حیدرآباد( رپورٹ /اے بی سومرو) ادارہ شماریات نے چھٹی مردم شماری وخانہ شماری کے عبوری نتائج مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کردیئے‘ صوبہ سندھ کی آبادی 1کروڑ 74 لاکھ 46ہزار 158 نفوس کے اضافے سے 4کروڑ 78لاکھ 86ہزار51تک جاپہنچی ہے‘ اوسط سندھ کے ہر گھر میں 5سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں‘ جبکہ سندھ میں آبادی میں سالانہ اضافے کا تناسب 2عشاریہ 41 فیصدہے۔
ہر گھر میں 5سے زائد افراد رہائش پذیر، سالانہ 2.41فیصدبڑھوتری،گھر وں کی تعداد 85لاکھ85ہزار 610ہے،مردوں کی تعداد 2کروڑ 49لاکھ 27ہزار 46اور خواتین کی تعداد 2کروڑ 29لاکھ 56ہزار478ہے۔تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات کی جانب سے ملک بھر میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے عبوری نتائج جمعہ کو مشترکہ مفادات کونسل ( سی سی آئی) میں پیش کردیئے ہیں‘ جس میں پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت فاٹا و اسلام آباد میں رہنے والی آبادی کی مردم شماری کے اعداد و شمار شامل کئے گئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے صوبہ سندھ کے 6ڈویژن اوراس میں شامل29اضلاع اورا س کے 138کے قریب تحصیلوں اور ان کے وارڈز میں مردم شماری کی گئی‘ مردم شماری اورخانہ شماری کے دوران ضلع حیدرآباد میں متعدد افراد نے خانہ شماری اور مردم شماری کا عملہ نہ پہنچنے اور عدم اندراج کی شکایات بھی کی تھیں‘ جن کا ذرائع کے مطابق تاحال تدارک نہیں کیا گیا ہے۔2017ءمیں محکمہ شماریات کی جانب سے کی گئی خانہ شماری کے مطابق سندھ میں گھر وں کی تعداد 85لاکھ85ہزار 610ہے‘ جس میں دیہات 41لاکھ 85ہزار 828اور شہر 43لاکھ 99ہزار 782 گھروں پر مشتمل ہیں ۔
اعلامیہ کے مطابق 1998ءکی مردم شماری میں سندھ کی شہری آبادی 1کروڑ 47لاکھ 44ہزار 436اور دیہات کی 1کروڑ 56لاکھ 95ہزار457آبادی تھی۔ رواں برس ہونے والے مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق صوبہ سندھ میں مردوں کی تعداد 2کروڑ 49لاکھ 27ہزار 46اور خواتین کی تعداد 2کروڑ 29لاکھ 56ہزار478ہے‘ اس حساب سے کل آبادی 4کروڑ 78لاکھ 86ہزار51ہے‘ جو کہ 1998ءمیں 3کروڑ 43لاکھ 9ہزار 893تھی‘ جس میں19برسوں کے دوران 1کروڑ 74لاکھ 46ہزار 158کا اضافہ ہوا ہے اور آبادی میں سالانہ اضافے کا تناسب 2عشاریہ 41 ہے۔ دوسری جانب محکمہ شماریات کی جانب سے سی سی آئی کو پیش کردہ اعداد شمار کے مطابق سندھ میں گھروں کی جو تعداد پیش کی گئی ہے‘اور جو مردمشماری کے اعداد وشمار رپورٹ کئے گئے ہیں اس حساب سے صوبہ سندھ کے ہر گھر میں 5عشاریہ57سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں‘ جبکہ عارضی نتائج میں تعلیم یافتہ‘ گھر میں سہولیات سمیت دیگر تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔