آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

روشن خیال خاتون اور قدامت پسند مرد کا مکالمہ خصوصی تحریر…محمد ناصر

ہم جدید دور میں رہتے ہیں، ہم آزاد خیال ہیں، ہم روشن خیال ہیں، ہم جدت پسندی کے قائل ہیں، ہم پرانے دور کی خواتین نہیں جن کو آپ رعب میں لیتے تھے،جن کو اپنی مرضی سے جینے کا بھی حق نہیں دیا گیا ۔ ہم مذہب کو صرف انسان کی خواہش پر چھوڑتے ہیں۔ مرضی ہے تو اپنائو اور مرضی نہیں ہے تو چھوڑ دو۔ مذہب انسان کا ذاتی فعل ہے، نماز نہیں پڑھتے تو یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے، آپ سوال نہ کریں۔ مذہب کیا کہتا ہے، دین اسلام کیا کہتا ہے، اس کی تعلیمات کیا ہیں؟۔ پلیز رہنے دیں، ہمیں سب پتہ ہے۔ آپ بہت ہی دقیانوسی ہیں،بنیاد پرست ہیں، آپ بنیاد پرست ہیں۔ آپ شائونسٹ ہیں آپ کی سوچ بہت پرانی ہے، پلیز اپنی سوچ اپنے پاس رکھیں، ہمیں سانس لینے دیں، اپنے خیالات و نظریات ہم پر مسلط نہ کریں، ہمیں اپنی مرضی کی زندگی بسر کرنے دیں، ہمیں تنگ نہ کریں، یہ سب باتیں اپنے گھر والوں سے کریں، ہمیں بخش دیں۔ ارے کیا سگریٹ پینا معیوب عمل ہے؟ نہیں ہر گز نہیں، سگریٹ پینا تو بہت ضروری ہے کیونکہ یہ جدید ہونے، ماڈرن ہونےکی نشاندہی کرتی ہے!! اور اگر ہماری ماں، بہن، یا بیٹیاں سگریٹ پیتی ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ اسے عام کریں، سگریٹ نوشی تو صحت کیلئے کسی طور مضر نہیں ، اگر مرد پی سکتے ہیں تو خواتین کیوں نہیں؟۔ دونوں برابر ہیں، دونوں کے حقوق یکساں ہیں،

دونوں اس معاشرے کے فرد ہیں، دونوں کو آزادی حاصل ہے۔ ارے ہماری ایک بہن اگر سگریٹ پیتی ہے تو کیا حرج ہے، آپ کو کیا اعتراض ہے؟ آپ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں آپ خود بھی تو سگریٹ پیتے ہیں، آپ بہت ہی منافق ہیں، خود سگریٹ پیتے ہیں اور اپنی بہن پر اعتراض کرتے ہیں، آپ کو اس کا کوئی حق نہیں۔ آپ اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ سب کو سگریٹ پینے کی آزادی ہے، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، دونوں کو سگریٹ پینی چاہئے، ایک ڈبیہ دونوں کو شیئر کرنی چاہئے۔ ارے آپ مرد ، اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟۔ خواتین ہر شعبے میں مردوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہیں، آپ کو تو سگریٹ بھی پینا نہیں آتی، ہم آپ سے بہتر کش لگاتے ہیں۔ اور ہاں آپ کو اپنی بہن کے لباس پر اعتراض کرنے کا بھی حق نہیں ہے، وہ جو بھی کپڑے پہنے آپ سے مطلب؟ کپڑے پہننا اور کس طرح کے کپڑے پہنیں، یہ ہمارا بنیادی حق ہے اور ہمارے بنیادی حق پر کوئی اُنگلی نہیں اُٹھا سکتا۔ حیا تو عورت کا زیور ہے؟ شرم اس کی عزت و احترام کا سبب بنتی ہے؟ پردہ اس کی بنیادی ضرورت ہے؟۔ ستر کا حکم مرد اور عورت کیلئے الگ الگ ہے؟ کیا ہم اپنی خواتین کو اسی طرح بے حجاب ہونے دیں؟ ارے آپ کو کیا ہوگیا ہے؟۔ ارے میری بہن وہاں فلم کی شوٹنگ کیلئے گئی ہے۔ وہ حجاب کیسے کرتی، برقعہ یا نقاب کیسے کرتی؟ فلم کی ضرورت کے مطابق وہ لباس پہنے گی، سگریٹ پیئے گی۔ مے نوشی بھی کرے گی۔ وہ فلمی ہیروئن ہے، وہ کوئی عام عورت نہیں ہے، جس پر آپ اپنی مرضی یا خواہشات مسلط کر کریں، لوگوں کو زندہ رہنے دیں، اگر آپ سگریٹ پینے اور لباس پر اعتراض کریں گے تو ہم مر جائیں گے، ہمیں فلموں میں کام نہیں ملے گا، ہم پر دقیانوسی ہونے کی مہر لگ جائے گی، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ ہماری شخصی آزادی کو مت چھینو۔ اپنے گریبان میں جھانکو، اپنے کردار کو دیکھو، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو۔ دین اسلام تو آپ کو پردہ کرنے کا حکم دیتا ہے؟ دیکھیں سگریٹ پینا اور مرضی کا لباس زیب تن کرنا ہمارا بنیادی حق ہے، آپ کو کسی کے لباس سے کیا لینا دینا، کوئی کوئی بھی لباس پہنے بس انسان کا ذہن پست نہ ہو، انسانی اقدار پر نظر رکھیں، اس کے لباس پر نہیں، مرد جو کرسکتا ہے وہ ہم کیوں نہیں کرسکتے، ہم پر پابندیاں کیوں؟آپ بیمار ذہن کے مالک ہیں، آپ کو تو صرف خواتین کو پابند کرنا آتا ہے، آپ اسے گھر کی لونڈی بنانا چاہتے ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ خواتین ترقی نہ کریں، وہ اپنی مرضی سے زندگی نہ گزاریں، آپ اپنی سوچ بدلیں، نظریں بدلیں، لباس سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے، ہم اپنے میک اَپ اور لباس پر ہزاروں خرچ کرتے ہیں، آپ چاہتے ہیں ہم اِسے چھپا لیں، ہر گز نہیں۔ ہماری بہن نے تو ملک کا نام تباہ کردیا کیا کسی مسلمان عورت کو ایسا لباس پہننا زیب دیتا ہے؟ آپ اسلام اور پاکستان سے بڑے مخلص ہیں، اورجوخود عجیب اندازمیںسوشل میڈیا پر اپنی D.P لگاتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں دوسروں پر، پہلے خود تو صحیح لباس پہنیں۔ پہلے خود تو سگریٹ نوشی ترک کریں، پھر ہمیں نصیحت کریں۔ ارے وہ فلمی اداکارہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بولڈ سین کرسکتی ہے، جو فلم کی ضرورت ہوتی ہے، آپ چاہتے ہیں کہ وہ پردہ کرکے فلموں میں کام کرے۔ بغیر سگریٹ کے زندہ رہے، مردوں سے ترقی میں پیچھے چلی جائے۔ آپ کی سوچ پر بہت افسوس ہورہا ہے۔ اپنے دِل، دِماغ اور ذہن سے انا پسندی کا کیڑا نکال کر بات کریں، فلمی ہیروئن کے آئٹم سانگ تو بہت خوشی خوشی دیکھتے ہیں، گانوں پر واہ واہ کرتے ہیں، کیوں؟ آپ منافق ہیں، آپ تمام مرد چاہتے ہیں کہ عورت اُن کے پیر کی جوتی بن جائے۔ ہمیں سب معلوم ہے آپ زیادہ عقلمند نہیں۔ انسان کی سوچ وسیع اور بلند ہونی چاہئے، اسلام نے ہمیں برابری کے حقوق دیئے ہیں، آپ لوگ ہمارے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں۔ باز آجائیں!