غالباََ چینی سے بھی شیریں ہے اردو دیکھئے
چین کا عالمؔ بھی اب اس میں غزل خواں ہوگیا
چین کے عالم کا قصہ کچھ یوں ہے کہ اُن کا اصل نام چانگ شی ژوآن ہے لیکن اُردو دُنیا انہیں انتخاب عالم کےنام سے جانتی ہے۔انتخاب عالم اپنے رہن سہن اور طرزِ بودوباش کے لحاظ سے مکمل چینی ہیں لیکن اُردونے انہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی زلفوں کا اسیر کر رکھا ہے۔وہ اُردو میں شعر کہتے ہیں اور پاکستان ، بھارت کے علاوہ جہاں جہاں اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، اُن کا نام اُردو کے ایک مستند شاعر کے طور پر جانااور پہچانا جاتا ہے۔
وقت دریا ہے کوئی جھیل نہیں ہے عالم
راہ میں غم ہو، خوشی ہو، یہ گزر جائے گا
یہ 1963ء کی بات ہے جبچانگ تیرہویں جماعت کے طالبعلم تھے۔یہی وہ زمانہ تھا جب چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات استوار ہوئے تھے اور چینی حکومت چاہتی تھی کہ ان تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔چنانچہ نوجوان ژانگ سے کہا گیا کہ وہ اُردو سیکھیں۔ژانگ ایک صحافی بننا چاہتے تھے لہذاانہیں ابتدا میں کچھ دشواری کا سامنا کرنا پڑا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ، اُردوسے اُن کا رشتہ عاشق و معشوق جیسا ہو گیا۔
شاعری کرتے ہیں عالم ہم زبانِ یار میں
ہے زبانِ یار جب اردو زباں، ہم کیا کریں
چانگ نے سات طالبعلموں کے گروپ کے ساتھ چار سال تک اُردو کا درس لیا۔اس گروپ میں ایک لڑکی لی کیلی بھی شامل تھی جو اُردو کی طرح اُن کے قریب آتی چلی گئی اور پھر اُن سے شادی کرنے کے بعد صابرہ سلطانہ کہلائی۔چانگ بھی اب چانگ نہیں رہے تھے، انتخاب عالم بن چکے تھے ۔
ٹوٹ جاتا ہے قلم، حرف مگر رہتا ہے
پائوں چلتے ہیں مگر نقش ٹھہر جاتا ہے
انتخاب عالم کے دل پر اُردو نقش ہو کر رہ گئی اور اُردو کے دل میں انتخاب عالم کا نام نقش ہوتا چلا گیا۔انتخاب عالم کے پسندیدہ شاعروں میںمیرتقی میر، غالب، علامہ اقبال اور ابراہیم ذوق شامل ہیں لیکن فیض احمد فیض کو وہ اپنے دل کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیںاور انہی کے رنگ میں غزل کہتے ہیں۔
اندھیری شب تھی تو محفل میں تھے چراغ بہت
یہ کیا ہوا کہ چراغِ سحر اکیلاتھا
یہی تو ایک تماشا پسِ تماشا تھا
تماش بیں تھے بہت، دیدہ ور اکیلا تھا
گناہء عشق کی کیسی سزا ملی ہم کو
کہ سنگ بار زیادہ تھے، سر اکیلا تھا
انتخاب عالم نے پہلی نظم 1979ء میں لکھی، جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تھی۔بہت سے پاکستانی شاعروں کی طرح انتخاب عالم بھی بھٹو کی پھانسی پر انتہائی رنجیدہ تھے اور انہوں نے اپنے جذبات کااظہار ایک نظم کی صورت میں کیا۔ان کا شعری مجموعہ ’’گل بانگ وفا‘‘ کے نام سے اکادمی ادبیات پاکستان نے شائع کیا ہے۔پاک چین دوستی کو وہ ایک سدابہار گلشن کی طرح سمجھتے ہیںجہاں وفاکی خوشبودل و دماغ کو ہرلحظہ معطر رکھتی ہے۔انتخاب عالم ایک شعر پڑھیے اور سر دُھنیے۔
بشر بس غم اُٹھانے کے لیے دنیا میں آتا ہے
دمِ آمد وہ روتا ہے، دمِ رخصت رُلاتا ہے
انتخاب عالم کی طرح شیدا چینی بھی معروف اُردو شاعر تھے ۔ان کا اصل نام یونگ وانگ لیوتھا۔ان کی کتاب ’’لکیروں کی صدا‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس میں غزلیں ، نظمیں اور گیت شامل ہیں۔وہ مشاعرے بھی پڑھا کرتے تھے لیکن ایک حادثے کے باعث جمشیدپور میں واقع اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گئےتھے۔شیدا چینی بھارت ہی میں پیداہوئے ۔ ان کے والدین چین سے آئے تھے۔شیدا خود کبھی چین نہیں گئےتھے ۔وہ اپنے آپ کو ہندوستانی ہی سمجھتے تھے۔انہیںادبی خدمات کے صلے میں فراق گورکھپوری ایوارڈدیا گیا۔مشاعروں میں انہیںمحض چینی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے عمدہ کلام کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا تھا۔
اُردو سے ان کے عشق کی ابتدا جنگِ عظیم دوئم کے دوران ہوئی جب ان کے والدین مالی مشکلات کے باعث کولکتہ سے جمشید پور منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے اور یونگ وان لیو کو ایک اردو اسکول میں داخل کرا دیا۔شروع شروع میں لیو کو اردو الفاظ سمجھنے میں بہت دشواری ہوئی تاہم چھ ماہ کے قلیل عرصے میں انہوں نے اردو پڑھنا ، لکھنا سیکھ لی۔اس کے بعد جب انہیں انگلش میڈیم اسکول بھیجا گیا تواُردو ان کی کمزوری بن چکی تھی۔انہوں نے 1958ء میںباقاعدہ شعر کہنا اور مشاعرو ں میں شریک ہونا شروع کیا۔1950ء میں ان کی شادی ہسیائو یی فاسے ہوئی جن کے والدین بھی چینی تھے اور حیدرآباد دکن میں رہتے تھے۔شیدا پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے لیکن اردوشاعری ہی ان کی پہلی محبت تھی۔شیدا چینی کا انتقال چوراسی برس کی عمر میں 2015ء میں ہوا۔
دُنیائے پر بہار کا موسم اداس ہے
تیرے بغیر پیار کا موسم اداس ہے
شعلہ کچھ اور دل کی تڑپ کا جگائیے
شب ہائے انتظار کا موسم اداس ہے
کچھ ہم کو راس آگئی پابندی فضا
کچھ ان کے اختیار کا موسم اداس ہے
کیا گردش جہاں کی ہے تلخی بڑھی ہوئی
کیوں نشہ و خمار کا موسم اداس ہے
شیدا چینی اُردو شاعری کے ساتھ ساتھ وائلن بجانے کے بھی شوقین تھے۔شیدا نے اپنی پہلی غزل 1951ء میں کہی اور پھر ایسے رواں ہوئے کہ بھارت کے طول و عرض میں ہونے والے مشاعروں میں ان کی شرکت لازم وملزوم ہو گئی۔ایک غزل جو وہ ہر مشاعرے میں پڑھتے تھے، سامعین کو ازبر ہو گئی تھی۔
کھل بھی جاؤ کہ لوگ کہتے ہیں
بے سبب برہمی نہیں ہو تی
حوصلہ چاہئے محبت میں
بزدلی عاشقی نہیں ہو تی
لذتِ گفتگو نہیں ملتی
بات جب آپ کی نہیں ہو تی
زندگی آشنا نہ ہو جب تک
شاعری، شاعری نہیں ہو تی.