستان کے عوام تھے میرے بچے نہ صرف اس ترجیح سے واقف تھے بلکہ میرے حامی تھے۔ مجھے اُمید تھی کہ میری وطن واپسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔’’میرا یقین ہے کہ معجزات ہوتے ہیں۔‘‘محترمہ بے نظیر بھٹو کی 30سالہ سیاسی جدوجہد جمہوریت، آزادی اظہار اور سماجی و معاشی مساوات سے عبارت ہے۔ بی بی کی زندگی میں ہلچل، رنج و الم اور فتوحات سب ہی کا اظہار ہوتا ہے۔ والد اور دو بھائیوں کی شہادت، والدہ، شوہر اور خود اپنی قید و بند، جلاوطنی، جھوٹے مقدمات، انتہائی بدترین الزمات بھی بے نظیر بھٹو کو اپنے مقاصد کے حصول کی جدوجہد سے نہ روک سکے۔ پاکستان کی تاریخ میں آ مریت اور انتہا پسندی کو جس دلیری اور جرات کے ساتھ بی بی نے للکارا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ضیاء کے سیاہ دور میں جب آئین کو چند صفحے کی

کتاب سمجھ کر پھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ ایک مخصوص قسم کی مذہبی سوچ کو پروان چڑھایا گیا۔ آزادی اظہار پر قدغن لگایاگیا۔ سماج کو اجارہ داریوں کے ذریعے برباد کر دیا گیا اور معاشی عدم مساوات کے باعث امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہونے لگا تو بھٹو کی بے نظیر بیٹی نے اپنے والد کے مشن کا بیٹرا اُٹھایا۔ یہ وہ دور تھا جب بڑے بڑے نام نہاد سیاسی رہنما آمریت تسلیم کر چکے تھے۔ ایسے میں بی بی نے آمریت، انتہا پسندی، سماجی و معاشی عدم مساوات کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’ میں باغی ہوں‘‘۔ بی بی کے عزم و حوصلے نے ان طالع آزمائوں پر لرزہ طاری کر دیا۔ آمریت کے دور میںانتہا پسندی سے دہشت گردی تک کا سفر انتہائی تیزی سے طے ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو وہ واحد سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے سب سے پہلے دہشت گردی کو پوری طاقت کے ساتھ للکارا۔ اسی لئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے لئے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک میں رجعت پسند قوتوں نے سرمائے کا بے دریغ استعمال کیا۔ جنرل مشرف کے دور حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے جلا وطنی کے دوران مغربی طاقتوں کو باور کروایا کہ اگر وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو اُنھیں پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کرنا ہو گی اسی دبائو کے تحت سیاسی قائدین کو ملک واپس آنے کی اجازت دینا پڑی۔ آمرانہ قوتوں کے ساتھ ساتھ دہشت گرد اور انتہا پسند محترمہ بے نظیر بھٹو سے خائف تھے وہ جانتے تھے کہ بے نظیر بھٹو ہی وہ واحد رہنما تھیں جو ان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر کے اُنھیں شکست دینے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ تاریک ماضی کے یہ نقیب مستقبل کی اس اُمید اور روشنی سے ڈرتے تھے وہ لرزاں تھے کہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان کے عوام کو آمریت کے مقابلے میں جمہوریت، جہل کے مقابلے میں علم۔ مذہبی جنونیت کے مقابلے میں رواداری اور انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کا انتخاب کریں گے لہٰذا ان قوتوں نے بی بی کو ملک واپس آنے سے منع کیا اور کہا گیا کہ بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی فراہم نہیں کی جاسکتی۔ مگر کوئی بھی دھمکی بی بی کو خوفزدہ نہ کر سکی۔ کراچی میں خوفناک بم دھماکے اور شہادتیں بے نظیر بھٹو کو آمریت اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے سے نہ روک سکے۔ بی بی شہر شہر گائوں گائوں جمہوریت اور امن کا پیغام لے کر جاتی رہیں اور دہشت گردوں کو للکارتی رہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی آخری للکار آج بھی گونج رہی ہے،’’میرا ملک خطرے میں ہے ، اسے کون بچائے گا… میں بچائوں گی، آپ بچائیں گے…سوات پہ پاکستان کا پرچم کون لہرائے گا ، میں لہرائوں گی ، آپ لہرائیں گے۔‘‘
اور پھر 27دسمبر 2007کی شام کے مہیب سائے میں اس دلیر اور جرات مند آواز کو ختم کرنے کی سازش ہوئی لیکن آپ کسی شخص کو قید کر سکتے ہیں مگر سوچ کو نہیں آپ فرد کو جلا وطن کر سکتے ہیں مگر سوچ کو دیس سے نہیںنکال سکتے آپ کسی انسان کو قتل کر سکتے ہیں مگر اُس کے نظریے کو قتل نہیں کر سکتے۔ بے نظیر بھٹو کی سوچ اور نظریہ آج بھی للکار رہا ہے کہ ’’گورپیا کوئی ہور‘‘ریاست اور اداروں کو سوچ میں تبدیلی لانا پڑی سوات پر پاکستان کا پرچم لہرانے لگا۔ 70ہزار لوگوں کی شہادت کے بعد 16دسمبر 2014کا افسوسناک واقعہ ہوا آرمی پبلک اسکول کے پھولوں کے خون آلود لاشے تبدیلی لائے بہت سے دھرنے ختم ہوے۔ مذاکرات مذاکرات کی رٹ ختم ہوئی، دہشت گردوں کے ہمدردوں کی زبانیں گنگ ہو ئیں۔ 1977سے 2007تک انتہا پسندی کو للکارنے والی نہتی بے نظیر سوچ قوم کا نظریہ بنی اور جنرل راحیل شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب کو پوری طاقت سے شروع کیا۔ ایک عرصے کے بعد ریاست کی سوچ میں تبدیلی آئی اور دہشت گردی کے خلاف بے نظیر بھٹو کی للکار ضرب عضب کی صورت میں سامنے آئی۔
کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
ثابت ہوا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ہماری اپنی جنگ ہے۔ مبشر زیدی کے الفاظ میں ایک ماں آپ سے یوں مخاطب ہے۔
’’میری بہنو اور بھائیو!پاکستان میں جو لوگ دہشت گردی میں شہید ہوئے ہیں اُن سب کو جنت کے ایک باغ میں جمع کر دیا گیا ہے۔ ہم یہاں پہلے سے موجود تھے۔ ایک سال قبل پشاور کے بچے پہنچے ہیں۔ ان بچوں کی قربانی عظیم ہے۔ کیونکہ ان کا خون بہنے کے بعد قوم متحد ہو گئی۔

مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ
آپ دہشت گردوں سے لڑیں شدت پسندی کا خاتمہ کریں اور ان بچوں کی فکر نہ کریں میں یہاں ان کا بہت خیال رکھوں گی۔ آخر میں بھی ایک ماں ہوں۔
آپ کی بہن …بے نظیر بھٹو

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں