• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں 19سال کی تاخیر سے ہونے والی چھٹی مردم شماری کے جو ابتدائی نتائج محکمہ شماریات کی جانب سے گزشتہ روز وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیے گئے، ان کے مطابق پاکستانی قوم آج تقریباً پونے اکیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔1998ء سے 2017ء تک آبادی میں اوسطاً 2.4 فی صد سالانہ اضافہ ہوا ۔ پنجاب اور سندھ میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح میں کمی ہوئی جبکہ خیبرپختونخوا، فاٹا اور بلوچستان میں یہ شرح بڑھی ہے۔ کل آبادی میں مقامی لوگوں کے ساتھ رہنے والے افغان مہاجرین اور دیگر غیر ملکی بھی شامل ہیں جن کے ساتھ آبادی میں دو عشروں میں مجموعی اضافہ57 فی صد بنتا ہے ۔ ملک میں مردوں اور عورتوں کی آبادی کا تناسب تقریباً برابر ہے۔مردوں کی تعداد عورتوں سے صرف اکیاون لاکھ زیادہ ہے۔ گیارہ کروڑ سے زیادہ کی آبادی کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا صوبہ حسب سابق پنجاب ہے جبکہ پونے پانچ کروڑ نفوس پر مشتمل صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔خیبر پختونخوا کی آبادی پونے چار کروڑ اور بلوچستان کی سوا کروڑ کے قریب ہے۔دیہی اور شہری کا تناسب ہر صوبے میں الگ الگ ہے جبکہ پورے ملک کی بنیاد پر شہری آبادی کا تناسب 36 فی صد سے کچھ زیادہ ہے۔مردم شماری کے ان ابتدائی نتائج میں عمر، تعلیم اور دیگر حوالوں سے جمع کی جانے والی معلومات شامل نہیں ہیں تاہم ان کی ترتیب و تدوین جاری ہے اور ان کے سامنے آنے کے بعد ملک کی مجموعی افرادی قوت اور اس کی صلاحیتوں کے حوالے سے مکمل صورت حال واضح ہوسکے گی۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ اس کے انسانی وسائل ہوتے ہیں۔ دنیا میں ایسے متعدد انتہائی ترقی یافتہ ملک موجود ہیں جن کے پاس قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن انہوں نے محض اپنی قومی ضروریات کے مطابق اپنی افرادی قوت کی بہترین تعلیم و تربیت کا اہتمام کرکے سائنس و ٹیکنالوجی، صنعت و حرفت اور تعلیم و تجارت سمیت زندگی کے ہر میدان میں ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔ہم اہل پاکستان انتہائی خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انسانی اور قدرتی دونوں طرح کے وسائل پوری کشادہ دلی کے ساتھ عطا کیے ہیں۔ اگر ہم معیاری تعلیم و تربیت اور اچھے اخلاقی کردار کے فروغ کے ذریعے اپنے انسانی وسائل کوا پنی قومی ضروریات کے مطابق ترقی دیں تو قدرتی وسائل سے بطریق احسن کام لینے کے لائق ہوسکتے ہیں۔ مردم شماری کے ان ابتدائی نتائج سے واضح ہے کہ ہماری آبادی میں صنفی توازن ہے جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میںآج مردوں اور عورتوں کی آبادی میں عدم توازن ایک بڑامسئلہ بنا ہوا ہے جس سے نہایت پریشان کن سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ہماری آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بھی عمر رسیدہ افراد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے جس کی وجہ سے ہم ان شاء اللہ مستقبل میں ان پریشانیوں سے محفوظ رہیں گے جس کا سامنا پوری مغربی دنیا کو ہے جہاں آبادی میں بوڑھوں کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے چنانچہ ان ملکوں کے پالیسی ساز مستقبل کے حوالے سے سخت فکرمندی کا شکار ہیں۔ یہ صورت حال بالعموم آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو اس خوف سے اپنائی گئیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے وسائل زندگی کم پڑجائیں گے لیکن یہ فلسفہ وقت کی کسوٹی پر غلط ثابت ہواہے۔ آزادی کے بعد موجودہ پاکستان کی آبادی چار کروڑ سے بھی کم تھی لیکن آج پانچ گنا ہوجانے کے باوجود لوگوںکی معاشی حالت مجموعی طور پر ستر سال پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ لہٰذا مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں ہمیں اپنے انسانی وسائل کی ترقی کے لیے قومی ضروریات کے مطابق بہترین منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ دنیا میںکامیابی و کامرانی کی یہی اصل کلید ہے جبکہ ہر دس سال بعد مردم شماری کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ انسانی وسائل کے حوالے سے مکمل معلومات دستیاب رہیں اور ان کے مطابق ترقیاتی منصوبے زیر عمل لائے جاسکیں۔

تازہ ترین