فارسی کا معروف شعر ہے #
آل چہ دانا کند، کندناداں
لیک بعد از خرابیٴ بسیار
یعنی جو کام ایک عقلمند شخص کرتا ہے‘ بالآخر احمق بھی وہی کام کرتا ہے لیکن اُس وقت جب بہت زیادہ خرابی واقع ہوچکی ہوتی ہے۔ دانائی کیا ہے؟ وقت کے شعور اور اس کے تقاضوں کے فہم و ادراک کانام۔ زیرک آدمی کے حواس خمسہ پوری طرح بیدار ہوتے ہیں۔ اس حدتک کہ اسکی چھٹی حس کی دھار بھی خاصی تیز ہوجاتی ہے۔ وہ ماضی کے تجربات‘ حال کے مشاہدات اور مستقبل کے امکانات کو بہ یک وقت اپنی دانش کی بھٹی میں ڈالتا‘ معتبر مشاورت کی آنچ دیتا اور کسی ٹھوس فیصلے پرپہنچتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ لمحہ ٴ موجود کی دھڑکنوں کو سننے‘ انہیں درست معنی پہنانے اور بروقت اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اُسے اپنی اور اپنے حریف کی قوت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور اُسے خبر ہوتی ہے کہ اسکے قلعے کی فصیل کہاں کہاں سے کمزور ہے۔
پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کا المیہ یہی ہے کہ وہ دانائی سے عاری ہے۔اُس کے ہاں فیصلہ سازی کا کوئی ایسا فورم دکھائی ہی نہیں دیتا جو موسموں کی بوُ باس سمجھنے کا سلیقہ رکھتا ہو۔ ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب چھوٹے بڑے فیصلوں کی ڈور کسی فردِ واحد کی صوابدید سے بندھی ہو اور اس شخص کے دل و دماغ میں اس زعم کا برگد اگا ہو کہ وہ حکمت و دانش کا مرقع ہے۔سیاست اُس کی جیب کی گھڑی اور فراست ہاتھ کی چھڑی ہے‘ جو کچھ وہ سمجھتا ہے‘ کسی دوسرے کے حاشیہٴ وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا۔ صورت حال اس وقت اور بھی زیادہ گمبھیرہوجاتی ہے جب اس کا حلقہٴ یاران بھی سطحی سوچ رکھنے والے طفلان کوچہ و بازار پر مشتمل ہو۔ ایسے شاطر مزاج‘جو کرتب‘ چالاکی‘ پتہ بازی اور ہیرا پھیری کو ہی معراج حکمت خیال کرتے ہوں۔
پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت پر اس وقت اعصاب زدگی کی جو کیفیت طاری ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ وہ دانائی اور سوجھ بوجھ کا راستہ اختیارنہیں کرسکی۔ اُس نے اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے بڑی بڑی ترجیحات کو داؤ پر لگادیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت حادثاتی طور پر آصف علی زرداری کے ہاتھ آگئی۔کسی بھی حادثے کی کوکھ سے جنم لینے والی قیادت کو پہلا فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کیوں کر اپنے آپ اور اپنی پارٹی کو ماضی کے سارے داغ دھبوں سے پاک کرکے نئے سفر کا آغاز کرے اور کس طرح کی ترجیحات قائم کرے کہ عوامی جذبہ و احساس کی منڈیروں پر‘قطار اندر قطار چراغ روشن ہوتے چلے جائیں؟۔
پیپلزپارٹی ایسا کیوں نہیں کرسکی؟ اس کا تجزیہ اُسے خود کرنا چاہئے لیکن کیا اُس گھر میں کوئی احساس زیاں ہے بھی؟ آج اوپر سے نیچے تک سب آتش زیر پا ہیں۔ چھوٹے بڑے دہانے کی ساری توپیں آگ اگل رہی ہیں۔ صدر زرداری تو ”سنگین اور قلم“ والی تاریخی تقریر کے بعد زیادہ نہیں بولے لیکن وزیراعظم گیلانی پر کسی آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ عجب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اپنے تئیں وہ ایک بانکے گھوڑے پر سوار تیکھا شاہسوار ثابت کرنے کی اداکاری کررہے ہیں لیکن درحقیقت ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں“ وہ پیپلزپارٹی‘ اپنی حکومت اور خود اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ایسی جنگ کا نقشہ پیش کررہی ہے جس میں وہ جیت جائیں تو غازی اور ہارجائیں تو شہید لیکن اُنہیں اب تک یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ جنگ تو وہ پہلے ہی ہارچکے ہیں اور بداعمالیوں کے دفاع میں لڑنے والے کبھی منصب شہادت پر سرفراز نہیں ہوتے۔
تصور کیجئے! این آر او پر سپریم کورٹ کا فیصلہ 16دسمبر2009ء کو صادر ہوا۔ آج نوماہ بارہ دن ہوچلے ہیں اور دو دن پہلے سینٹ میں کھڑے ہوکر فرمایاسید گیلانی نے کہ … ” میں نے اسٹیبلشمنٹ سیکریٹری سے کہا ہے کہ مجھے ایسے افراد کی لسٹ دی جائے جو این آر او زدہ ہیں۔ ایسے ملازمین خود مستعفی ہوجائیں“۔ کیا اس سے بڑے تمسخر کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ یہ اعلان بالکل انہی الفاظ میں وزیراعظم گیلانی کو 16 دسمبر 2009ء کی شام کرنا چاہیے تھا اور چوبیس گھنٹوں بعد داغدار سیبوں کو اٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دینا چاہئے تھا۔ کیا ملک کے چیف ایگزیکٹو کو سوا نو ماہ تک کسی نے نہیں بتایا کہ عدالت کیا فیصلہ دے چکی ہے؟ اب کہاجاتا ہے کہ دو تین وزراء اور کچھ بیورو کریٹس کی چھٹی ہونے والی ہے لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ خرابیء بسیار واقع ہوچکی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس خواجہ شریف کے حوالے سے بھی ایسی ہی اچھل پھاند کا مظاہرہ ہوا وزیراعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”جج صاحبان! یہ نہ بھولیں کہ پارلیمنٹ نے ابھی تک آپ کی بحالی کے تقرر نامے کی توثیق نہیں کی“۔ اگلی شب وہ بن بلائے جج صاحبان کے عشایئے میں چلے گئے اور اگلے دن وہی کچھ کردیا جو جناب چیف جسٹس نے کہا تھا۔ وہی ”بعد از خرابیٴ بسیار“ یہی رویہ جج صاحبان کی بحالی کے حوالے سے اختیار کیا گیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جج عین معاہدہ بھوربن کے مطابق اپریل 2008ء میں بحال کردیئے جاتے۔ پورا ایک سال سرکس جاری رہا اور پھر رات گئے اس وقت ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جب ”خرابی بسیار“ اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی اور عوام کا سیل بے کراں سڑکوں پہ تھا۔
قصور کسی اور کا نہیں،خود پارٹی کی قیادت کا ہے جو دانائی کا مظاہرہ نہیں کرسکی اور جسے یہ زعم ہے کہ اُس سے زیادہ دانا‘ اس کرہ ارض پر کوئی اور نہیں۔
یہ بھی کب تک کہ ہر آفت کا سبب ہے کوئی اور
منزلیں خود بھی تو گم کرتی ہیں رستہ اپنا
گیلانی صاحب‘ خلا کے اُس منطقے میں داخل ہوچکے ہیں جب وزن نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ستم یہ ہے کہ وہ اب بھی وزیراعظم بننے‘ مرض کے اسباب کا جائزہ لینے اور فوری اقدامات پر آمادہ نہیں۔ عبدالقیوم جتوئی نامی ڈرون‘ جانے کس اڈے سے اُڑا اور اس کے کمپیوٹر میں کس نے بھرائی کی لیکن جو کچھ اُس نے کہا‘ اس وقت اقتدار کے ایوانوں کی سوچ یہی ہے۔ منصوبہ یہی ہے کہ اپنی شکست کو اپنی بداعمالیوں سے منسوب نہ ہونے دو۔ اسے فوج اور عدلیہ کی ظالمانہ یلغار کا نام دو اور اپنی خون آلود قبائیں لہراتے ‘ نوحے پڑھتے ‘ رجز گاتے ہوئے یوں میدان انتخابات میں اترو کہ چار سو ایک کہرام بپا ہوجائے۔
کیا پی پی پی ایک بار پھر یہ ہتھیار آزماسکے گی؟ یا کیا وہ اب بھی سنبھل جائے گی اور حضرت غوث الاعظم کا فرزند ارجمند اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرکے معاملات کو سنبھال لے گا!
آج کے کالم کے آغاز میں طاہرہ اسلم کو طاہرہ آپا بنادیا گیا۔ وہ تو ایک کالج کی طالبہ ہے۔