کراچی(ٹی وی رپورٹ)وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کیپٹن صفدر کی پارلیمنٹ میں قادیانیوں سے متعلق تقریر پارٹی پالیسی نہیں ہے، نااہل شخص کے پارٹی عہدے کیخلاف سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کیپٹن صفدر کے ممتاز قادری کے مقدمہ کے دوران بھی یہی جذبات تھے جو آج وہ نعرے لگارہے ہیں۔
وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار عارف چوہدری اور دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب بھی شریک تھے۔تاج حیدر نے کہا کہ ن لیگ انتہاپسندوں کے ساتھ نظریاتی وابستگی رکھتی ہے، رانا ثناء اللہ کی نظریاتی وابستگی بھی سب کے سامنے ہے، ن لیگ انتخابات قریب آتے ہی پھر اسی انتہاپسندی کی طرف جارہی ہے۔
عارف چوہدری نے کہا کہ نااہل شخص کو پارٹی عہدہ کے قابل قرار دینے کی قرارداد سینیٹ پر بدنما داغ تھا، آج اس قانون کے خلاف قرارداد منظور کر کے سینیٹ نے خود پر لگا داغ دھوڈالا ہے۔امجد شعیب نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی قادیانیوں کیخلاف تقریرکا مقصد ملک میں منافرت پھیلانا ہوسکتا ہے، پارلیمنٹ کو کیپٹن صفدر کی تقریر رکوانی چاہئے تھی۔حامد میرنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سینیٹ میں 28ووٹوں کے مقابلے میں 52ووٹوں سے ایک قرارداد پاس کی گئی ہے جس کے مطابق نااہل شخص پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا، اس قرارداد کے ذریعے ایک طرح سینیٹ نے اپنی ہی قراراد کی نفی کردی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو مذاق بنایاجارہا ہے۔حامد میرنے مزید کہاکہ بی بی سی مسلسل پاکستانی پارلیمنٹ میں کی جانے والی ایک تقریر پر مسلسل تبصرہ کررہاہے، بی بی سی کی ویب سائٹ پر آج بھی مریم نواز کے خاوند اور نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کی تقریر پر تبصرہ کیا ہے جس کا عنوان ”پاگل سوشل میڈیا، فاشسٹ لبرلز اور کیپٹن صفدر“ ہے، اس تبصرے میں کافی طنز کیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر نے پارلیمنٹ میں قادیانیوں کیخلاف تقریر میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے موسوم کرنے پر احتجاج کیا جبکہ ایوان میں سیڑھیوں پر ممتاز قادری کے حق میں نعرے لگوائے تھے، سوچنے کی بات ہے کہ ممتاز قادری کو جب پھانسی دی گئی تو ان کی پارٹی ن لیگ کی ہی حکومت تھی اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو بھی ن لیگ کی حکومت نے ہی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے موسوم کیا تھا، کیپٹن صفدر نے اپنی ہی پارٹی کے فیصلوں پر کافی عرصے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نااہل شخص کے پارٹی عہدے کیخلاف سینیٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس حوالے سے قانون پہلے ہی بن چکا ہے، یہ معاملہ قانون سے پہلے کئی مہینے اسٹینڈنگ کمیٹی میں پڑارہا، پھر قومی اسمبلی میں پاس ہوا، اس کے بعد سینیٹ میں آیا اور اس وقت اپوزیشن کو اچانک سمجھ آئی کہ حکومت یہ نواز شریف کو ن لیگ کا دوبارہ صدر بنانے کیلئے کررہی ہے، آصف زرداری نے مک مکا کی تہمت سے بچنے کیلئے سینیٹ میں قرارداد منظور کروائی ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر کے ممتاز قادری کے مقدمہ کے دوران بھی یہی جذبات تھے جو آج وہ نعرے لگارہے ہیں، کیپٹن صفدر ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد کئی مواقع پر اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ یہ درست نہیں ہوا۔ وزیرقانون پنجاب نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی قادیانیوں سے متعلق تقریر پارٹی پالیسی نہیں ہے، کیپٹن صفدر پی ایم ایل این میں ضرور ہیں لیکن وہ پی ایم ایل این نہیں ہیں اور نہ ہی پی ایم ایل این کی قیادت ہیں، کیپٹن صفدر پارٹی پالیسی بیان نہیں کرسکتے، ختم نبوت قانون میں ڈرافٹنگ کی غلطی پر تحقیقاتی کمیٹی نے کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا تو شاید اس کی حفاظت کرنا ممکن نہ ہو۔