برصغیر کی سر زمین پر ماہ صفر میں کچھ عظیم المرتبت صوفیاء کی یاد منائی جاتی ہے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ ان بزرگوں کے انداز تبلیغ کے متعلق کچھ معروضات ضبط تحریر میں لاؤں ۔ یہ حقیقت ہے کہ خدمت اسلام اور اصلاح معاشرہ میں خانقاہی نظام کا ایک ناقابل فراموش کردار ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ کردار اس قدر روشن اور عظیم تر ہے کہ اصلاح امت اور تبلیغ و اشاعت کی کوئی تاریخ خانقاہوں کے بوریہ نشینوں کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ خصوصی طور پر برصغیر کی سرزمین پر آج تک قال اللہ اور قال الرسول کی جو صدائے دلنواز گونج رہی ہے، یہ اِسی چشمہ فیض کی مرہون منت ہے علماء نے مدارس میں علوم ظاہری کی تعلیم دے کرظاہر کو متبع شریعت کیا جبکہ صوفیائے کرام نے تز کیہ نفس کے ذریعے دلوں کو پاک اور صاف کیا۔ ان دعوتی اور تبلیغی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ کروڑہا انسان اپنے دلوں میں شمع توحید و رسالت جلائے بیٹھے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ تصوف یا نظام خانقاہی کے سخت ترین مخالف ہیں،صوفیائے کرام کی خدمات کا وہ بھی نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ اس موضوع پر کتابیں اور مضامین بھی لکھے ہیں۔اسلام اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے نام آخری پیغام ہے جو تا ابد قائم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے ذمے لی ہے۔ امت کیلئے یہ لازم ہے کہ اپنے فرض منصبی کے طور پر اس دین کی نورانی کرنوں کو پھیلاتے رہیں۔ چونکہ یہ دین تزکیہ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیمات پر مبنی ہے لہٰذا وہی نفوس قدسیہ اس کی تبلیغ کا حق ادا کرسکیں گے جو ان دونوں اوصاف حمیدہ سے متصف ہوںگے اگر تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دین کی خدمت کا حقیقی فریضہ موثر طریقہ سے انہوں نے ہی سرانجام دیا جن کا ’’باطن‘‘ کثاوتوں اور آلائشوں سے پاک اور’’ ظاہر‘‘ علوم و معارف اور علم لدنی سے بہرہ ور تھا۔ ان کی زبان میں اثر، لہجے میں شائستگی اور شخصیت میں وقار تھا۔ ان کا اٹھنا، بیٹھنا، لوگوں سے میل جول اور کار و بار زندگی تک ذریعہ تبلیغ و اشاعت ِدین تھا۔ نبی کریمﷺ کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک وصف ’’مبلغ اعظم‘‘ ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میری طرف سے ایک آیت بھی تم تک پہنچے تو اس کو آگے پہنچا دو‘‘ جب آپﷺ خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے صحابہ کرام ؓسے پوچھا تھا کہ’’کیا میں نے دین کی تعلیمات آپ تک پہنچا دیں‘‘ تو تمام صحابہؓ و اہلبیت ؓ نے یک زباں ہو کر جواب دیا تھا کہ آپ نے یہ پیغام حق پہنچانے کا حق ادا کردیا ہے۔ پھر تین دفعہ آپ نے آسمان کی طرف انگلی شہادت کا اشارہ کیا اور بارگاہ الٰہی میں التجا کی کہ ’’اے رب ذوالجلال تو بھی گواہ رہنا‘‘۔ بعد ازاں آپ نے جملہ حاضرین کو حکما یہ ارشاد فرمایا کہ ’’ جو یہاں موجود ہیں ان تک یہ پیغام حق پہچاتے رہیں جو یہاں موجود نہیں‘‘یہ نفوس قدسیہ وہاں سے اٹھیں، اس فرمان رسولﷺ کو پلے باندھا اور پورے کرۂ ارضی پر جہاں تک ان سے بن پڑا دین ِحق کے دلنشیں پیغام کو پہنچایا۔ اس وقت سے لے کر آج تک اسلام کی ترویج و اشاعت کا یہ کام وہ بندگان خدا کر رہے ہیں جنہیں توفیق باری تعالیٰ نصیب ہوتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ذرائع ابلاغ کے طور پر بیشمار تیز ترین ایجادات معرض وجود میں آچکی ہیں۔پرنٹنگ اور پبلشنگ کیلئے جدید ترین مشینری استعمال ہوتی ہے۔ لیکن چشمِ تصور میں صدیوں قبل ان ادوار کو لائیے جب ایسی کوئی سہولت بھی میسر نہ تھی۔ ان خرقہ پوش صوفیائے کرام کی تبلیغی مساعی نے عقل کو ورطہ حیرت میں ڈال دینے والے وہ کارنامے سر انجام دیے جو آج بھی ہماری تاریخ کا ایک حسین باب ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ان الوالعزم ہستیوں کے کردار و عمل کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ حقیقت میں دل ہی کی آواز ہوتی ہے۔ حد درجہ اخلاص کی دولت لازوال سے وہ خود بھی مالا مال ہوتے ہیں اور ان کی خدمت میں آنے والا بھی تعلیم و تربیت، توجہ اور ذکر و فکر کی برکات سے اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ انہوں نے معاشرے میں لوگوں میں مل جل کر زندگی گزاری۔ سادگی کو رواج دیا۔ الفاظ اور تقریروں سے زیادہ ان کا کردار لوگوں کیلئے قابل تقلیدرہاہے۔ اپنے تو اپنے رہے نوے لاکھ کافر بھی خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہر دور پرفتن میں ان صوفیاء کا کردار ہمیں مشعل راہ کی مانند نظر آتا ہے۔ جب بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی گئی۔ طرح طرح کے علمی، فکری، اعتقادی اور سیاسی فتنوں نے سراٹھایا تو مسلمانوں کو سنبھالا دینے کیلئے ہمیں سلسلہ قادریہ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی ؒ کی شخصیت ہمیں کہیں مسند تدریس پر جلوہ فگن اور کہیں مسند فقر و درویشی پر متمکن دکھائی دیتی ہے۔ برصغیر میں جب جلال الدین اکبر خود ساختہ ’’دین ِ الہٰی‘‘ کا شوشہ چھوڑتا ہے تو وہاں بھی سلسلہء نقشبندیہ کی عظیم خانقاہ کے چشم و چراغ مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی ؒ اپنی پوری جرأت اور توانائی کے ساتھ میدان عمل میں آکر اکبر کے مذموم عزائم کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ توحید خالص اور عشق رسولﷺ کو لوگوں کے دلوں میں اس طرح سمو دیا کہ زمانے کے حوادثات آج تک اسے مٹا نہ سکے۔ اسی طرح جب ہندوستان میں انکار ختم نبوت کا فتنہ اٹھا تو خانقاہ چشتیہ کی ایک عظیم علمی اور روحانی شخصیت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ میدان عمل میں اترے۔ آپ کے روحانی تصرفات اور علمی وجاہت کی وجہ سے جعلی مدعی نبوت کو راہ فرار اختیار کرنی پڑی۔ لوگوں پر عقیدہ ختم نبوت روز روشن کی طرح واضح ہوا’’سیف چشتیائی‘‘ لکھ کر آپ نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو رہتی دنیا تک تاریخ ختم نبوت کا ایک یادگار اور حسین باب رہے گا۔ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کی لاہور آمد کے بعد اشاعت اسلام کے رستے کھلے اور اس وقت کے پنجاب کے گورنر ’’راجو جوگی‘‘ سمیت بے شمار غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا مختلف سلاسل کے صوفیاء کے کارناموں سے تاریخ اسلام بھری پڑی ہے جس کا احاطہ اس مختصر کے کالم میں ممکن نہیں۔ البتہ آج کے دور پر فتن میں ضرورت اس بات کی ہے کہ خانقاہیں اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کیلئے اخلاقی اور روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کریں
خوشا مسجد و مدرسہ خانقاہے
کہ در وے بود قیل و قال محمدؐ
ترجمہ ( مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کیا ہی اچھی جگہیں ہیں جہاں سے ہمارے پیارے رسول کریمﷺ کے قول و عمل کو اجاگر کیا جاتا ہے)