صدر مملکت نے کہا … ”حکومت کہیں نہیں جا رہی، پانچ سال پورے کریں گے“ لیکن اگر لچھن تبدیل نہ ہوئے، رویے نہیں بدلتے اور ترجیحات کا تعین از سر نو نہیں ہوتا تو حکومت چاہے کر جائے لیکن عوام پانچ سال پورے کرتے دکھائی نہیں دیتے کیونکہ سارا سسٹم ”ساہ پینے“ سانپ کی طرح عوام کو موت کے گھاٹ اتارنے میں جتا ہوا ہے۔ شاید کچھ لوگوں کو ”ساہ پینے“ سانپ بارے کچھ زیادہ معلومات نہ ہوں اس لئے ان کا تعارف کرائے دیتا ہوں۔ سانپوں کی یہ یونیک قسم چولستان میں پائی جاتی ہے۔ یہ اپنے شکار کو ڈستے نہیں بلکہ نیند کی حالت میں اپنے شکار کے سینے پر سوار ہو کر اس کے منہ اور نتھنوں کے قریب اپنا پھن رکھ کر بذریعہ سانس اپنا زہر سوئے ہوئے شخص میں منتقل کر دیتے ہیں۔ صرف رات بھر کے لئے سونے والا ہمیشہ ہمیشہ کی نیند سو جاتا ہے اور یہ ”ساہ پینا“ سانپ دامن پہ کوئی چھینٹ اور خنجر پہ کوئی داغ چھوڑے بغیر اگلے شکار کی تلاش میں کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔ یہ ”ساہ پینے“ سانپ کوئی متھ، کہانی یا افسانہ نہیں بلکہ چولستان کی جیتی جاگتی زہریلی حقیقتیں ہیں اسی لئے چولستانی لوگ سونے سے پہلے پیاز کھایا کرتے ہیں کیونکہ پیاز کی بو، بدبو یا خوشبو سے یہ سانپ الرجک ہیں اور ایسے کسی شخص کے قریب بھی نہیں پھٹکتے جس کے منہ سے پیاز کی بو آ رہی ہو … مسئلہ یہ ہے کہ عوام کیا کھائیں؟ کہ یہ ”ساہ پینا“ نظام ان کی رگوں میں زہر اتارنے سے باز رہے۔ عوام کے لئے تو پیاز بھی افورڈ ایبل نہیں رہے لیکن حکمران طبقات کو اپنی سرکس سے ہی فرصت نہیں اور تو اور حکومت نے تو عوام کی جنس تبدیل کرنے کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ آج کل وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کا اشتہار چھپ رہا ہے جس میں حکومت اپنے ”کارنامے“ بیان کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی اشتہار میں پارٹی کے ایک ابتدائی نعرے میں ترمیم کے بعد یہ اعلان بھی داغا گیا ہے۔
”عوام ہماری قوت
عوام ہماری سیاست
عوام ہماری محتسب“
معنی اپنی جگہ لیکن اردو دانی کا دعویٰ نہ مجھے کبھی تھا نہ اب ہے کہ میں تو اقتصادیات کا طالب علم رہا۔ اردو سے اتنی ہی آشنائی ہے کہ اس زبان کا کوئی قابل ذکر شاعر یا ادیب ایسا نہیں جسے پڑھا نہ ہو سو مدعا بیان کر لیتے ہیں لیکن پھر وہی بات کہ زبان دانی سے کہیں زیادہ فوکس معانی پر رہا اس لئے میں تو اس پر فیصلہ دینے کی پوزیشن میں نہیں سو وفاقی وزیر اطلاعات کائرہ صاحب کو چاہئے کہ کسی اردو دان سے اتنا ضرور پوچھ لیں کہ عوام مذکر ہوتے ہیں یا مونث؟ عوام مرتی ہے یا مرتے ہیں؟ عوام ڈوبتی ہے یا ڈوبتے ہیں؟ عوام خود کشی کرتے ہیں یا کرتی ہے؟ عوام مہنگائی میں پستی ہے یا پستے ہیں؟ عوام جھک مارتی ہے یا مارتے ہیں؟ عوام لوڈ شیڈنگ سے تنگ آئی ہوئی ہے یا تنگ آئے ہوئے ہیں؟ عوام اس جمہوریت پر لعنت بھیجتی ہے یا بھیجتے ہیں؟ عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیتی ہے یا دیتے ہیں؟
ذاتی طور پر میں نے تو عوام کو ہمیشہ ”مذکر“ ہی سمجھا اور لکھا ہے… آج تک کسی قاری یا لکھاری نے تصحیح نہیں کی لیکن ایک سرکاری اشتہار میں ”عوام ہماری محتسب“ پڑھ کر میں چونک گیا۔ ادھر کائرہ صاحب چیک کریں ادھر میں اپنے ہم قلموں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پر اپنی قیمتی آراء سے مطلع فرمائیں اور اگر عوام مذکر ہیں تو مہربانی فرما کر حکومت ان کا جینڈر تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر کوئی زبان دان ”ہوتی“ اور ”ہوتے“ دونوں کو ہی درست قرار دے تو پھر یہ درخواست ہو گی کہ تحریر و تقریر میں عوام کو MALE کے طور پر ہی ٹریٹ کیا جائے بالخصوص احتساب کے حوالہ سے کہ ہم جیسے معاشروں میں تو بیچاری ”مونث“ محتسب ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
یہ تو تھی اک نصابی اور ٹیکنیکل قسم کی بات۔
دوسرے دو نئے نعرے بھی خاصے بودے ہیں یعنی … ”عوام ہماری قوت“ اور ”عوام ہماری سیاست“ عوام کے تو اپنے اندر جان نہیں سو وہ کیسے کسی کی قوت بن سکتے ہیں۔ جن بیچاروں کو دو وقت کی روٹی کے لئے در در کر دیا گیا ہو ان کے حوالہ سے طاقت کا لفظ تہمت سے زیادہ کچھ نہیں اور جہاں تک تعلق ہے ”عوام ہماری سیاست“ تو اس سے بڑی کامیڈی ممکن نہیں۔ جسے یقین نہ آئے وہ الیکشن کمیشن سے رابطہ کر کے صرف اتنا جان لے کہ …
اول: پاکستان میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کتنے ہیں؟
دوم: ان میں سے کتنے فیصد ووٹ کاسٹ کرتے ہیں؟
سوم: اور پھر ان میں سے پیپلز پارٹی کے حصہ میں کتنے آتے ہیں؟
ان تین سوالوں کا جواب مل جائے تو اس ملک کی تمام نام نہاد مقبول سیاسی پارٹیوں کی اوقات سامنے آ جائے گی لیکن اس دھوکہ منڈی میں سب چلتا ہے… سب چلتی ہے لیکن فی الحال تو ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ عوام ”ہوتی“ ہے یا ”ہوتے“ ہیں۔