• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنی ”سسٹرز“ کو سلام...چوراہا …حسن نثار

میرا ہی ایک پرانا شعر ہے:
نوچتے رہتے ہیں اپنے ہی بدن کی بوٹیاں
حاسدوں کو خود ہی اپنا میزبان بننا پڑا
لیکن نہیں کیونکہ وقت نے بتایا کہ حاسد تو دوچار ہی ہیں، محبت میں ”آؤٹ آف دی وے“ جانے والے حاسدوں سے کہیں زیادہ جسے عطا الحق قاسمی، جسے مشتاق یوسفی جیسے”اہرام“ بھی انسپائریشن کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ اسی عطا نے کتنی آسانی سے لکھ دیا کہ کالم نگاروں میں حسن نثار کے جملے کی شان ہی اور ہے۔ 6اپریل کے کالم میں عرفان صدیقی نے تو انتہاہی کر دی حالانکہ وہ خود بلا کا نثرنگار ہے کہ کسی کو گالی بھی دے تو گالی کھانے والا اس کے اسلوب میں گم ہو کرگالی بھولنے کے بعد اس کی ساحری میں کھو جائے حالانکہ گالی اور کردار کشی عرفان عالیشان کے قریب سے بھی نہیں گزری کہ بحیثیت انسان بھی عرفان کی ”کلاس“ ہی اور ہے۔ ایک واقعہ سنئے آج سے چند برس پہلے کی بات ہے جب میر ے اورعرفان صدیقی کے درمیان ”قلمی معرکہ“ جاری تھا ہم دونوں کبھی ملے نہ تھے جب ایک شام مجھے ایک دوست کا فون آیا کہ ”ٹی وی پر فوراً فلاں چینل دیکھو، میں ہولڈ کر رہا ہوں“ میں نے ٹی وی آن کیا تو اس چینل پر تب کے وزیراعظم شوکت عزیز کا ایک تنخواہ دارمیرے ماضی میں لکھے گئے کالموں کی ڈھیری سامنے رکھ کر مجھے غدار ٹائپ کوئی شے ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔ دلیل اس کی یہ تھی کہ یہ شخص یعنی میں بے نظیر سے نواز شریف تک پر بے رحمانہ تنقید کرتا رہا اور اب مشرف حکومت پر تنقید کر رہا ہے… کیمرے نے کٹ کیا تو سامنے عرفان صدیقی بیٹھا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ … ”مارے گئے، عرفان صدیقی دھجیاں اڑا کر رکھ دے گا اور اس پروگرام کے خاتمے تک میں اس پروگرام کی حد تک ”غیر متنازع غدار“ ڈکلیئر ہو جاؤں گا لیکن مجھے اپنی زندگی کا خوشگوار ترین جھٹکا لگا جب عرفان صدیقی نے اپنے مخصوص دھیمے لیکن مدلل انداز میں میرا دفاع شروع کیا اور یہاں تک کہا کہ اگر وہ غدار ہے تو پھر محب وطن کون ہے؟ اگر وہ جھوٹا ہے تو سچا کون ہے؟
کم ظرفی کے مارے معاشرہ میں ایسی عالی ظرفی…
خدا کی قسم مجھے اپنی مخالفت موافقت سے کہیں زیادہ سکون ملا، فخر محسوس ہوا کہ ہمارے درمیان اب بھی باوقار لوگ موجود ہیں۔ پروگرام کے فوراً بعد میں نے One & The Onlyمیجر عامر کو فون کیا کہ انٹیلی جنس کی دنیا کا یہ راجکمار میجر عامر ہمیشہ کہتا تھا کہ … ” آپ اور عرفان صدیقی کی لڑائی کسی طرح بھی جچتی نہیں“ میں نے میجر عامر سے عرفان صدیقی کا فون نمبر لے کراسے فون کرکے شکریہ ادا کیا۔ میرا شکریہ مسترد کرکے مجھے قبول کرلیا گیا اور تب سے اب تک ہمارے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جس کو عنوان دینا میرے بس کی بات نہیں… صاحب ِ عرفان ہی کچھ کرے تو کرے۔ مختصراً یہ کہ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے حوالہ سے لکھے گئے میرے ایک تھوڑے سے باسی کالم کو بنیاد بنا کر اپنا کالم تعمیر کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے محبت کی انتہا کرتے ہوئے لکھا… ”میرا قلم حسن نثار کے قلم جیسا تیز دھار ہے نہ کاٹ دار“ حالانکہ وہ خود پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کاٹنے کا ہنر جانتا ہے۔ میں نے فون کرکے ”اقربا پروری“ کا الزام لگایا تو خوبصورت ترین نثر نگار کو بے حد ملول، مغموم اور اداس پایا۔ عرفان صدیقی نے کہا…
”انگلستان کے ڈاکٹرز کی ہڑتال وہاں کی پوسٹل سروس نے بھگتائی تو حسن نثار! کیا میں، تم اور ہمارے دیگر کچھ دوست اپنے ان ینگ ڈاکٹرز کے لئے بھوک ہڑتال نہ کرسکتے تھے؟ ان سے کہو یہ اپنے مریضوں پر رحم کریں۔ ہم ان کے لئے وہ سب کچھ کریں گے جو شاید یہ خو د بھی اپنے لئے نہیں کرسکتے۔“ عرفان صدیقی کی آواز ہموار تھی لیکن میں اس میں آنسوؤں کی پھوار اور مہکار محسوس کررہا تھا۔ پھر باتوں باتوں میں مجھ پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ نرسیں جی جان سے مریضوں کی مسیحائی کر رہی ہیں حالانکہ یہ کمیونٹی بہت بری طرح "Underpaid"اور "Over Worked"ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نرسیں بھی ڈاکٹروں کے ساتھ شامل ہو جاتیں لیکن آفریں… صد آفریں… ہم سوچے سمجھے بغیر روایتاً انہیں ”سسٹرز“ کہتے ہیں تو آج یہ ساری ”سسٹرز“ اپنے بھائیوں عرفان صدیقی اور حسن نثار کا سلام عقیدت… سلام محبت… سلام شفقت قبول فرمائیں۔ ہماری قابل فخر اور قابل صد احترام بیٹیو! جب کبھی تمہارے حقوق کی بات آئے گی تو ہم سب تمہارے لئے سرتاپا دعا عرفان صدیقی کی قیادت میں صف آرا ہوں گے، تم مسیحائی سے باز نہ آنا، ہم صف آرائی سے پیچھے نہ ہٹیں گے۔
سسٹرز کو سلام
احتجاج تمہارا ہوگا۔
ہڑتال ہماری ہوگی۔
مطالبے تمہارے ہوں گے۔
مظاہرے ہمارے ہوں گے۔
تم واقعی ”سسٹرز“ ہو۔
تمہیں تمہارے بھائیوں کی دعائیں، محبتیں اور سو سلام!!! اور اپنے جواں سال ڈاکٹرز سے یہ درخواست کہ درہم و دینار کے ساتھ ساتھ درد دل پر بھی نظر رکھیں کہ یہی انسان کی اصل پہچان ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
تازہ ترین