• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این اے4،خواتین کاکم ٹرن آئوٹ ،انتخابی قواعدوضوابط کی خلاف ورزیاں

اسلام آباد(طاہر خلیل)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے چار میں ضمنی انتخاب کے دوران خواتین کا کم ٹرن آؤٹ، غیر قانونی انتخابی مہم اور 10پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ کی غیر معمولی شرح اہم مشاہدات رہے۔ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سےاین اے 4میں انتخابی عمل کے مشاہدے پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کا ٹرن آؤٹ 29.6 فیصد جبکہ خواتین کا ٹرن آؤٹ 13.8 فیصد اور مرد ووٹر کا ٹرن آؤٹ 41.3 فیصد رہ سکتا ہے۔فافن کے مشاہدہ کاروں کے اکٹھے کیے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 10پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ کی فی گھنٹہ رفتار غیر معمولی حد تک تیز رہی۔ ووٹنگ کی تیز ترین شرح 81ووٹ فی گھنٹہ دیکھنے میں آئی۔فافن کے مشاہدہ کاروں کے مطابق اکثریتی پولنگ سٹیشنوں پر رائے دہندگان کی شناخت اور بیلٹ پیپر جاری کرنے کا عمل قواعد کے مطابق جاری رہا البتہ پولنگ سٹیشن کے گرد غیر قانونی انتخابی کیمپوں اور ووٹروں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے جیسے ممنوع امور بلا روک ٹوک جاری رہے۔ فافن کے مشاہدہ کاروں نے 36پولنگ سٹیشنوں کے چار سو گز کی حدود میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے کیمپ موجود ہونے کی رپورٹیں ارسال کیں جبکہ 52پولنگ سٹیشنوں کے باہر امیدوار ووٹروں کو ٹرانسپورٹ مہیا کرتے ہوئے نظر آئے۔ اسی طرح 116پولنگ بوتھوں پر ووٹروں کے ہاتھوں میں ایسی انتخابی پرچیاں دکھائی دیں جن پر کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کا انتخابی نشان بنا ہوا تھا۔ یہ سب امور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں۔ مزید برآں، سکیورٹی اہلکاروں نے 9پولنگ سٹیشنوں پر فافن کے مشاہدہ کاروں کو انتخابی عمل کے مشاہدے کی اجازت نہیں دی۔ فافن کے مشاہدے کے مطابق اوسطاً فی پولنگ سٹیشن انتخابی قواعد و ضوابط کی چار خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ فافن کی ابتدائی مشاہدہ رپورٹ 87پولنگ سٹیشنوں کے مشاہدے پر مبنی ہے۔ فافن نے 52غیر جانبدار اور تربیت یافتہ مشاہدہ کاروں کی مدد سے حلقے کے 90فیصد پولنگ سٹیشنوں کا مشاہدہ کیا۔۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں 397,904 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 235,164 مرد اور 162,740 خواتین شامل ہیں۔
تازہ ترین