• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آخری فیصلہ ابھی باقی ہے....ناتمام…ہارون الرشید

ابھی وقت نہیں آیاکہ تاریخ ذو الفقار علی بھٹو، جنرل محمد ضیا ء الحق اور جنرل مشرف کے بارے میں آخری فیصلہ صادر کرے لیکن جب بھی وہ وقت آیا تو مورخ نام نہاد دانشوروں کوہرگز اہمیت نہ دے گا، اعتدال جنہیں چھو کر بھی نہیں گزرا اور جو اپنی اپنی جبلتوں کے اسیر ہیں ۔
جنرل پرویز مشرف کو وہ جنرل محمد ضیا ء ا لحق کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ قبول کیوں سمجھتے ہیں؟ بظاہر یہی کہ جنرل محمد ضیا ء الحق کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں اور ان کے وارث ان سے دستبردار ہو گئے، ثانیاً یہ کہ ضیا ء الحق ایک مذہبی آدمی تھے۔ اگر فوجی وردی نہیں تو وہ شلوار قمیص اور جیکٹ یا اچکن پہنتے۔ مسلمان اورپاکستانی ہونے پر وہ فخر کرتے تھے۔ جنرل مشرف کے مقابلے میں وہ بے حد منکسر آدمی تھے، جو اپنے کارناموں پر فخر کرتے ہیں اور جنہوں نے شاذ ہی کبھی کسی غلطی کا اعتراف کیا ہوگا۔ ضیا ء الحق کی دیانت ضرب المثل تھی، جبکہ جنرل مشرف نے لندن میں کروڑوں روپے کا مکان خریدا ہے ۔ دوسری داستانیں بھی ہیں ،جن کی تفصیلات بتدریج منظرِ عام پر آئیں گی۔ ایک کو تمام تر بربادیوں کا ذمہ دار قرار دینے والے ، دوسرے کے لیے تاویلیں کیوں تراشتے ہیں ۔
جنرل محمد ضیا ء الحق نے ایک مقبول لیڈر کو پھانسی دی ۔ آٹھ برس تک عوام کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھّا اور خبارات پر سنسر نافذ کیا۔ آزادیء عمل کے آرزومند فعال طبقات میں ان سے بیزاری تب بھی قابلِ فہم تھی، اب بھی ہے ۔ دونوں فوجی ڈکٹیٹر امریکہ کے حلیف تھے مگر دونوں کے روّیے کا فرق بہت نمایاں ہے ۔ سویت یونین کی مزاحمت کا فیصلہ جنرل محمد ضیا ء الحق نے خود کیا تھا، جبکہ امریکیوں کا مدّعامحض یہ تھا کہ سویت یونین کو افغانستان میں الجھائے رکھّاجائے۔ جنرل ضیا ء الحق نے امریکہ کو افغان کمانڈروں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور بعض اوقات سختی سے ان کی مزاحمت کی ، مثلا ً امریکی سفیر کو خیر آباد کے پل پر روک کر اسلام آباد واپس آنے پر مجبور کیا۔ امریکی ترجیحات کے برعکس صدام حسین کے خلاف خاموشی سے ایران کی مدد کرتے رہے۔ امام خمینی نے پیرس سے تہران کا قصدکیا تو انہیں سرکاری طیارے کی پیشکش کی اور پاکستان سب سے پہلے امریکہ دشمن حکومت کو تسلیم کرنے والوں میں شامل تھا۔ چین سے آنے والی اسلحے سے لدی گاڑیاں اصفہان پہنچائی گئیں اور عین حالتِ جنگ میں ایرانی پائلٹوں کو تربیت دی۔ آخری دنو ں میں امریکی جنرل محمد ضیا ء الحق سے بے حد ناراض تھے ۔ افغانستان کے بارے میں امریکی منصوبے کو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ نجیب اور اجلے وزیرِ اعظم محمد خاں جونیجو کے برعکس جو جنیوا معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بے تاب تھے، ضیا ء الحق روسی فوجوں کی واپسی سے پہلے کابل میں ایک ایسی حکومت کے آرزومند تھے ، جو امن اور استحکام کی کچھ ضمانت دے سکے۔ آخری دنوں میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ ضیا ء الحق سے ملاقات کرنے والا ہر امریکی وفد ناراض لوٹتا۔ امریکہ ہی تھا ، جس نے ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور بعد میں آنے والی حکومتوں کو تحقیقات سے روکے رکھّا ورنہ کوئی بھی ڈھنگ کا تھانیدار دو ہفتے کی تفتیش کے بعد مجرموں کو ہتھکڑیاں پہنا دیتا۔ترقی پسند دانشور تاثر دیتے ہیں کہ افغان جنگ ، جنرل نے امریکیوں کی خوشنودی کے لیے آغاز کی ۔ تاریخی حقائق تردید کر تے ہیں ۔ سانحہ 17اگست کے اگلے ہی دن لندن ٹائمز کے لیے قومی سلامتی کیلئے صدر ریگن کے مشیر زبگنیو برزنسکی نے لکھا"Genrel Zia Ul Haq was the only architect of soviet military and political defeat in Afghanistan" (جنرل ضیا ء الحق افغانستان میں سویت یونین کی فوجی اور سیاسی شکست کے واحد معمار تھے)۔ افغان جہاد نے پاکستان کو غیر مستحکم کر دیامگر شکست و ریخت کے ہنگام جنرل تو اس دنیا میں تھے ہی نہیں ۔ وہ زندہ سلامت ہوتے اور اپنے فرائض ادا نہ کرسکتے تو موردِالزام ٹہرائے جا سکتے۔ کیا نواز شریف دانا ثابت ہوئے ، جنہوں نے جنرل کی بجائے جو مقبول افغان جماعتوں کا اتحا دقائم کرنے کے آرزومند تھے، امریکی آرزو پر کمزور افغان لیڈروں کو اقتدار سونپ دیا۔ کیا بے نظیرنے دانش مندی کا ثبوت دیا کہ امریکہ کے ناپسندیدہ گلبدین حکمت یار کا راستہ روکنے کے لیے طالبان کی بھر پور سر پرستی کی جو عصری حقائق سے یکسر ناآشنا تھے۔ جنہوں نے پاکستانی ریاست کی تقدیس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جوجانتے نہیں تھے کہ خدا کی زمین پر خدائی فوجداروں کی مہلتِ عمل محدود ہوتی ہے ۔ ضیا ء الحق کی افغان پالیسی کیا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی دخترِ نیک اخترکی پالیسی سے مختلف تھی؟ بھٹو زندہ رہتے اور سویت یونین کی سفاک سرخ افواج افغانستان میں در آتیں تو وہ کیا کرتے؟ ممکن تھا "جہاد"کی بجائے " حریت"پر زور دیتے ۔ بھارت اور کشمیر کے بارے میں بھٹو اتنے ہی جذباتی تھے ، جتنے کہ جنرل محمد ضیا ء الحق ۔ بھٹو ان حالات میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پروان چڑھانے سے زیادہ کیا کرتے اور جنرل محمد ضیا ء الحق نے یہی کیا۔ ممکن ہے کہ فصیح بھٹو کچھ زیادہ مالی امداد حاصل کرپاتے۔ کوئی بھی پاکستانی حکمران ان حالات میں بھارت کے ساتھ جنگ سے گریز کرتا اور جنرل نے بھی یہی کیا۔ فرض کیجیے بھٹو ہوتے تو کیا وہ مشرقی پنجاب اور کشمیر میں بھارت کو زچ کرنے کا موقعہ ہاتھ سے جانے دیتے ؟ 1965ء میں آپریشن جبرالٹر کے موقع پر انہوں نے کیا کیا تھا۔ بھارت کے ساتھ ہزار سالہ جنگ کا نعرہ کس نے لگا یا تھا۔ 1971ء میں "دما دم مست قلندر"کس نے کہا تھا اور یہ اعلان کس نے فرمایا تھا "مائی اندرا میں آرہا ہوں"کشمیر پردونوں کے طرزِ عمل میں کیا فرق تھا؟
البتہ جنرل مشرف مختلف تھے۔ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں سے وہ دستبردار ہو گئے۔ کابل میں پاکستان دشمن حکومت قائم ہونے دی ۔ کشمیری حریت پسندوں کی حوصلہ شکنی کی اور بھارت نواز عناصر کی دلجوئی۔ مشرف نے ایک ٹیلی فون پر امریکیوں کے تمام مطالبات مان لیے اور خود اپنے کسی رفیق سے بھی مشورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ مشرف نے امریکیوں کو تاثر دیا کہ وہ ان کے وفادار کارندے ہیں اور امریکی یہودیوں کے اجتماع میں گئے اگرچہ بعد میں درپردہ وہ مذہبی انتہا پسندوں کی مدد بھی کرتے رہے کہ امریکیوں سے بہتر سودے بازی کر سکیں مگر ترقی پسند انہیں جنون کے فروغ کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ جنرل محمد ضیا ء الحق نے بھٹو کی طرح بھارت کو ٹھکانے پر رکھا ۔ بن بلائے کرکٹ میچ دیکھنے بھارت گئے اوروزیر اعظم راجیو گاندھی سے انہوں نے کہا: میں ایک سپاہی ہوں اور جانتاہوں کہ پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے گولہ بارود جاری کیا جا چکا۔ اگر ایسا ہوا تو افغانستان میں الجھا ہوا پاکستان اپنا آخری حربہ استعمال کرے گا ۔ تاریخ میں دہلی، کلکتہ اور بمبئی ایسے شہروں کے فقط نام رہ جائیں گے۔اس خیرہ کن شجاعت سے ، برّصغیر کو انہوں نے بربادی سے بچا لیا۔ایسے آدمی پر جو سویت یونین اور بھارت کے مقابلے میں ایک عشرے تک ڈٹ کر کھڑا رہا ، بزدلی کا الزام کس قدر مضحکہ خیز ہے ۔
جنرل نے مذہبی طبقے کے کردار کا ادراک کرنے میں ہولناک غلطی کا ارتکاب کیا۔ وہ سمجھ نہ سکے کہ اقتدار کا خون منہ کو لگ جائے تو یہ کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ ہر فوجی حکمران کی طرح اپنے اقتدار کے لیے انہوں نے سارے ناروا ہتھکنڈے استعمال کئے ۔ وہ عوامی احساسات کی قوت سے ناآشنا تھے ۔ جانتے نہیں تھے کہ برقرار رہنے والی عظیم فتوحات صرف قومی تائید سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ اس سے بڑا لیکن کوئی جھوٹ نہیں کہ انہوں نے امریکیوں کے کہنے پر اقتدار سنبھالا یا وہ اس کے آلہ ء کار تھے۔ صرف سویت یونین پر ان کا اتفاقِ رائے تھا اور کسی چیز پر نہیں ۔ بہت مطالعہ کرنے، دوسروں کی بہت سننے والے وہ ایک عبادت گزار، سنجیدہ ، عاجز اور منکسر آدمی تھے، ایک عظیم محبِ وطن ۔ ابھی وقت نہیں آیاکہ تاریخ ذو الفقار علی بھٹو، جنرل محمد ضیا ء الحق اور جنرل مشرف کے بارے میں آخری فیصلہ صادر کرے لیکن جب وہ وقت آیا تو مورخ نام نہاد دانشوروں کو ہرگز اہمیت نہ دے گا، اعتدال جنہیں چھو کر بھی نہیں گزرا اور جو اپنی جبلتوں کے اسیر ہیں۔

تازہ ترین