بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے نام پر ایک نیا رواج پاکستان میں چل نکلا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں ہندومت سے تعلق رکھنے والی مذہبی رسم ہولی کے موقع پر مدعو کیا جائے تاکہ اُن پر بھی رنگ پھینکا جائے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو حال ہی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، شیری رحمان کے ساتھ ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کے ہمراہ پوجا کرتے دکھایا گیا۔ آج آپا نثار فاطمہ مرحومہ کے بیٹے اور وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا ایک ٹیوٹ پڑھا جس میں انہوں نے مسیحی براردی کے ساتھ مل کر اپنے حلقہ نارووال میں کرسمس منائی۔ یہ سب بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ اگر اس بارے میں یہ سوال اُٹھایا جائے کہ کیا ہمیں اسلام اس حد تک جانے کی اجازت دیتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ نفرت نہ پھیلائو، اقلیتوں کو تحفظ دو ۔ اس سوال میں نہ توکسی دوسرے مذہب کی طرف نفرت کا اظہار ہے اور نہ ہی کہیں اس سے یہ شائبہ ملتا ہے کہ اقلیتوں کو اُن کے حقوق سے محروم کرنے کی بات کی گئی ہو۔ سوال کا مقصد یہ ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اس بارے میں میں تو کچھ کہنے کی قابلیت نہیں رکھتا لیکن قارئین کرام کی خدمت میں محترم جسٹس ریٹائرڈ مفتی تقی عثمانی کی ایک تحریر کو پیش کررہا ہوں جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم نواز شریف کی ہولی منانے کی خواہش پر جنگ اخبار میں ہی تحریر کی تھی۔
مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
ـ’’ اسلام نے دوسرے مذاہب کے پیروئوںکے ساتھ رواداری کی بڑی فراخدلی کے ساتھ تعلیم دی ہے۔ خاص طور پر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں، ان کی جان و مال، عزت و آبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہو، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصول انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں، اُن کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دل آزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ ہمارے فقہاء کرام نے یہاں تک لکھا ہے کہ ’’ اگر کسی شخص نے کسی یہودی یا آتش پرست کو اے کافر! کہہ کر خطاب کیا جس سے اس کی دل آزاری ہوئی، تو ایسا خطاب کرنے والا گنہگار ہو گا‘‘ (فتاوی عالمگیر یہ ص ۵۹ ج ۵)۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ: ’’اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ (ترجمہ سورۃ ۶۰ آیت ۸)۔ اسی بنیاد پر احادیث کا ذخیرہ اور اسلامی فقہ اور تاریخ کی کتابیں غیر مسلم شہریوں کے ساتھ نہ صرف رواداری، بلکہ حسن سلوک اور برابر کے انسانی حقوق کی تاکید و ترغیب سے بھری ہوئی ہیں (میں نے اپنی کتاب ’’اسلام اور سیاسی نظریات‘‘ میں ان تعلیمات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے)۔ لیکن رواداری، حسن سلوک اور انصاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مذاہب کے درمیان فرق اور امتیاز ہی کو مٹا دیا جائے، اور مسلمان رواداری کے جوش میں غیر مسلموں کے عقیدہ و مذہب ہی کی تائید شروع کر دیں، یا اس عقیدہ پر مبنی مذہبی تقریبات میں شریک ہو کر یا ان کے مذہبی شعائر کو اپنا کر ان کے مذہب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ قرآن کریم نے اس سلسلے میں جو واضح طرز عمل بتایا ہے وہ یہ ہے کہ ’’ تمہارے لیے تمہارا دین ہے، اور میرے لیے میرا دین‘‘۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی کے دائرے میں اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود کوئی رکاوٹ ڈالے، نہ دوسروں کو ڈالنے دے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان کی وہ مذہبی رسمیں جو ان کے عقیدے پر مبنی ہیں ، ان میں کوئی مسلمان انہی کے ایک فرد کی طرح حصہ لینا شروع کر دے۔ پچھلے دنوں ہندوئوں کے دیوالی کے تہوار کے موقع پر ہمارے متعدد سیاسی رہنمائوں نے رواداری کے جوش میں دیوالی کی تقریبات میں باقاعدہ حصہ لیا۔ بعض رہنمائوں نے ہندوئوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئے تلک بھی لگایا، اور اس کی وسیع پیمانے پر فخریہ انداز میں نشرواشاعت بھی ہوئی۔ خود ہمارے وزیر اعظم بھی دیوالی کی تقریب میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ کیک بھی کاٹا۔ اور اخباری اطلاع کے مطابق انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ انہیں ہولی کے موقع پر بھی بلایا جائے اور ان پر رنگ بھی پھینکا جائے، غالباً ان کے ذہن میں یہ یکطرفہ پہلو رہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ عدم برداشت کے جو مظاہرے ہو رہے ہیں، ان کے مقابلہ میں پاکستان کی رواداری کو نمایاں کیا جائے کہ پاکستانی حکومت کس طرح ہندوئوں کی خوشی میں برابر کی شریک ہے، لیکن یہ پہلو ان کی نظر سے اوجھل ہو گیا کہ دیوالی کے ساتھ بہت سے عقائد اور تصورات وابستہ ہیں جن کی بنیاد، دیویوں اور دیوتائوں کے مشرکانہ عقیدوں پر ہے اور اس طرف بھی ان کی توجہ نہ گئی کی دیوالی میں شریک ہو کر کیک کاٹنے کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ دنیا کے عام رواج کے مطابق عموماً کیک کاٹنے کی رسم کسی کے یوم پیدائش کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دیوالی کے موقع پر کس کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے؟ بہت سے ہندوئوں کے عقیدے میں دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی بھی دیوالی کے پہلے دن پیدا ہوئی تھی، اور صحت و شفا کا دیوتادھن ونتری کا بھی یوم پیدائش یہی ہے (وکی پیڈیا)۔ چنانچہ دیوالی کے دنوں میں لکشمی کے بُت کی پوجا دیوالی کی تقریب کا ایک اہم حصہ ہے۔ جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے، وہ کیک کاٹیں، یا دیئے جلائیں یہ ان کے مذہب کا تقاضا ہے، لیکن جو مسلمان توحید کا عقیدہ رکھتا ہو اور لا الہ الا اللہ پر ایمان اس کی شناخت کا لازمی حصہ ہو، اس کے لئے اس عقیدے کے عملی مظاہرے کا حصہ بننا رواداری نہیں، مداہنت اور اپنے عقیدے کی کمزوری کا اظہار ہے۔ خاص طور پر ملک کے وزیر اعظم کا برسر عام قول و عمل صرف ان کی ذات کی حد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری قوم کی طرف منسوب ہوتا ہے اس لئے اس میں تمام پہلوئوں کی رعایت اور مختلف جہتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ وطن کے غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، حسن سلوک اور ان کی باعزت اور آرام دہ زندگی کا خیال رکھنا ضروری ہے اور مستحسن ہے، لیکن ہر چیز کی کچھ حدود ہوتی ہیں ان حدود سے آگے نکلنے ہی سے انتہا پسندی کی قلمرو شروع ہوتی ہے۔ غیر مسلموں یا ان کی عبادت گاہوں پر حملے کرنا، یا ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالنا یقیناً گناہ اور قابل مذمت ہے، لیکن کسی مسلمان کا ان کے عقیدوں پر مبنی مذہبی رسوم میں شریک ہونا بھی ناجائز اور قابل مذمت ہے۔ اعتدال کا راستہ افراط و تفریط کی انتہائوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔‘‘ مفتی تقی عثمانی صاحب کی مندرجہ بالا تحریر مسلمانوں کی بہترین رہنمائی کرتی ہے کہ کرسمس ہو یا کوئی کسی اور مذہب کا تہواراس میں شرکت کے لئے مسلمانوں کے لئے کیا حدود و قیود ہیں ۔
.