• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرضی آمدن پر ٹیکس غیر آئینی قرار، وفاقی آئینی عدالت نے سیکشن 7 ای کالعدم قرار دے دیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

فاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7 ای کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے جائیداد کی فرضی آمدن پر عائد ایک فیصد ٹیکس ختم کر دیا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق حقیقی آمدن کے بغیر کسی شہری پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، صرف جائیداد کی ملکیت کو آمدن تصور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے سیکشن 7 ای آئین سے متصادم ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ شق ابتداء ہی سے غیر قانونی تھی۔

سیکشن 7 ای فنانس ایکٹ 2022ء کے تحت متعارف کرایا گیا تھا جس کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی مالیت کا 5 فیصد فرضی آمدن تصور کیا جاتا تھا اور اس پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا تھا جو عملی طور پر جائیداد کی کل مالیت کا ایک فیصد بنتا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے متعدد درخواستیں منظور کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کی اپیلیں قبول کر لیں جبکہ ایف بی آر اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

عدالت نے سیکشن 7 ای کے تحت جاری تمام نوٹسز اور کارروائیاں بھی کالعدم قرار دے دیں۔

اس سے قبل پشاور اور بلوچستان ہائی کورٹس سیکشن 7 ای کو غیر آئینی قرار دے چکی تھیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کی ذیلی شق دو کو کالعدم قرار دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے بھی درخواستیں منظور کی تھیں تاہم بعد میں ڈویژن بینچ نے انہیں مسترد کر دیا تھا، جس کے خلاف ٹیکس دہندگان نے اپیلیں دائر کی تھیں۔

قومی خبریں سے مزید