ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور ضیاء الحق مرحوم دونوں اپنے اقتدار کے ایام میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز نیویارک آئے دونوں کی آمد اور کارروائی کا ریکارڈ اقوام متحدہ میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کے حوالے سے دونوں ہی کے بارے میں دو واقعات آج بھی پاکستان میں زبان زد عام ہیں جب کہ ان دونوں واقعات کی حقیقت اس سے بہت مختلف ہے جو مشہور کیا گیا۔ دونوں واقعات پاکستان کی سیاست اور تاریخ کا حصہ ہیں مگر آج تک اقتدار کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے جان بوجھ کر مسخ کئے گئے اور حقائق کو درست نہیں کیا گیا۔ ایک بات ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کے بارے میں مشہور ہے کہ جب مشرقی پاکستان بحران اور بھارتی حملے کے ہاتھوں بنگلہ دیش میں تبدیل ہورہا تھا اور بھارتی فوجیں بنگلہ دیشی مکتی باہنی کے تعاون سے پاکستانی فوج کے گھیراؤ اور قبضہ کا عمل جاری رکھے ہوئے تھیں تو بھٹو مرحوم یحییٰ حکومت کے وزیر اور نمائندہ کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کارروائی میں شریک تھے اور سلامتی کونسل مشرقی پاکستان پر بھارتی حملے سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کررہی تھی تو کہنے والوں کا کہنا ہے کہ پولینڈ نے ایک مسودہ قرارداد پیش کیا جو سقوط مشرقی پاکستان کے بجائے پاک، بھارت جنگ بند کرکے مشرقی پاکستان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی تجویز لئے ہوئے تھا لیکن بھٹو مرحوم نے سلامتی کونسل میں جوشیلی تقریر کرتے ہوئے وہ مسودہ قرارداد پھاڑ دیا اور احتجاجاً سلامتی کونسل سے واک آؤٹ کیا۔ جس کے بعد امن اور سیاسی حل کی بات آگے نہ بڑھ سکی پاکستان ٹوٹ گیا۔ 90 ہزار پاکستانی فوجی ہتھیار ڈال کر بھارتی قید میں چلے گئے اور پولینڈ کی قرارداد کا مسودہ پھاڑ نے والے بھٹو مرحوم تنقید و مخالفت کا نشانہ بنے۔ گزشتہ 35 سالوں سے صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی یہ عمارت، جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور یہاں کے ماحول سے میری آنکھیں بہت مانوس ہوچکی ہیں اور اقوام متحدہ کے نظام اور ریکارڈ سے واقفیت بھی بڑی حد تک ہے۔ اگر کوئی رکن ملک باقاعدہ کوئی تحریری مسودہ قرارداد، بیان یا موقف پیش کرتا ہے تو وہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہوجاتا ہے۔ خواہ وہ مسودہ بعد میں واپس لے لیا جائے یا اس میں ترمیم یا تنسیخ کی جائے وہ پہلا مسودہ بھی ریکارڈ میں موجود ہی رہتا ہے۔ میں نے اقوام متحدہ کا ریکارڈ بڑی تفصیل سے دیکھا اور مشرقی پاکستان کے حوالے سے پولینڈ کی قرارداد کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر آج تک سلامتی کونسل کے ریکارڈ سے 1971ء میں پولینڈ کی قرارداد کا مسودہ نہیں ملا۔ اب تو انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نے ریکارڈ اور دستاویزات کی دنیا کو ہر ایک کی دسترس میں دے دیا ہے۔ آپ بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں پولینڈ کی اُس تاریخی قرارداد کا مسودہ تلاش کریں جو مشرقی پاکستان میں پاک بھارت جنگ کو روک کر مسئلے کا حل پیش کررہا تھا اور بھٹو مرحوم نے اُسے پھاڑ کر احتجاجی واک آؤٹ کرکے ختم کرڈالا۔ اب آیئے اُس حقیقت کی طرف جو اس واقعے کے چشم دید گواہ اور سینئر پاکستانی صحافی اے پی پی کے افتخار علی چوہدری بتاتے ہیں۔ افتخار علی اُس وقت سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات تھے اُن کا کہنا ہے کہ بھٹو مرحوم نے سلامتی کونسل میں جو کاغذات پھاڑے تھے وہ اُن کی اپنی تقریر کے نوٹس تھے کیوں کہ جب وہ سلامتی کونسل سے احتجاجاً واک آؤٹ کرکے نکلے تو افتخار علی صاحب نے مرحوم بھٹو سے کہا کہ اُن کی تقریر کا مسودہ مل جائے تو وہ اس کی خبر بناکر بھیج دیں جواب میں بھٹو مرحوم نے کہا کہ انہوں نے تقریر لکھنے کی بجائے ہاتھ سے نوٹس لکھے ہوئے تھے اور وہ انہوں نے سلامتی کونسل کے ہال میں پھاڑ کر پھینک دیئے۔ اس پر افتخار علی نے سلامتی کونسل کے ہال میں جاکر وہ پھاڑے گئے نوٹس کے ٹکڑے اٹھائے اور انہیں جوڑ کر پڑھا اور خبر بنا کر بھیجی اگر افتخار علی صاحب کو پتہ ہوتا کہ یہ نوٹس پاکستان تک پہنچتے پہنچتے پولینڈ کی قرارداد کا روپ دھارلیں گے تو وہ بھٹو مرحوم کے تحریر کردہ نوٹس محفوظ کرلیتے۔ افتخار علی صاحب آج بھی نیویارک میں رہتے ہیں اور آج بھی اُن کا موقف یہی ہے جو وہ میرے علاوہ اپنے دیگر دوستوں کو بھی بتاچکے ہیں۔ دراصل یحییٰ خان کی فوجی حکومت پاکستان کی شکست کی ذمہ داری خود لینے کی بجائے سویلین ذوالفقار علی بھٹو پر بھی کچھ الزام رکھنے کے لئے پولینڈ کی قرارداد کا شاخسانہ لے آئی تھی۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں تو آج بھی تلاش کریں تو نہیں ملتی حالانکہ اقوام متحدہ ہر تجویز، مسودہ قرارداد کو نمبر بھی الاٹ کرتی ہے تاکہ گمشدگی نہ ہو اور تلاش میں آسانی ہو۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟ ایک اور تاریخی اور غلط طور پر مشہور واقعہ مرحوم ضیاء الحق کے دورہٴ اقوام متحدہ کا ہے جس کا عینی شاہد میں بھی ہوں جب ضیاء الحق مرحوم مسلم دنیا یعنیOIC کی نمائندگی کے ساتھ اقوام متحدہ آئے تو انہوں نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار قرآن کریم کی تلاوت کرائی اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے انہوں نے خطاب کیا۔ پاکستان کے عوام نے بھی پاکستان ٹیلی ویژن پر اینکرپرسن کے اعلان کے ساتھ ہی یہ منظر دیکھا کہ اقوام متحدہ کے پروٹوکول کا اعلان ہوا کہ صدر پاکستان ضیاء الحق خطاب کریں گے اور ضیاء الحق جنرل اسمبلی کے اسٹیج پر کرسی سے اٹھ کر ڈائس پرآئے اور خاموش کھڑے ہوگئے پاکستانی عوام نے پی ٹی وی کے ذریعے تلاوت قرآن سنی اور تلاوت کے ختم ہوتے ہی ضیاء الحق نے نحمدہ ونصلی کہہ کر اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ پاکستان کے عوام اور مسلم ممالک کے عوام خوش تھے کہ اقوام متحدہ کے ایوان میں ضیاء الحق مرحوم نے تلاوت قرآن کی آواز سنوائی پاکستان میں مرحوم ضیاء الحق کو اس حوالے سے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی جس کی انہیں ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا دینے کے بعد بڑی ضرورت تھی۔ آج بھی بعض لوگ اس حوالے سے ضیاء الحق مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اب آیئے اصل حقائق کی جانب جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش آئے اور اقوام متحدہ کے حکام نے کیا موقف اور کیوں اختیار کیا تھا۔ دراصل پاکستان سے چلتے وقت مرحوم ضیاء الحق یہ کہہ کر آئے تھے کہ وہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار تلاوت کرائیں گے اور پھر خطاب کریں گے۔ وہ اپنے ساتھ ایک قاری صاحب کو بھی لائے تھے لیکن اقوام متحدہ کے حکام نے تلاوت کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ ایک سیاسی، سیکولر عالمی ادارہ ہے اگر قرآن کی تلاوت کے لئے قاری صاحب کو اجازت دی گئی تو پھرعیسائی، یہودی، ہندو، بدھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اپنی اپنی مذہبی کتابوں اور تعلیمات کو اقوام متحدہ کے ڈائس اور پلیٹ فارم سے پرچار کا مطالبہ کریں گے ہر تقریر سے پہلے ڈائس پر کسی مذہب کا رہنما کھڑا ملے گا لہٰذا اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اقوام متحدہ کے حکام نے یہ اشارہ بھی دیا کہ مرحوم ضیاء الحق اپنی تقریر کا آغاز جس طرح چاہیں کرلیں یعنی اگر وہ خود ڈائس پر آکر تلاوت کرکے اپنے خطاب کا آغاز کرلیں تو یہ اُن کی تقریر کا حصہ ہوگا اور تلاوت بھی ہوجائے گی مگر ضیاء الحق کے مشیران مصر تھے کہ قاری صاحب کی تلاوت ہوگی معاملہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل تک پہنچا تو اُن کا موقف بھی وہی رہا لہٰذا کسی ذہین پاکستانی مشیر نے یہ حل نکالا کہ جنرل اسمبلی کی بالائی منزل پر ٹی وی، ریڈیو براہ راست نشریات اور کوریج کے لئے بنائے گئے ایک بوتھ میں قاری صاحب کو لے جاکر وہاں سے پاکستانی ٹی وی کی براہ راست نشریات میں تلاوت سنوادی جائے اور مرحوم ضیاء الحق ڈائس پر خاموش کھڑے رہیں وہاں لگائی گئی ایک بتی کے بجھنے کا انتظار خاموشی سے کریں اور بتی بجھتے ہی وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا خطاب شروع کردیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ریکارڈ میں سے ضیاء الحق کے اس خطاب کی فلم نکلواکر دیکھا جاسکتا ہے کہ حقیقت میں پاکستانی عوام کو وہ تلاوت سنائی گئی جو اقوام متحدہ کے ایک چھوٹے بوتھ سے پاکستان نشر ہوئی مگر اقوام متحدہ کے ایوانوں میں یہ کسی نے نہیں سنی۔ الله بھلا کرے کسی محمد اویس فاروقی کا جنہوں نے یہ پُرانی ویڈیو پی ٹی وی کے اینکر پرسن کی آواز اور ضیاء الحق کی اقوام متحدہ میں موجودگی یوٹیوب پر GEN ZIA UL HAQ STARTS HIS SPEECH WITH QURAN,S VERSUS 1ST TIME IN HISTORY. کے عنوان سے ڈاؤن لوڈ کررکھی ہے۔ قارئین خود یہ ویڈیو دیکھیں اور خود سے سوال کریں۔ (1) تلاوت کی آواز ضرور مگر قاری صاحب ڈائس پر کیوں نہیں نظر آئے۔ (2) پروٹوکول کے اعلان کے ساتھ ضیاء الحق مرحوم کرسی سے اٹھ کر ڈائس پر آکر تقریر کے آغاز کی بجائے خاموش کھڑے کیوں رہے؟ اور مائیک کے ساتھ لگی بتی کے بجھنے کا انتظار کیوں؟ اقوام متحدہ کے ہال میں موجود سفارت کاروں اور سامعین کی کیا کیفیت ہے؟ مغربی میڈیا میں اس بارے میں تو شور اٹھ جاتا مگر نہ کچھ چھپا نہ ہی کوئی حمایت یا مخالفت میں شور اٹھا؟ یہ بھی درست نہیں کہ یہ مذکورہ تلاوت تاریخ کی ”پہلی“ تلاوت تھی۔ ایران میں انقلابی خمینی حکومت کے قیام کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر سے قبل خود مختصر تلاوت کرکے آغاز تقریر کیا تھا جو مرحوم ضیاء الحق سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حقائق تاریخ اور قوم کی امانت ہوتے ہیں۔