آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کافی دنوں سے میں کئی سیاسی حلقوں سے یہ بات سنتا آرہا ہوں کہ میر مرتضیٰ بھٹو کے پاکستان واپس لوٹنے کے بعد بھائی بہن کے درمیان کافی حد تک یا کسی حد تک دوری بھی رہی تو تعلقات بھی کشیدہ رہے، ایک رپورٹر اور صحافی کی حیثیت سےمیں کافی باخبر رہا ہوں بلکہ اس سلسلے میں کچھ باتوں کاعینی گواہ بھیہوں۔ میں نے ذوالفقار علی بھٹو،نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو کور کیا ہےالبتہ میں میر مرتضیٰ بھٹو کی سرگرمیوں کی اتنی کوریج نہیں کرسکا۔ دونوں بھائی بہن کے تعلقات کے حوالے سے میرے علم میں اتنی باتیں اور واقعات ہیں کہ اگر میں نے ان سب پر لکھنا شروع کیا تو اس کے لئے یہ کالم ناکافی ہوگاہے لہٰذا فی الحال میں ایک یا دو واقعات اور معلومات کا ذکر کروں گا۔ میری معلومات کے مطابق دونوں میں آخر وقت تک بھائی بہن والا پیار کا رشتہ رہا، وہ اور بات ہے کہ ایک دوسرے میں اختلاف تھا‘ یہی بات بھائی بہن کے درمیان دوری کا سبب بنی۔ میری معلومات کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو جب ملک کی وزیر اعظم تھیں تو وہ نہیں چاہتی تھیں کہ مرتضیٰ بھٹو ان کے دور حکومت میں ملک واپس آئیں کیونکہ انہیں کچھ باخبر حلقوں کے ذریعے معلومات ملی تھیں کہ اگر مرتضیٰ بھٹو ان کے دور حکومت میں ملک واپس لوٹے تو ان کو قتل کردیا جائے گا دوسری طرف اس دور میں میر مرتضیٰ بھٹو کسی طرح

بھی ملک واپس لوٹنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں کچھ بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق ان کی بہن کی حکومت کا تختہ الٹ کر ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا جائے گا، میر مرتضیٰ بھٹو کسی طرح بھی اپنی بہن کی زندگی بچانا چاہتےتھےلہٰذا وہ چاہتے تھے کہ وہ جلد از جلد پاکستان واپس لوٹ جائیں انہیں اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اپنی تنظیم کے ذریعے ایسا ہونے سے روک سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں میر مرتضیٰ بھٹو کا بے نظیر بھٹو سے جو مکالمہ ہوا اس کا ذکر کرنے سے پہلے میر مرتضیٰ بھٹو کے حوالے سے ایک واقعہ یہاں پیش کروں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میر مرتضیٰ بھٹو کو اپنی بہن سے کتنی محبت تھی اور ان کے سلسلے میں وہ کس حد تک پریشان تھے۔ اس واقعہ کا میں خود عینی گواہ نہیں ہوں مگر یہ قصہ مجھے میرے صحافی دوست اور اس وقت اسلام آباد میں فرنٹیئر پوسٹ کے بیورو چیف نے بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دن وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا قومی اسمبلی میں سالانہ خطاب تھا جبکہ پی ایم ایل (ن) کے حلقوں سے یہ باتیں باہر آرہی تھیں کہ اس دن پی ایم ایل (ن) کے ایم این ایز کسی طور بھی وزیر اعظم کوخطاب کرنے نہیں دیں گے دوسری طرف پی پی کے حلقوں کے بارے میں بھی یہ اطلاعات آرہی تھیں کہ وہ بھی تیاریاں کررہے تھے کہ اگرپی ایم ایل (ن) نے خطاب میں گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو انہیں ایسا کرنے سے روکنے کے لئے انہیں جو کچھ کرنا پڑا کریں گے۔ اس صحافی دوست نے مجھے بتایا کہ جب وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اسٹیج پر آکر قومی اسمبلی کے ممبران سےخطاب شروع کیا تو پی ایم ایل (ن) کے اسمبلی ممبران اپنی اپنی نشستوں سے اٹھے اور لائن بناکر اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے، دوسری طرف پی ایم ایل (ن) کے ممبران کو یہ سب کرتے دیکھ کر پی پی کے ممبران بھی اپنی اپنی نشستوں سے اٹھے اور اسٹیج سے خطاب کرتی ہوئی بے نظیر بھٹو کے آگے دیوار کے طور پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگے، میرے اس دوست نے بتایا کہ یہ سب ہوتے دیکھ کر پریس گیلری میں بیٹھے صحافی گیلری کی دیوار پر آکر کھڑے ہوگئے اور نیچے اسمبلی میں ہونے والی پی ایم ایل (ن) اور پی پی ایم این ایز کی ان سرگرمیوں کو غور سے دیکھنے لگے‘اس صحافی دوست نے بتایا کہ وہ بھی گیلری سے نیچے ہونے والی اس کھینچا تانی کا جائزہ لے رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر سامنے مہمانوں کی گیلری پر پڑی، انہوں نے کہا کہ میں نے جو دیکھا اس پر میں حیران ہوگیا، میں نے دیکھا کہ گیلری میں میر مرتضیٰ بھٹو بھی تشریف فرما تھے۔مرتضیٰ بھٹو نے پہلے دائیں اور بائیں جانب بڑے پراسرار انداز میں دیکھا، دونوں طرف دیکھتے ہوئے وہ اپنی نشست سے اٹھے اور اچانک گیلری کی دیوار پر چڑھنے لگے، میرے صحافی دوست نے بتایا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کی یہ سرگرمیاں دیکھ کر میں نے نیچے اسمبلی فلور پر دیکھنے کی بجائے میر مرتضیٰ بھٹو کی سرگرمیوں کو دلچسپی سے دیکھنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میر مرتضیٰ بھٹو ادھر ادھر دیکھنے کے بعد اچانک گیلری کی دیوار پر چڑھ گئے اور وہ نیچے اسمبلی کے فلور پر کودنے کی تیاری کرتے ہوئے نظر آئے مگر اسی دوران پی پی کے ممبران جو مل کر بے نظیر بھٹو اور پی ایم ایل (ن) کے ممبران کے درمیان ایک دیوار کے طور پر کھڑے ہوگئے تھے بے نظیر بھٹو کو اپنے گھیرے میں لیکر اسمبلی کے دروازے سے باہر نکل گئے، یہ دیکھ کر میر مرتضیٰ بھٹو نے ادھر ادھر دیکھا اور خاموشی سےدیوار سے اتر کر واپس آکر اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر میر مرتضیٰ کو اپنی بہن سے واقعی نفرت پیدا ہوگئی تھی تو انہوں نے اس حد تک جانے کا کیوں فیصلہ کیا اگر واقعی وہ نیچے کود جاتے اور جاکر پی ایم ایل (ن) کے ممبران سے گتھم گتھا ہوجاتے تو کیا یہ بین الاقوامی خبر نہیں بنتی؟ اب میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے ہونے والے میر مرتضیٰ کے مکالمے کو یہاں پیش کروں گا یہ وہ زمانہ تھا جب بے نظیر بھٹو اقتدار میں نہیں تھیں اور عام انتخابات ہو رہے تھے جس میں میر مرتضیٰ بھٹو پی پی کے امیدوار کے مقابلے میں لاڑکانہ کی صوبائی اسمبلی کی نشست سے انتخاب لڑ رہے تھے، انہی انتخابات میں آصف علی زرداری مورو کی قومی اسمبلی کی نشست سے پی پی کے سابق رہنما غلام مصطفی جتوئی کے خلاف امیدوار تھے، اس دن بے نظیر بھٹو کو سب سے پہلے سانگھڑ میں پی پی کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی حمایت کے لئے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا، اس کے بعد انہیں اور آصف زرداری کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مورو جانا تھا جہاں ان کو زرداری کی حمایت میں جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا، ہم پریس والوں کو سانگھڑ کے جلسہ عام کی کوریج کے لئے گاڑیوں میں حیدرآباد سے پی پی والے لائے تھے، یہ جلسہ واقعی بڑا تھا‘ جلسے کے بعد اسٹیڈیم کے اوپر ایک گیلری میں محترمہ کے لئے چائے وغیرہ کا انتظام کیا گیا تھا، مجھے بھی اوپر لے جایا گیا، چائے ختم ہونے کے بعد محترمہ اور ہمارے پی پی رہنما نیچے اترے، میں اوپر کھڑا ہوگیا اور انتظار کرنے لگا کہ یہ مجمع چلا جائے تو میں نیچے اتر کر پریس کی گاڑی میں بیٹھ کر حیدرآباد روانہ ہوں جیسے ہی یہ مجمع نیچے پہنچا تو دو افراد تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئےوہ پی پی رہنما عبدالسلام تھہیم تھے اور مجھے کہاکہ آپ کو بے نظیر بھٹو بلا رہی ہیں تاکہ آپ ان کے ساتھ گاڑی میں ہیلی پیڈ پر چلیں، وہ آپ سے کسی خاص ایشو پر بات کرنا چاہتی ہیں، گاڑی میں بے نظیر بھٹو نے میر مرتضیٰ کے لکھے گئے ایک رائٹ اپ کے حوالے سے بات کی جس کے لئے ایک کالم لکھنے کی ضرورت ہوگی، بہرحال ہیلی پیڈ پہنچنے پر بے نظیر بھٹو نے میرا شکریہ ادا کیا اور مجھے الوداع کہنے لگیں تو میں نے ان سے یہ تقاضا کیا کہ ’’محترمہ میں ایک اہم ایشو پر آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں‘‘ میں اکثر محترمہ سے ایسی حجتیں کرتا رہا تھا اور وہ ہمیشہ انتہائی احترام سے میری بات مان کر مجھ سے بات کرتی تھیں، محترمہ نے آصف زرداری کو مخاطب کرکے کہا کہ آصف آپ چل کر ہیلی کاپٹر میں بیٹھیں میں مغل سے بات کرکے آتی ہوں، میں نے محترمہ سے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لاڑکانہ کی صوبائی نشست پر ہر ایرے غیرے کو ٹکٹ دے رہی ہیں اگر آپ کے پاس ٹکٹ نہیں ہے تو اپنے خون کے رشتے کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے لئے نہیں ہے، آئندہ کالم میں اس مکالمے کی باقی تفصیلاتاور حقائق بھی پیش کروں گا تاکہ ثابت کرسکوں کہ دونوں بہن بھائی میں عداوت تھی یا دونوں کو ایک دوسرے سے بے پناہ انسیت تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں