جنوبی افریقہ بھی بہت ہی بے ہودہ ملک ہے۔ 1990میں نیلسن منڈیلا رہا ہوئے۔ ملک کو آزادی ملی، گوروں کی کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں کی گئی ان کو حکومت میں شریک کیا گیا، کسی کو غدار نہیں کہا گیا۔ کالوں نے ضرور شروع شروع میں اس آزادی کا فائدہ اٹھانا چاہا ۔چوری ڈاکے بھی ڈالے، قتل و غارت بھی کی مگر یہ دور بہت دیر جاری نہ رہا۔ آخر کو جنوبی افریقہ نے خود کو دنیا کے نقشے پہ مضبوط طریقے پہ روشن کرنے کے لئے 1995ء میں رگ بی ورلڈ کپ منعقد کیا ۔ دنیا بھر کی ٹیموں نے حصہ لیا ۔ امریکہ کا یہ تو مقبول کھیل ہے۔ سارے امریکی چینلز نے دکھایا لوگوں کو اعتبار آیا کہ یہ ملک بھی کوئی بڑا ملک ہے۔وقت گزرنے میں دیر نہیں لگتی۔ اب2003ء آ گیا۔ کرکٹ ورلڈ کپ جنوبی افریقہ میں منعقد ہوا۔
دنیا بھر کی ٹیمیں آئیں، پاکستان کے عالمی ایمپائر کا قتل ہوا کہ وہ دل کی بیماری سے مرے، بہرحال دنیا بھر میں پھر جنوبی افریقہ کا نام روشن ہوا۔ اقوام عالم کو اعتبار آتا گیا کہ یہ ملک ترقی کر رہا ہے اور پھر جب نیلسن منڈیلا نے اصرار کیا کہ فٹ بال عالمی چیمپئن شپ بھی جنوبی افریقہ میں منعقد کی جائے تو اب دیکھئے کہ کس طرح ساری دنیا کی نظریں اس چیمپئن شپ کی جانب ہیں۔ اس ملک میں کوئی نہیں کہتا کہ ابھی ہمیں آزاد ہوئے بس20برس ہوئے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں20برس کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ کسی مذہب کا پرچار اور پرخاش نہیں حالانکہ وہاں مسلمان،عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی رہتے ہیں۔ وہ لوگ ازبک اور کرغیز کی طرح نہیں لڑتے ۔ ان میں ٹارگٹ کلنگ کا مرکز کسی شہر کو نہیں بنایا ہوا ہے۔ کراچی اور کوئٹہ میں مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہا ہے۔ بے زبان، معصوم مارے جا رہے ہیں، کراچی میں تینوں سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں اور کچھ ہو بھی نہیں رہا۔جنوبی افریقہ کے عالمی مقابلوں میں آپ خیال کر رہے ہوں گے کہ ہمیشہ کی طرح سیالکوٹ کے فٹ بال ہی استعمال ہو رہے ہوں گے۔ ہماری یہ خوش فہمی بھی دور ہو گئی ہے ہم جو ساری دنیا میں سیالکوٹ کے فٹ بال کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے وہ اب خیال خام ہو گیا ہے۔1982ء میں سیالکوٹ کا فٹ بال استعمال ہوا تھا جو کہ عالمی مقابلوں میں2002ء تک جاری رہا۔ 2006ء میں تھائی لینڈ کا بنایا گیا فٹ بال استعمال ہوا اور اب2010ء کے ہونے والے مقابلے میں چین کا بنایا ہوا فٹ بال استعمال ہو رہا ہے۔
پہلے تو ایک صحن میں بیٹھ کر عورتیں اور لڑکیاں فٹ بال سیا کرتی تھیں۔ پھر بچوں سے کام کرانے کو برا سمجھا گیا صرف بڑی لڑکیاں اور عورتیں انگلیاں پتلی ہونے کے باعث ، فٹ بال بہتر سینے کے قابل سمجھی جاتی تھیں۔ اب یہ کام بھی مشنیوں نے کرنا شروع کر دیا ہے مگر وہ افتخار جو ہمیں حاصل تھا کہ ہر فیلڈ اور ہر میچ میں سیالکوٹ کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوتا تھا ہم لوگ بجائے آگے جانے کے، پھر پیچھے کی جانب رواں ہیں، شرمندہ بھی نہیں ۔
شرمندہ ہم کس بات پہ ہیں۔ آخر یہ سیکڑوں بچے کرغیزستان پڑھنے کے لئے کیوں گئے تھے۔ ان کے بقول وہاں فیسیں کم تھیں، وہاں ان کو داخلہ مل سکا تھا کیا ہم اپنے بچوں کو اپنے ملک میں پڑھانے کاانتظام نہیں کر سکتے۔ اب جو بچے چار سال کی تعلیم مکمل کر چکے تھے ان کا آخری سال باقی تھا۔ ان کے لئے ہماری حکومت کوئی خاص انتظام کر سکی کہ ان کی زندگی رل جائے گی۔ چھوٹے چھوٹے شہروں کے یہ بچے، اپنے مستقبل کی تلاش میں کرغیزستان گئے تھے۔ ہر چند کہ وہاں غربت ہمارے ملک سے بھی زیادہ ہے۔ممکن ہے نصاب بھی اعلیٰ درجے کا نہ ہو مگر وہ میڈیکل، انجینئرنگ اور کمپیوٹر میں تعلیم حاصل کرنے کو گئے تھے۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ بقول عامر سہیل
لال ٹینوں سے دف جلائیں کیا
پھر سے غاروں میں گھر بنائیں کیا
جس طرح پاکستان میں ضیاء الحق کے زمانے میں کہا گیا تھا کہ باؤلر جب ٹانگ پر بال رگڑتا ہے تو وہ غیر شرعی اور غیر اسلامی لگتا ہے۔ اس لئے اس حرکت کو مذموم کہہ کر بند کروا یا جائے، بالکل اس طرح آج کل فٹ بال ورلڈ کپ کو دیکھنے سے منع کرنے کے لئے صومالیہ کے شہر موغا دیشو میں دیکھنے والوں کیلئے کوڑوں کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ان دہشت گردوں کا کہنا ہے کہ فٹ بال کے ساتھ اچھل کود کرنے کی بجائے جہاد کے لئے تیاری کی جائے۔ مجھے لگا کہ یہ لوگ موغا دیشو میں نہیں شمالی وزیر ستان میں بول رہے ہیں جبکہ دنیا کی ساری قومیں اس بات کا جشن منا رہی ہیں کہ فلورنس کے عجائب گھر میں مشہور مغربی سائنس دان گیلیلو کا ایک دانت اور دو انگلیاں محفوظ رکھی ہوئی ہیں۔ ادھر ہمارے علاقے ہڑپہ کے عجائبات اور زمینیں خراب ہو رہی ہیں اور جہاں تک کسی بھی کھیل کی چیمپئن شپ کے منعقد ہونے کا سوال ہے تو وہ خدا بھلا کرے دہشت گردوں کا کہ انہوں نے پاکستان کو اتنا بدنام کیا ہے کہ یہاں کسی بھی شہر میں کوئی بھی اولمپک کیا ، کسی بھی دو ملکوں کے درمیان میچ نہیں ہو سکتا ہے چاہے وہ کبڈی کیوں نہ ہو یا کشتی کے مقابلے ہی کیوں نہ ہوں، ویسے بھی ہمارے کھلاڑی جو اپنے قصبے یا دیہات سے اٹھ کر ہاکی یا کرکٹ کی ٹیم میں شامل ہوتے ہیں تو دوسرے اور خاص کر مغربی ممالک جا کر ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ،پھر کھیل کی جانب توجہ کم اور دوسری آزمائشیں اپنی جانب کھینچتی ہیں۔انجام اگلے دن کے کھیل میں نظر آ جاتا ہے کہ گیند سامنے جا رہی ہوتی ہے اور وہ کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔24فٹ لمبی جگہ پہ دوڑنا مشکل معلوم دیتا ہے ایسے نوجوان بھلا جان جوکھم والا کھیل فٹ بال کہاں کھیل سکتے ہیں۔ جب ہی تو پاکستان میں منہ دکھانے کے لائق بھی فٹ بال ٹیم نہیں ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پوری اسپورٹس کی وزارت الگ ہے۔ کرکٹ کنٹرول بورڈ الگ ہے اور ہاکی کا بورڈ الگ ہے۔ خرچے تمام ہیں، نتیجہ صفر ہے۔ بے چاری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کس کس سے حساب اور کس کس سے سوال جواب کرے۔ گلے کو زنجیر ،پاؤں کو ،بیڑیوں کی عجلت، بہار ہے اور دوستوں کا پتہ نہیں ہے۔