• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکہ معظمہ (1) ....نقش خیال…عرفان صدیقی

گاڑی فراٹے بھرتی مکہ معظمہ کی طرف جا رہی تھی۔ ائر کنڈیشنر چل رہا تھا اور ہم ٹھنڈی فضا میں، احرام بندھے ، نرم و گداز سیٹوں پر نیم دراز تھے۔ دور دہکتی دھوپ میں کوئلے جیسے سیاہ پتھروں میں راستہ بناتی دو اونٹنیاں چل رہی تھیں۔ دھوپ چمکی ہوئی تھی اور حد نظر تک کوئی گھنا سایہ دار درخت دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ غار ثور سے نکلنے کے بعد وہ چار ہو گئے تھے۔ لہو کے پیاسے اہل قریش بھٹکتے پھر رہے تھے ۔ محمداور اس کے رفیق سفر کو ڈھونڈ نکالنے والے کے لئے ایک سو سرخ اونٹوں کا انعام مقرر ہو چکا تھا۔ قبیلہ بنو مدلج کے سردار سراقہ بن مالک کو خبر ہوئی کہ محمد کا مختصر قافلہ ایک مقام پر دیکھا گیا ہے۔ اس نے گھوڑے پہ زین کسی ،نیزہ سنبھالا اور آن کی آن میں ہوا ہو گیا۔ صدیق اکبر  کی نگاہ دور ایک گھڑ سوار پر پڑی۔ پریشان ہوئے۔ قافلہ سالار گویا ہوئے۔ ”ڈرو مت ۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“
سراقہ بن مالک نے قافلے کو آلیا ۔ وہ تیزی سے آگے بڑھنا چاہتا تھا کہ گھوڑے کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔”اس کے دل میں شدید خوف نے کروٹ لی۔ آواز دی ”اے محمد! مجھے اس عذاب سے نکالئے ، میں واپس جانا چاہتا ہوں ”حضور نے دعا فرمائی۔ سراقہ نے کہا ۔“ مجھے ایک پروانہ امن عطا فرمایئے جو آپ کے اور میرے درمیان نشانی رہے۔“ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر صدیق اکبر کے غلام نے چند الفاظ لکھے۔ سراقہ نہال ہو کر واپس چلا گیا… ابھی وہ چند قدم ہی گیا تھا کہ حضور نے آواز دی ”سراقہ!اس دن تمہیں کیسا لگے گا جس دن تمہارے ہاتھوں میں کسری ٰ بن ہرمز کے کنگن ہوں گے؟“ سراقہ کے دل میں بدلتی ہوئی رت کی ہوائیں چلنے لگی تھیں لیکن وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھا کہ کسی دن محمد اتنا طاقت ور ہو جائے گا کہ دنیا کی سپر پاور اس کے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں گی اور کسریٰ بن ہرمز کے کنگن میری کلائیوں کی زینت بنیں گے۔ وہ مسکرایا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی ۔ مکہ واپس پہنچ کر اس نے قریش سے کہا ۔” اس طرف جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں چپہ چپہ چھان آیا ہوں“
گاڑی کے شفاف شیشوں سے جھانکتے ہوئے سنگلاخ سر زمین کے نشیب و فراز دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ بنو مدلج کے سردار سراقہ بن مالک کا گھوڑا کس مقام پر ہو گا جب سرور کونین کی زبان مبارک سے ایک بشارت ہوئی اور بری نیت سے اپنے تعاقب میں آنے والے اک بدو کو مالا مال کر گئی! بعض ساعتیں کتنی سعید ہوتی ہیں کہ یکایک کسی انسان کا مقدر بدل کے رکھ دیتی ہیں؟ سراقہ بن مالک مکہ واپس آتے ہوئے کیا سوچتا رہا ہو گا۔
مکہ، طائف اور حنین کی فتوحات کے بعد حضور جعرانہ کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک شخص تمام رکاوٹیں توڑتا، دندناتا ہوا آگے بڑھا۔ انصار کے ایک دستے نے اسے روکا لیکن وہ بڑھتا چلا گیا۔ حضور اونٹنی پہ سوار تھے۔ بدو نے رکاب تھامی اور بولا ” اے اللہ کے رسول !میں سراقہ بن مالک ہوں، یہ ہے آپ کا عطا کردہ پروانہ “ حضور نے فرمایا ”ہاں آج کا دن مہربانی اور احسان کرنے کا دن ہے۔ وفا نبھانے کا دن ہے۔ میرے قریب آؤ سراقہ۔“ اور پھر ایک دست شفقت سراقہ کے دونوں جہان منور کر گیا۔ اب وہ صحابی رسول تھا اور سپاہ اسلام کا صف شکن جانباز ، حضور نے انتقال فرمایا ، خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رخصت ہوئے ۔ یہ امیر المومنین عمر ابن الخطاب کا عہد تھا جب کسریٰ کی سلطنت نگوں ہوئی۔ کسریٰ ٰ بن ہرمز کے کنگن ، اس کی طلائی پیٹی اور تاج مدینہ منورہ پہنچے۔ لمبی عمر پانے والا سراقہ شاید نبی کی بشارت بھول چکا تھا۔ مال غنیمت خلیفتہ المسلمین کے سامنے لایا گیا۔ کسی نے بتایا کہ یہ کسریٰ بن ہرمز کے کنگن ہیں۔ امیر المومنین کی آنکھیں بھر آئیں،بولے ”سراقہ بن مالک کہاں ہے ؟ اسے ڈھونڈ کر لاؤ ۔“ سراقہ کو لایا گیا۔ عمر بولے ”میرے قریب آؤ سراقہ ۔آج میرے نبی کی بشارت پوری ہونے کا دن ہے۔ اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ۔ امیر المومنین  نے کنگن اس کی کلائیوں میں ڈال دیئے۔ سو سرخ اونٹوں کے لالچ میں محمد کے تعاقب میں نکل کھڑے ہونے والے بدو کو کیا خبر تھی کہ نبی رحمت کی ایک نگاہ اسے کن رفعتوں پر سرفراز کرنے والی ہے۔
ہماری گاڑی کی رفتار خاصی تیز تھی۔ کشادہ ہموار شاہراہ سے دور پتھروں ،گھاٹیوں ، پہاڑیوں اور ریت کے ٹیلوں کے بیچوں بیچ چلنے والے قافلے کو ہم سے بہت پیچھے رہ جانا چاہئے تھا لیکن وہ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ۔میں مدینہ سے مکہ جا رہا تھا اور یہ قافلہ نور مکہ سے مدینہ کو سفر کر رہا تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ مجھ سے دور نہیں ہو رہا تھا ۔ میں جب بھی شیشے سے باہر جھانکتا وہ مجھے صاف دکھائی دیتا۔ سید الانبیاء ، صدیق اکبر ان کے غلام اور ایک رہبر پر مشتمل یہ چار رکنی کارواں بھی کیا کارواں تھا کہ تاریخ انسانی کو عظیم ترین انقلاب سے ہمکنار کر گیا۔
مکہ کی حدود میں داخل ہوتے ہوئے وہ قافلہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ۔ ایک نئی پر جلال بارگاہ کا دروازہ کھل رہا تھا۔ کعبتہ اللہ میں ایک عجیب طرح کا شکوہ ہے۔ سیاہ مخملیں غلاف میں لپٹی یہ عمارت وہ مرکز ثقل ہے جس کی طرف ساری دنیا کے مسلمان کھنچے چلے آتے ہیں ۔ اس پہ نگاہ پڑتے ہی روح میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوتا ہے۔ بندگی کا احساس لہو کی ایک ایک بوند میں کسمسانے لگتا ہے۔ صنم آشنا دل رکھنے والوں کی جبینوں میں بھی ہزاروں سجدے مچلنے لگتے ہیں۔ بڑے بڑے تاجداروں کے سر خود بخود ختم ہونے لگتے ہیں۔ اپنی فرد عمل کے اوراق کھلنے لگتے ہیں۔ اور دعاؤں کا باب فضیلت وا ہو جاتا ہے۔
اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی میں دو گھنٹے لگ گئے۔ حرم لبالب بھر اتھا ۔ عشا کی نماز سے پہلے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے میں نے کعبتہ اللہ پر نظر ڈالی۔ روشنیوں سے بنائے ہوئے صحن حرم کے بیچوں بیچ اللہ کے سیاہ پوش گھر کا جاہ و جلال ہولے ہولے شفقت ،دلبری اور دلداری میں بدلنے لگا۔ اس کی مہکار حوصلہ دینے لگی ۔مجھے یوں محسوس ہوا کہ دست عطا پھیلا ہوا ہے اور میزاب رحمت سے پکار اٹھ رہی ہے۔ ”مانگ کیا مانگتا ہے “ اے رب کریم ! ہم نے کیا مانگنا ہے ؟ ہم تو دعا کا سلیقہ بھی گنوا بیٹھے ہیں؟ مانگنے کے آداب سے بھی ناآشنا ہیں؟ تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ہماری دھڑکنوں میں بسی ان تمناؤں سے بھی واقف ہے جو لفظوں میں نہیں ڈھل سکتیں۔ ہم یہاں تک آ سکتے تھے۔ آگئے ہیں، باقی کام تمہارا ہے ۔“
رحمتیں بھیج، عنایات کی ارزانی کر
ہم کو مہمان بلایا ہے تو مہمانی کر
علماء ، حضور انور کی ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہیں ” میری مسجد ( مسجد نبوی) میں ایک نماز دیگر مساجد میں ہزار نماز سے بہتر ہے۔ البتہ مسجد الحرام کی ایک نماز ایک لاکھ نمازوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ “
بے کراں رحمتیں! بے حدو حساب عنایات! پر ایک میرے دوست کا کہنا ہے کہ اس حساب سے مسجد الحرام کی ایک نماز کی فضیلت ، پچپن سال چھ ماہ بیس دن کی نمازوں کے برابر بنتی ہے اور ایک دن کی پانچ نمازوں کا ثواب دو سو ستر سال نو مہینے دس دن کی نمازوں کے برابر ہے۔ “
نبی کے فرمان کی روح ، مسجد الحرام کی فضیلت اور اس کے درجہ و مقام کو واضح کرنا ہے لیکن ہم اعداد وشمار کی بھول بھلیوں کو ہی حاصل رکوع و سجود سمجھنے لگتے ہیں۔ خانہ کعبہ کے روبرو مقدار ثواب کے بہی کھاتے اور روضہ رسول کے سامنے عرضیوں کی پوٹلیاں ،دور سے آئے مسافروں کی منزل کھوٹی کر دیتی ہیں۔ لذت و کیف کی روح پرور ساعتیں ، لالچ اور خواہش کے آشوب میں گم ہو کر ساری سرشاری گنوا بیٹھتی ہیں۔ لیکن ہم انسان ہیں اور یہ سب کچھ ہماری فطرت کا حصہ ہے۔
مسجد الحرام سے باہر نکلتے ہی مجھے وہ قافلہ پھر سے یاد آنے لگا جسے میں شاہراہ مدینہ کے کنارے چھوڑ آیا تھا ۔ اس بستی پر اترنے والی وہ شب کس قیامت کی شب ہو گی جب میرے حضور ، صدیق اکبر  کا بازو تھامے یہاں سے نکلے ہو ں گے ؟ (جاری)
تازہ ترین