آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Fake Documents Were Presented Maryam Nawaz
مریم نواز شریف کے وکیل شاہد حامد نے پاناما کیس کی سماعت کرنےوالے لارجر بینچ کو بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عدالت کو فراہم کردہ دستاویزات میں مریم نواز کے جعلی دستخط شدہ دستاویزات منسلک کی گئی ہیں۔

شاہد حامد نے کہا کہ مریم نواز کے نام سے منسوب منروا اور این وائی سی کی جن دستاویز کا حوالہ دیا جارہا اس پر مریم کے دستخط درست نہیں۔

شاہد حامد نے مریم نواز کے اوریجنل دستخط اور دستاویزات پر موجود دستخط و دیکھنے کے لیے محدب عدسے بھی ججز کو فراہم کر دیے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ دستخط کے معاملے پر کوئی ماہر ہی رائے دے سکتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ دستخطوں میں اتنا واضح تضاد ہے کہ انہیں بغیر عینک بھی نظر آ رہا ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پاناما جا کر مریم نواز کی دستخطوں والی دستاویز نہیں دیکھی جا سکتی۔

شاہد حامد نے کہا کہ منروا کمپنی کا خالی فارم ویب سائٹ سے مل جاتا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ منروا کمپنی کو اگر 2006 میں ہائر کیا گیا تو عدالت میں 2011 کی دستاویزات کیوں پیش کی گئیں؟

مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ کیس لینے کے بعد کسی نے ان کا ای میل اکاؤنٹ بھی ہیک کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے بروقت پاس ورڈ تبدیل کر لیا۔

شاہد حامد نےکہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق مریم نواز نیسکول اور نیلسن کی ٹرسٹی ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ تحریری جواب کے مطابق مریم نواز صرف نیسکول کی ٹرسٹی ہیں۔

شاہد حامد نے کہا کہ یہ کلیریکل غلطی ہو سکتی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیےکہ اگر یہ دستاویز 2012 کی ہیں تو اس مقدمے سے اس کا کیا تعلق ہے؟ مریم نواز 2006 سے ٹرسٹی ہیں تو یہ غلطی نہیں ہونی چاہئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےریمارکس دیے کہ تاثر ملتا ہے کہ کارروائی کے ساتھ ساتھ جوابات میں بھی بہتری لائی جارہی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ سارا معاملہ ایمانداری کا ہے، ہم سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ سچ کیا ہے۔

مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کے اصل مالک حسین نواز ہیں۔حسین نواز نے ورثاء کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کے لیئے مریم کو ٹرسٹی بنایا گیا، حسین نواز کی دو شادیاں اور سات بچے ہیں۔

جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ مریم نواز نے نجی ٹی وی انٹرویو میں ٹرسٹی ہونے کا کیوں نا بتایا؟ کیا مریم کو اپنے ٹرسٹی ہونے کا علم نہیں تھا؟ مریم نواز نے 2012 کے انٹرویو میں کہا ہمارا کوئی اثاثہ باہر نہیں۔

شاہد حامد نے کہا کہ مریم نواز نے انٹرویو میں کہا انکی اپنی بیرون ملک جائیداد نہیں ۔مریم نواز کا بیان بالکل درست ہے۔مریم کا بیرون ملک اپنا کوئی گھر نہیں۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جائیداد اور گھر کیا الگ الگ چیزیں ہیں ؟ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اگر مریم نواز کے ٹی وی انٹرویو کے ٹرانسکرپٹ میں فرق ہے
تو ہمیں بھی فراہم کردیں،ہمارے لیئے ٹرانسکرپٹ بڑا اہم ہے، ہوسکتا ہے شکایت کنندہ کا ٹرانسکرپٹ درست نہ ہو۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ مجھے یاد پڑتا ہےمریم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مجھے نہیں پتہ میری اور گھر والوں کی پراپرٹی کہاں سے نکال لائے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جائیداد آپ کی ہے، آپ کو علم ہونا چاہئے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہ ٹرسٹی کو اثاثوں کا علم ہونا چاہئے، اگر زنجیر ٹوٹی نہ ہوئی تو ہم تمام کڑیوں کو جوڑ لیں گے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایشو یہ ہے کہ مریم نواز بینفشل مالک ہیں یا نہیں، تحریک انصاف مریم کو بینیفشل مالک کہتی ہے، آپ کہتے ہیں کہ مریم نواز بینیفشل مالک نہیں بلکہ ٹرسٹی ہیں۔

اس اختلاف کے نکتے پر کل عدالت کو مطمئن کریں، کیس کی مزید سماعت کل ہو گی۔
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں