• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بستی بسنا کھیل نہیں....ناتمام…ہارون الرشید

بنجر زمینوں اور نئے ملک کی تعمیر سہل نہیں ہوتی۔ بہت جرأت عمل، بہت سیر چشمی ،بہت حکمت، بڑی عالی ظرفی درکار ہوتی ہے۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے
وہ ساری کوفت جو محترمہ عاصمہ جہانگیر کے لب و لہجے سے پیدا ہوئی تھی، کوئٹہ میں دھل گئی۔ اول تو میاں نواز شریف کو میثاق پاکستان کی بات کرتے سنا ۔ پچیس برس کے لئے ملک اگر ایک لائحہ عمل پر متفق ہو سکے تو درد کی ماری قوم کے لئے یہ ایک عظیم بشارت ہو گی۔ میاں صاحب کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں۔ یہ سپنا جس قدر جلیل ہے، اسے متشکل کرنے میں اتنی ہی سنگلاخ رکاوٹیں حائل ہیں۔ بجائے خود یہ تجویز ہی اتنی اچھی ہے کہ اس کی تحسین نہ کرنا ظلم ہو گا لیکن سنہرے سپنے یوں ہی پورے نہیں ہو جایا کرتے۔ سیاسی جماعتوں میں اعتماد کا اتنا فقدان اور ایسی رنجش ہے کہ ایک منصوبے کے خدوخال مرتب کرنے کے لئے بے پناہ تحمل ،صبر اور حکمت کی ضرورت ہو گی۔ آغاز کار کے لئے اگر وہ اپنی جماعت کے ایسے رہنماؤں کا ایک گروپ تشکیل دے سکیں جو تنازعات سے الگ رہے، مثلاً ٹی وی مذاکروں میں شرکت سے گریز تو پہلی اینٹ رکھ دی جائے گی۔پھر فخر الدین جی ابراہیم اور جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ان لوگوں کو شرکت پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ، جو وقت دے سکتے اور ایثار پر آمادہ ہوں ۔تین روز قبل چوہدری نثار علی خان نے فون پر سرسری سی بات کی تو یقین ہی نہ آیا ۔ بار بار یہ خیال مگر آتا رہا کہ وہ اپنا اور دوسروں کا وقت رائیگاں کرنے والے نہیں۔ ایک عملی آدمی ہیں اور سیاست کی حرکیات کا خوب ادراک رکھتے ہیں۔
گیارہ برس ہوئے ہیں، سرما کی ایک دوپہر کسی نے میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سکینڈے نیویا میں متعین ایک سابق پاکستانی سفیر کے ساتھ دو ذاتی دوست تھے اور بہت نیک نام آدمی، یہ ایک اجنبی تھا ۔ تاجکستان کے ایک وفاقی وزیر، انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ملک کی انقلابی اسلامی جماعت سے وابستہ رہے اور نظریاتی طور پر اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ بتدریج انہیں احساس ہوا کہ سابق کمیونسٹوں اور اسلام پسندوں کی جنگ ان کے وطن کو تباہ کردے گی؟ چنانچہ مصالحت کا ایک منصوبہ انہوں نے بنایا۔ ”اول اول یہ بہت دشوار تھا۔“ انہوں نے بتایا ”میرے ساتھی ہی میرے دشمن ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ میں نے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔ میری جان لینے پر وہ تل گئے لیکن رفتہ رفتہ بتدریج وہ قائل ہوتے گئے، حتیٰ کہ اب ہم حکومت میں شامل ہیں۔ اس ایک قدم نے ملک کو تباہ ہونے سے بچالیا اور خود ہماری نظریاتی تحریک کو بھی“۔
پاکستان ایک ملک نہیں راہ گزر تھا۔ فاتحین کے قافلے جہاں سے گزر کر ہندوستان کو فتح کرنے جاتے تھے ، ابھی تک اس کی اجتماعی نفسیات میں وہ حقیقی تغیر رونما نہیں ہوا جو معاشرے کے بندھن کو ناقابل شکست بناتا ہے۔ اداروں کا رونا بہت رویا جاتا ہے اور بجا طور پر لیکن آدمی کو مٹی سے نہیں، اپنی آزادی ، اپنے مستقبل اور نمو کے امکانات سے محبت ہوتی ہے۔ آزادی کا ثمر اگر عام آدمی تک نہ پہنچے تو باقی سب اہتمام بے معنی۔ پاکستان کی سیاسی اور نظریاتی بنیاد بہت مضبوط ہے۔ 1946ء کے انتخابات میں 7695 فیصد مسلمانوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا اور باقی ماندہ ووٹوں میں سے بھی بہت کم مخالف تھے۔ ملا اور ملحد کو مگر یہ گوارا نہیں۔ ملا کے مقدس اساتذہ شکست سے دوچار ہوئے اور اس کا مفاد ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ملحدکو یہ ملک اس لئے برا لگتا ہے کہ قائداعظم نے اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کا عہد کیا تھا۔ اسے ایک 11 ستمبر کی تقریر یاد ہے جسے وہ من مانے معانی پہناتا ہے ۔ دو سو سے زیادہ وہ تقاریر نہیں جو اسلامی عقائد پر مبنی اس کی تہذیب و تمدن کا حوالہ دیتی ہیں۔ بے شرمی کی حد ہے کہ پاکستان کے بانی کو سیکولر ثابت کیا جاتا ہے، دراں حالیکہ کے اپنی چالیس سالہ سیاسی زندگی میں، اپنے افکار کی وضاحت میں، ایک بار بھی یہ لفظ انہوں نے کبھی استعمال نہ کیا۔ ابھی کچھ دیر پہلے کوئٹہ کلب میں کسی نے بتایا کہ خان آف قلات اپنی ریاست کو پاکستان کا حصہ بنانے میں شامل تھے لیکن پھر سرکار کو انہوں نے خواب میں دیکھا۔ ایک نہیں دو بار اور ان کے فرمان پر پوری طرح یکسو ہوگئے۔ پوچھا، کیا یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ایسی باتیں گاہے گھڑ لی جاتی ہیں۔ ایک سے زیادہ دوستوں نے کہا کہ وہ اس کا دستاویزی حوالہ فراہم کردیں گے۔
بہت ہوچکی، بہت۔ بہت زوال، بہت ژولیدہ فکری، بہت خودشکنی۔ ایک قوم کی حیثیت سے اپنا لائحہ عمل اب ہمیں طے کرلینا چاہئے۔ وہ جو قدیم زمانوں میں رہنے والا ملّا ہے اور وہ جو مغرب کی نگاہ سے اپنے وطن کو دیکھنے والا سیکولر ہے، ہرگز وہ ہماری مدد نہ کرے گا۔ کیا کسی نے غور کیا کہ ایک چھوٹی سی گہنائی ہوئی کامیابی کے بعد محترمہ عاصمہ جہانگیر کا لہجہ کیا ہے؟ تعمیر نہیں تخریب۔ جنگ اور جیو کو تحکمانہ انداز میں انہوں نے لتاڑا ہے اور اس پر کچھ عرض نہیں کرنا۔ فرمایا، میڈیا کو اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہئے۔ جی ہاں، مگر باقیوں کو بھی۔ تیس چالیس ووٹروں کی برتری، لگ بھگ آٹھ سو وکلا کی تائید پاکر ایسی تمکنت اور یہ طنطنہ؟… کہا، جنرلوں اور ججوں سے ہم نہیں ڈرتے۔ جنرل تو بجا، حالانکہ سپریم کورٹ کی سیاست سے ان کا کیا تعلق مگر ججوں کا کیا حوالہ؟ ان سے کیا تکلیف آپ کو پہنچی ہے۔ آزاد عدلیہ محبوب ترین ادارہ ہے، اس کی تحقیر سے کسی کو کیا پیغام دینا مقصود ہے۔ پوری سرکاری مشینری، سرکاری خزانے سے پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ اس کے باوجود اگر اکرام چوہدری کھڑے نہ رہتے تو محترمہ ہار جاتیں۔ ابھی سے آپے سے باہر ہیں، کل جب سنجیدگی سے بروئے کار آنا ہوگا تو کیا کریں گی۔ احمد اویس کو اخلاقی برتری ہے۔ حریف کی حکومتی اعانت کے باوجود، خوش دلی سے ناکامی کو انہوں نے تسلیم کرلیا اور ہر مثبت کام میں تعاون کا اعلان کیا۔ جعلی اور اصلی ماں کا فرق یہی ہوتا ہے۔ ایک بچے کو قربان کرنے پہ تل جاتی ہے، دوسری ہر حال میں اسے بچانے پر تلی ہوتی ہے۔
بلوچستان میں حکومت کا حال بہت پتلا ہے۔ وزیر اعلیٰ اس قدر غیر سنجیدہ آدمی ہیں کہ جہاز رن وے پر اترا تو اسکول کے بچے کی طرح انہوں نے تالیاں بجائیں اور مسافر ہنسے۔ کرپشن درحقیقت ہوتی کیا ہے، اس کا اندازہ یہیں ہوتا ہے۔ صرف سرکار ہی نہیں، اپوزیشن جماعتیں بھی بے حسی میں مبتلا ہے۔ میاں نواز شریف سے لوگوں کو بہت شکایت ہے کہ وہ متبادل لیڈر ہیں مگر بلوچستان کیلئے ان کے پاس کوئی وقت نہیں۔ نفرت بڑھتی پھیلتی چلی جاتی ہے مگر مداوا کرنے کی کوئی فکر نہیں۔ شہباز شریف سے البتہ حسن ظن ہے کہ ایک بہت بڑا اسپتال بنا رہے ہیں، طلبہ کو وظائف دیئے اور اس کے سوا بھی بہت کچھ۔ بے نیازی سی بے نیازی ہے کہ پولیس کی تشکیل نو پر دس ارب روپے خرچ کرنے کے بعد، بی ایریا پھر سے بحال کرکے لیویزکے سپرد کردیا گیا کہ قبائلی سردار خورسند رہیں۔ ملک کیا اس طرح چلتے ہیں؟ وزیراعظم اور صدر تو کیا، خود بلوچستان کے وفاقی وزراء کوئٹہ کا رخ نہیں کرتے۔ جرم بے پناہ ہے اور تدارک کی کسی کو فکر ہی نہیں۔
بلوچستان کے سیاسی اور اقتصادی امکانات پر لیکن جب بحث چھڑی تو ایک نشست کا وہ دروازہ کھلا۔ چمالانگ میں کوئلے کی کانوں والے منصوبے کے طفیل 4138 بچے اب اعلیٰ تعلیم پا رہے ہیں۔ ابھی کچھ دیر میں چار ہزار بلوچ فوجیوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شریک ہونا ہے، جو آج سے پاکستان آرمی کا باقاعدہ حصہ ہوں گے۔ اعلیٰ افسروں سے کہا، بہترین پنجابی اور پشتون فوجیوں کے ہمسر بلکہ بعض کے خیال میں ان سے بھی بہتر۔ کچھ اور خوش کن پہلو بھی۔ اس پر لیکن پھر بات ہوگی۔ فی الحال فقط یہ عرض ہے کہ نئی بنجر زمینوں اور نئے ملکوں کی تعمیر سہل نہیں ہوتی۔ بہت جرأت عمل، بہت سیر چشمی، بہت حکمت، بڑی عالی ظرفی درکار ہوتی ہے، عاصمہ جہانگیر جیسی مخلوق نہیں۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے
تازہ ترین