کھائی گلہ(نامہ نگار)پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والے ممالک میں شامل ہے لیکن اُس کے باوجود ملک میں غربت کی شرح بڑھ رہی ہے جس کی وجہ عوام اور سماجی اداروں میں تربیت اور حکومتی اداروں میں باہمی رابطوں کا فقدان ہے لہذا سول سوسائٹی اور حکومت میں قریبی تعاون اور رابطوں کا فروغ ازبس ضروری ہے۔ اِن خیالات کا اظہار پاکستان کونسل فار سو شل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد اعجاز نوری نے کھا ئی گلہ میں پاکستان کونسل فار سو شل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام ورکشاپ سے خطاب کرتے ہو ئے کیا ورکشاپ مختلف فلاحی منصوبہ جات میں کمیونٹی کے کردار اور رضاکاروں کی استعداد کار کو بڑھانے کے حوالہ سے منعقد ہوئی ، ورکشاپ میں مقامی تنظیموں کے نمائندگان، خواتین اور دیگر مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی ورکشاپ کی صدارت ممتاز سماجی شخصیت اور پاکستان کونسل فار سو شل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس آزاد کشمیر ریجن کے کوارڈینیٹر سردار عبد الخالق ایڈووکیٹ نے کی جبکہ ریڈیو پاکستان آزاد کشمیر عہدیدار سردار محمد الیاس خان ، سردار جہانگیر خان، محمد رمضان مصطفائی، وقاص امیر ، سائرہ طارق اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائداعظم کے ویژن کے مطابق حقیقی معنوں میں معاشی اور اقتصادی طور پر آزاد اور خود مختار فلاحی ریاست بنانے کے لیے معاشرے میں خود انحصار ی اور خود اعتمادی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے لہذا سماجی تنظیموں کے کردار کو موثر بنا کر پاکستان میں خود انحصاری اور خود اعتمادی کی تحریک کو فروغ دیا جا سکتا ہے کیونکہ نچلی سطح پر قائم سماجی تنظیمیں عوام میں خود انحصاری اور خود اعتمادی کا شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اُنہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کا کردار بہت اہم ہے ہمارے ہاں غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے کا جذبہ اور صلاحیت تو موجود ہے لیکن مناسب تربیت اور ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتیوں کا بہتر طریقے سے استعمال نہیں کر سکتیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح پر عوام میں تنظیم سازی کے شعور کو فروغ دیا جا ئے اور اُن کی مناسب تربیت کا بندوبست کیا جائے تا کہ اُن کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرکے اُنہیں ملکی ترقی کے لیے فعال بنایا جا سکے اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام عوام میں شعور کی بیداری اور تنظیم سازی کی بدولت ممکن ہوا تھا اور آج پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے بھی عوام میں تربیت تنظیم سازی اور عوامی اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔