• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کہوٹہ ۔ پارٹ( I),,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان

31 جولائی 1976 یعنی 33 سال پیشتر جناب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں یورینیم کی افزودگی کے لئے ایک اہم پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دی۔ اس کا قیام جناب اے جی این قاضی، جناب غلام اسحق خان، جناب آغاشاہی اور جنرل امتیاز علی کے مشورے پر عمل میں آیا اور اس کو ایک بالکل خود مختار ادارے کی حیثیت دے دی گئی ۔ اس ادارے کا نام انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اور مجھے اس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کہوٹہ کی تاریخ اور ہمارے کارناموں سے تقریباً قوم پوری طرح واقف ہے مگر چونکہ یہ واقعہ 33سال پرانا ہے اور نوجوان طبقہ اسکے حقائق سے ناواقف ہے، میں اس آرٹیکل کو جو میں نے یکم اگست 1986ء یعنی دس سالہ سالگرہ پر ایک مقامی اخبار میں شائع کیا تھا اس کے اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تاکہ سب کو اس دلچسپ پرانی تاریخ سے آگاہی حاصل ہو جائے۔
”دس سال پیشتر ہماری حکومت نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کے نام سے راولپنڈی میں ایک پروجیکٹ قائم کیا جس کا مقصد دنیا کی نہایت اہم اور مشکل ترین سینٹری فیوج کا طریقہ استعمال کر کے یورینیم کی افزودگی کرنا تھا۔میں اس مضمون میں اس پروجیکٹ کے ابتدائی مراحل اور ان کوششوں کے بارے میں عوام کو مطلع کروں گا جن کی مدد سے ہم نے پاکستان کو دنیا کی مشکل ترین ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا دیا۔کہوٹہ پلانٹ نے پاکستان کو دنیا کے ایٹمی نقشہ پر ایک ممتاز مقام مہیا کر دیا ہے اور مستقبل کے لئے ہمارے پرامن ایٹمی پروگرام میں خود کفالی کی ٹھوس بنیاد تیار کر دی ہے۔ 3 سے 3.5فیصد افزودہ یورینیم جو ہم تیار کر رہے ہیں وہ ہمارے آئندہ لگائے جانے والے ایٹمی ری ایکٹروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہو گا اور ملک سیکڑوں ملین ڈالر سالانہ زرمبادلہ کی بچت کریگا اور ہمیں خود کفیل بھی کر دیگا۔
جاپان پر امریکہ کی طرف سے دو ایٹمی بم گرائے جانے کے بعد ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی جو ابھی تک جاری ہے۔ روسی حکومت امریکہ کے اقدامات سے جائز طور پر خوفزدہ تھی اور اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لئے انہوں نے بھی بہت جلد ہی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنا ڈالے ۔ اس کے بعد انگلستان ، فرانس اور چین نے ان ہتھیاروں کی تیاری شروع کر دی۔
ایک طرف جبکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری جاری تھی تو دوسری طرف یہ کوشش بھی شروع کر دی گئی کہ کسی طرح ایٹم بم کے اندر بند بے انتہا قوت کو بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکیں۔ امریکہ ، روس ، انگلستان اور کینیڈا ایٹمی ری ایکٹر بنانے میں کامیاب ہو گئے اور پوری دنیا میں ایٹم کے پر امن استعمال کرنے کی مہم شروع کر دی لیکن پڑھے لکھے لوگ اس بات سے پوری طرح واقف تھے کہ ایٹمی قوت کے پرامن استعمال کے پھیلنے سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلنے کا خطرہ بھی موجود تھا کیونکہ پر امن استعمال اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں برائے نام ہی فرق ہے۔ اگر کسی ملک کو ری ایکٹر بنانا ، پلوٹونیم بنانا آجاتا ہے تو پھر ایٹم بم بنانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کی مسلسل کوششوں اور بعض مغربی ممالک (سوئیڈن، آئرلینڈ، ہالینڈ، سوئیٹزرلینڈ وغیرہ) کی سنجیدہ انداز فکر نے دنیا کو یہ یقین کرا دیا کہ بین الاقوامی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ مشہور معاہدہNPTیعنی نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی یعنی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ کی شکل میں نکلا اور 1970ء میں یہ قیام پذیر ہوا۔ 1986ء تک تقریباً ایک سو تیس ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کر دیئے حالانکہ اس معاہدے کی نوعیت خاصی امتیازی ہے یعنی جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں وہ رکھ سکتے ہیں اور جن کے پاس نہیں ہیں وہ نہ بنائیں اور ایٹمی پرامن ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی خاصی پابندیاں ہیں۔ اس معاہدے کے عمل میں آنے سے پہلے چین آخری ملک تھا جس نے 1964ء میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ چین کو نہ صرف امریکہ بلکہ روس سے بھی اپنے ملک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے بارے میں خطرہ تھا۔ حالات بالکل معمول پر تھے اچانک ہندوستان نے امریکہ اور کینیڈا کے مہیا کردہ سامان سے چوری سے پلوٹونیم بنا کر 18مئی 1974ئکو ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کا ایٹمی توازن درہم برہم کر دیا۔ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت بات یہ تھی کہ چین کے برعکس ہندوستان کو اپنی سلامتی کے بارے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ تھا اس نے روس کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا ہوا تھا۔ اس نے کینیڈا کا دیا ہوا ری ایکٹر اور امریکہ کا دیا ہوا ہیوی واٹر استعمال کر کے بم بنایا اور یہ کام چوری سے کیا،NPTکو اس اقدام نے ہلا کر رکھ دیا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہماری کہانی کا آغاز اب سنجیدگی سے ہوا۔ ہندوستان کی چوری کی پالیسی کی وجہ سے فوراً کینیڈا نے ہمارے کراچی کے نیوکلیئر پلانٹ کا ایندھن اور ہیوی واٹر روک دیا اور بین الاقوامی معاہدوں کی پروا نہ کی۔ ہندوستان کی بدمعاشی کی سزا پاکستان کو دی گئی ۔ پاکستان کی منت سماجت کینیڈا کے بند کانوں پر نہ پڑی اور ہم کو بے یار و مددگار چھوڑ دیاگیا۔
ہماری مزید بے عزتی کرنے کے لئے فرانس نے بین الاقوامی ایٹمی ادارہ کی زیر نگرانی ری پروسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ تھا اور بین الاقوامی ادارہ نے اس کی منظوری دی تھی۔ امریکہ نے فرانس پر دباؤ ڈال کر یہ کام کروایا اور فرانسیسی جو اپنی خود مختاری کے بھنگڑے ڈالتے تھے امریکی دباؤ میں آگئے اور معاہدہ توڑ دیا۔ یہ پلانٹ بین الاقوامی ادارے کی زیر نگرانی تیار ہونا اور چلنا تھا اور اس کے غلط استعمال کی قطعی گنجائش نہ تھی۔
یہی وہ وقت تھا جبکہ ایک تیسری دنیا کے ترقی پذیر ملک یعنی پاکستان نے یہ چیلنج قبول کیا اور اس میدان میں خود کفیل ہونے کا بیڑہ اٹھایا۔ جولائی1976ء میں ہماری حکومت نے تاریخی فیصلہ کیا کہ ہم یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں اور ہمارے ایٹمی ری ایکٹروں کے ایندھن کی دستیابی میں خود کفیل ہو جائیں۔31جولائی 1976ء کو انجینئر نگ ریسرچ لیبارٹریز کا قیام عمل میں آیا کہ ہم یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ خود اپنی صلاحیتوں سے لگائیں۔
میں ابھی یورپ میں پندرہ سال کے قیام کے بعد واپس آیا تھا۔ میں نے برلن (جرمنی) ڈیلفٹ(ہالینڈ) اور لیون(بیلجیم) کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے ہالینڈ میں یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ میں کئی سال کام کیا تھا۔ میں جوان تھا ، قوت ارادی سے بھرپور تھا ، میں نے فزیکل میٹالرجی میں ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی وہ مشکل سے مشکل پروجیکٹس سے کامیابی سے نمٹنے کے لئے موزوں ترین تھی۔ مجھے متعلقہ ٹیکنالوجی کانہایت قیمتی تجربہ تھااور اس طرح میں اس کام کے کئے موزوں ترین شخص تھا۔ میں نے یہ چیلنج کھلے ہاتھوں قبول کیا اور کام کرنا شروع کر دیا۔میں نے پورے ملک سے چند نہایت محنتی ، قابل اور محب وطن سائنسدانوں اور انجینئرز کا انتخاب کیا اور ہم اس پروجیکٹ کو جلد از جلد پایہٴ تکمیل تک پہنچانے میں تن من دھن سے لگ گئے۔ جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں یہ آسان کام نہ تھا۔ میرے نو منتخب ساتھیوں نے کبھی سینٹری فیوج اور اس کی مدد سے یورینیم کی افزودگی کا نام تک نہ سنا تھا حالانکہ ان میں سے کئی باہر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں رکھتے تھے۔
ایک ایساملک جو سلائی کی سوئی، اچھی بائیسکل یا اچھی سڑکیں بنانے کے قابل نہ تھا وہ دنیا کی مشکل ترین ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے چلاتھا۔ نیوکلیئر سائیکل میں یورینیم کی افزودگی کو مشکل ترین سمجھا جاتا ہے۔ میرے رفقائے کار اور میرے لئے یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ پرابلم بالکل واضح تھی ، ہم قدرت کے نئے قوانین تلاش نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک بہت ہی پیچیدہ اور مشکل انجینئرنگ پرابلم سے مقابلہ تھا۔ ہمارے لئے یہ ناممکن تھا کہ ہم تمام آلات اور ان کے پرزے ملک میں ہی بنائیں۔ اگر ہم یہ راستہ اختیار کرتے تو پروجیکٹ یقینا بہت جلد موت کی آغوش میں چلا جاتا۔ میں نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کہ جو کچھ ہم غیر ممالک سے حاصل کر سکتے تھے وہ ہم نے بذریعہ ایئر لائن منگوا لیا تاکہ ہم جلد از جلد ایک اچھی بنیاد قائم کر سکیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ ہم نے ہر چیز کہوٹہ میں تیار کرنی شروع کر دی اور کچھ ہی عرصہ میں دنیا کے مشکل ترین آلات بنانا شروع کر دیئے۔
یورپ میں میرا طویل قیام ، اعلیٰ تعلیم، کئی ممالک سے متعلق معلومات اور وہاں کی اعلیٰ ٹیکنیکل فرموں سے واقفیت میرے لئے ایک بیش قیمت خزینہ تھا۔ دو سال کے اندر ہم نے صحیح کام کرنے والی سینٹری فیوج مشینیں بنا لیں اور اپریل 1978ئکو کامیابی سے افزودہ یورینیم کے پہلے نمونے حاصل کر لئے ، ساتھ ہی ہم پوری رفتار سے کہوٹہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔ کچھ ناواقف لوگوں نے کہوٹہ کی سائیٹ پر تنقید کی ہے جبکہ غیر متعلقہ اور ناواقف لوگ ہمیشہ دوسرے پہلوؤں پر دھیان دیتے ہیں۔ میری نگاہ میں دو چیزیں بہت اہم تھیں پہلی یہ کہ یہ علاقہ عام آمد و رفت اور سیاحوں کی پہنچ سے علیحدہ ہو تاکہ سکیورٹی کا صحیح بندوست ہو سکے اور دوم یہ کہ یہ علاقہ دارالحکومت اور بڑے ائیرپورٹ کے نزدیک ہونا ضروری ہے کیونکہ سامان جلد آسکے گا اور حکومتی فیصلے بغیر تاخیر کے ہو سکیں گے ۔ ان دو چیزوں سے بھی زیادہ اہم میرے لئے اپنے رفقائے کار اور ان کے اہل و عیال کے لئے سہولتیں (مکانات ، تعلیم، طبی سہولتیں ، گھر پہ قیام)تھیں جن کی موجودگی میں وہ بے فکری واطمینان سے کام کی تکمیل کرنے میں مشغول ہو سکتے تھے۔ ہمیں اپنے اس فیصلے پر کبھی بھی افسوس نہیں ہوا اور حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ کے چناؤ اور میری دارالحکومت میں موجودگی کی وجہ سے ہم نے بہت تیزی سے پروگرام کو آگے چلایا اور تین سال تک مغربی ممالک کو ہمارے کام کے بارے میں ذرا بھی بھنک تک نہ پڑی اور ان کی سرتوڑ کوششیں بھی ہمارے پروگرام کو نہ تو سبوتاژ کرسکیں یا روک سکیں۔
تازہ ترین