گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے پیسے باہر لے جانے میں کوئی ممانعت نہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو سرمایہ کاری پر بریفنگ دیتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 9 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ مکمل ڈیجیٹل ہے اور پیسہ فوراً نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 23-2022ء میں 300 ملین ڈالرز ان اکاؤنٹس سے واپس گئے، مالی سال 2024ء میں 2 ارب 20 کروڑ ڈالرز آر ڈی اے سے باہر گئے، جبکہ مالی سال 2025ء میں 2.3 ارب ڈالرز باہر گئے، رواں مالی سال 9 ماہ میں 1.9ارب ڈالرز روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے باہر گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی 2023ء نافذ ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری اور منافع کی واپسی کے لیے 2 قوانین ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بینک کے ذریعے آنی چاہیے، اس سرمایہ کاری کو اسٹیٹ بینک کے ساتھ رجسٹر کرانا چاہیے، اس کے بعد منافع کی ادائیگی بینک کے ذریعے کی جا سکتی ہے، یہ تمام تفصیلات اسٹیٹ بینک کی پالیسی میں موجود ہیں۔
سید نوید قمر نے سوال کیا کہ متحدہ عرب امارات سے کتنی سرمایہ کاری پاکستان آ سکتی ہے؟
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مارچ میں آر ڈی اے اسکیم میں ترامیم کی گئی ہیں، اب غیر ملکی بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، ترمیم کے بعد مارچ میں 262 ملین ڈالرز آئے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل میں عبوری اعداد و شمار کے مطابق 320 ملین ڈالرز آئے ہیں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نان ریزیڈنٹ درجہ آن لائن حاصل کر سکتے ہیں۔