واشنگٹن(جنگ نیوز،خبر ایجنسی) پاکستان کیخلاف اقدامات میں امریکا کی جانب سے تیاریاں کی جارہی ہیں اورغیر نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرکے پاکستان کو دہشتگردی کا پشت پناہ قرار دیکر یکطرفہ ڈرون حملوں، امداد میں مزید کمی کے ساتھ ساتھ کچھ حکام پر پابندیوں کےمشورے زیر غور ہیں۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کا پشت پناہ ملک قراردیے جانے سے پاکستان کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کیساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرض ملنےمیںبھی مشکلات ہوسکتی ہیں،امریکی محکمہ خارجہ کے افسر کاکہناتھاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر 20 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، خطے کیلئے خطرہ بنے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی حکومت کی طرف سے اقدامات چاہتے ہیں۔فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا اتحادی کا درجہ ختم کرنے سمیت اس کے خلاف دیگر سخت اقدامات پر غور کررہی ہے، امریکا کا الزام ہے کہ پاکستان میں مبینہ طور پر 20 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن کے خلاف موثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا کی نئی ا فغان پاکستان پالیسی سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ حکومت پہلے ہی پاکستان کی 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد روک چکی ہے اور اب دیگر اقدامات پر غور کررہی ہے جن میں سویلین امداد میں کٹوتی، پاکستان پر یکطرفہ طور پر ڈرون حملے کرنا اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بعض افسران پر سفری پابندیاں عائد کرنے جیسے سخت اقدامات شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت پاکستان کا غیرنیٹو اتحادی کا درجہ ختم اور اسے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا ملک بھی قرار دے سکتی ہےجس کے نتیجے میں پاکستان کو نہ صرف ہتھیار فروخت کرنے پر پابندی ہوسکتی ہے، بلکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے اربوں ڈالر کے قرضے لینے اور عالمی مالیاتی مراکز تک رسائی میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک افسر کا کہناتھاکہ ہم پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ان دہشتگردوں کے خلاف پاکستانی حکومت کی طرف سے اقدامات چاہتے ہیں جو خطے کےلئے خطرہ ہیں۔ 2013اور 14 میں خصوصی سفیر جیمز ڈوبنز کا کہناہےکہ ایسے لوگوں کے ساتھ ڈیل کرنے میں بہت مشکلات ہوتی ہیں کہ جب آپکی بات سے وہ اتفاق کریں لیکن حقیقت میں نہیں۔