ملتان(رپورٹ:عدنان خان)محکمہ آثار قدیمہ ملتان کی جانب سے مقبرہ خالد ولید کی خستہ حال عمارت کو خطیر رقم سے مکمل کرلیا گیا۔مقبرہ خالد ولید المعروف خالق ولی کبیر والا ضلع خانیوال کی اصل حالت میں لانے کیلئے گزشتہ سال سے کام جاری تھا۔مقبرہ کی خستہ حال چھتیں ،پرانے زمانے کے فرش اور دیواروں کی تعمیر سمیت دیگر کام مکمل کیا گیا جسے اب کام مکمل کرکے اسے پرانی حالت میں لانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ موجودہ مقبرہ تاریخی حالت میں برقرار رہےاور دیکھنے والےسیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکے۔گزشتہ آٹھ صدی پرانے مقبرے کو خالد ولید المعروف خالق ولی کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔صاحب مقبرہ خالد ولید المعروف خالق ولی بڑےبزرگ صوفی ہیں جنکا شماربرصغیر کے ابتدائی مسلمان مبلغین میں ہوتا ہے۔ ان کے مقبرے کی تعمیر غوری عہد میں ملتان کے ایک گورنر علی بن کرماخ نے 1175ء سے 1185ء کے درمیان کروائی۔ کبیروالہ سے 20 کلومیٹر شمال کی جانب یہ مقبرہ موضع کھتی چور، کبیر والا میں موجود ہے۔اس واقعے کے بعد مقبرے کو تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس کی تزئین وآرائش کیلئے مختلف منصوبے بھی تیار کیے جانے لگے جو کہ اب مکمل کئے جاچکے ہیں۔مقبرہ خالد ولید بارے مختلف محققین کی مختلف آراء ہیں جیسا کہ سید اولاد علی گیلانی اپنی کتاب میں مزار کی تعمیر چودھویں صدی عیسوی، بشیر حسین ناظم میں اسکی تعمیر مغل بادشاہ شاہجہاں اور شیخ اکرام الحق میں اسکی تعمیرمغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر سے جوڑتے ہیں۔