سویڈن میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پیدائش کے وقت کم وزن رکھنے والے بچوں میں جوانی کے ابتدائی دور میں فالج کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف گوتھنبرگ کے محققین نے بتایا کہ اوسط وزن سے 3.5 کلوگرام کم وزن رکھنے والے بچوں میں فالج کا خطرہ 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ خطرہ مرد و خواتین دونوں میں یکساں پایا گیا اور دونوں اقسام کے فالج، یعنی اسکیمک اسٹروک (خون کی نالی بند ہونا) اور ہیموریجک اسٹروک (دماغ میں خون بہنا) میں اضافہ دیکھا گیا۔
تحقیق میں 1973 سے 1982 کے درمیان پیدا ہونے والے تقریباً 7.7 لاکھ افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا، جن میں سے 2022 تک 2252 افراد کو جوانی میں فالج ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم وزن بچوں میں بعد کی زندگی میں بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو فالج کا بڑا سبب ہے۔ اسی لیے پیدائش کے وقت بچے کا وزن مستقبل میں صحت کے خطرات جانچنے کے لیے اہم اشارہ ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق مئی میں ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والی یورپین کانگریس آن اوبیسٹی میں پیش کی جائے گی۔