• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی لبنان میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر، اسرائیلی حملوں سے انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث اسپتالوں، طبی مراکز اور طبی عملے کو شدید نقصان پہنچنے سے صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن حملوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو بھی جنم دیا ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ ایک ماہ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں 53 طبی کارکن جاں بحق، 87 ایمبولینسیں اور طبی مراکز تباہ جبکہ 5 اسپتال بند ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ 

امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی نمائندہ لونا حماد کا کہنا ہے کہ حملوں اور جبری انخلاء کے احکامات نے مریضوں کی علاج تک رسائی محدود کر دی ہے۔

مراکزِ صحت کی تباہی سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی

2 مارچ 2026ء کو حزب اللّٰہ کے حملے کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فوجی کارروائیاں تیز کر دی تھیں، اسرائیلی حملوں اور انخلاء کے احکامات کے نتیجے میں تقریباً 1.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں، حزب اللّٰہ کی زیادہ حمایت زیادہ والے علاقے جنوبی لبنان اور بیروت خاص طور پر نشانہ بنے۔

عالمی ادارۂ صحت کے لبنان میں نمائندے ڈاکٹر عبدالنصیر ابوبکر کے مطابق متعدد طبی مراکز براہِ راست حملوں کی زد میں آئے جبکہ طبی عملہ بھی نقل مکانی پر مجبور ہوا جس سے صحت کے نظام کی صلاحیت مزید کمزور ہو گئی۔

صور شہر کی جبلِ عامل یونیورسٹی اسپتال کو 1 ماہ میں 5 مرتبہ نشانہ بنایا گیا جبکہ کئی اسپتالوں کو مریضوں سمیت خالی کروانا پڑا۔

پہلے سے کمزور نظام پر مزید دباؤ

لبنان کا صحت کا شعبہ پہلے ہی 2019ء کے معاشی بحران اور گزشتہ جنگوں کے باعث مشکلات کا شکار تھا، موجودہ جنگ اور خطے میں کشیدگی کے باعث ادویات اور طبی سامان کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

بے گھر افراد کی بڑی تعداد کے باعث ہنگامی وارڈز میں مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ گئی ہے، جنوبی علاقوں سے کینسر، ڈائیلیسز اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کو شمالی علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

طبی عملے کی شہادتوں میں اضافہ

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس کے مطابق 28 مارچ کو ہونے والے حملوں میں 9 پیرا میڈکس جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ لبنان میں طبی کارکنوں کو بار بار نشانہ بنانے کا رجحان جاری ہے اور 2023ء سے 2024ء کے دوران 107 سے زائد امدادی کارکن شہید کیے جا چکے ہیں۔

تنظیم کے محقق رمزی قیس کے مطابق طبی مراکز اور عملے پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ممکنہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید