واشنگٹن(اےایف پی) ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے سبب خبروں کا مستقبل کیا ہوگا؟جدید ٹیکنالوجی آئندہ برسوں میں خبریں فراہم کرنے والے اداروں پر اثرانداز ہوگی‘صحافی مہارت حاصل کرکےبےپناہ صلاحیتوں کےحامل ہوجائیں گے۔تفصیلات کے مطابق،واشنگٹن میں ہونے والے آن لائن نیوزایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ٹیکنالوجی کی آئندہ لہر مزید جدت کی حامل ہوگی۔میڈیا ادارے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پریشانی کا شکار ہیں کیوں کہ قارئین کی بڑی تعداد آن لائن یا موبائل فونز کے ذریعے خبروں سے استفادہ کررہے ہیں، اب انہیں جلد ہی مصنوعی ذہانت، اضافی حقائق اورخودکار صحافت کی ضرورت پڑے گی اور اسمارٹ فون کے علاوہ دیگر ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ایمی ویب کی رپورٹ کے مطابق،میڈیا اداروں کے لیے صوتی جڑائو ایک بڑا چیلنج ہوگا۔نیویارک یونی ورسٹی کے اسٹرن اسکول آف بزنس کے فیکلٹی ممبر اور فیوچر ٹوڈے کے بانی کا کہنا ہے کہ ان کے انسٹیٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق کمپیوٹر استعمال کرنے والے 50فیصد صارفین، 2023تک خبروں کے لیے اپنی آواز کا استعمال کررہے ہوں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب ہم خبروں سے متعلق اپنی مشینوں سے بات کررہے ہوتے ہیں تو صحافت کا کاروباری ماڈل کیسا لگ رہا ہوتا ہے؟میڈیا ادارے مستقبل کے اس نظام کے آگے بے بس ہیں۔وہ خبریں فراہم کرنے کی صلاحیت کھودیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر خبریں فراہم کرنے والے ادارے چیٹ ایپس اور آوازوں کی مہارت کے حوالےسے تھوڑے بہت تجربات ایمازون کی ایلکشا اور گوگل ہوم پر کررہے ہیں، یہی مستقبل میں خبروں کے صوتی نظام کے اہم جزو ہوں گے۔اسی سبب یہ کہا جارہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی صحافت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافت بذات خود مصنوعی ذہانت کے صوتی نظام کی تعمیرمیں سرگرم نہیں ہے۔میڈیا اداروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ نئی ٹیکنالوجی خبروں کے مستقبل پر اثر انداز ہورہی ہے، جسے کنٹرول کرنا ان کے بس میں نہیں ہے کیوں کہ یہ سب گوگل، ایمازون، ٹین سینٹ، بائیڈو، آئی بی ایم، فیس بک، ایپل اور مائیکرو سافٹ جیسی فرمز کے ہاتھوں میں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خبریں دینے والے ادارے اہم شراکت دار نہیں بلکہ صارفین ہیں۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ بڑے پیمانے پر بین الصنعتی اشتراک اور تجربات کیے جانے چاہیئے اور نامور صحافیوں کو ایسا جلد از جلد کرنے کی ضرورت ہے۔تحقیق میں ٹیکنالوجی کے 75 طریقہ کار کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے اثرات آئندہ برسوں میں صحافت پر ہوں گے۔ ان میں ڈرونز، پہنے جانے والے جدید کمپیوٹرز، بلاک چین، 360ڈگری ویڈیوز، عکسی حقائق اور فوری طور پر حقائق چیک کرنے کے طریقہ کار شامل ہیں۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی کچھ تبدیلیاں بہت جلد میڈیا پر اثر انداز ہوں گی اور ایسا 2سے 3برسوں میں ہوجائے گا۔2018تک بڑے پیمانے پر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اپنے جدید استعمالات کے لیے موجود ہوگی۔جن کے ذریعے عکسی اعداد وشمار، خبروں کی تحریر اور تجزیہ اور بڑے پیمانے پر اعداد وشمار کو جمع کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا صحافیوں کے لیے آسان ہوجائے گا۔، جس کے سبب بہتر رپورٹنگ، حقائق کو چیک کرنا اور اس سے تدوین میں معاونت ملے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافی اگر ان ٹیکنالوجیز پر دسترس حاصل کرلیں گے تو انہیں اپنے شعبے مین بےپناہ صلاحیتیں حاصل ہوجائیں گی ۔