دنیامیںرونما ہونیوالی تبدیلیاںوجہ سے نئی اور پرانی نسل کے درمیان ’’جنریشن گیپ ‘‘ بڑھتا جا رہا ہے ۔نیز نئی نسل تاریخ کی کتابوں سے بھی دور ہو تی جا رہی ہے، لہٰذاضرورت محسوس کی گئی کہ نئی نسل کی آگاہی کیلئے قائد اعظم کی سالگرہ کے موقع پر ایسا مضمون تحریر کیا جائے جس سے لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ بانی پاکستان کو قائداعظم کا لقب کس نے دیا تھا ۔پاکستان کے ایک مستند انسائیکلو پیڈیا ’’پاکستانیکا‘‘ از سید قاسم محمود ، چھٹا ایڈیشن ، نومبر 2008ء صفحہ نمبر889 کے مطابق مولانا مظہر الدین نے محمد علی جناح کو پہلی بار ’’قائداعظم‘‘ کا لقب دیا تھا ۔ دسمبر 1937ء میں مولانا نے محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کو دہلی میں استقبالیہ دیا اور اپنے ادارے کی جانب سے سپاس نامہ پیش کیا ۔ اس سپاس نامے میں جناح صاحب کو ’’قائد اعظم، فدائے ملک و ملت ، رہنمااور قائد ملت ‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا ۔ اس کے بعد تو مولانا نے جناح صاحب کے لقب ’’قائد اعظم‘‘ کی باقاعدہ تشہیر شروع کر دی تھی۔مولانا مظہر الدین 1888ء میں شیر کوٹ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ اس رعایت سے ’’مولانا شیر کوٹی‘‘ کہلاتے تھے ۔ 1918ء میں روزنامہ ’’مدینہ‘‘ بجنور سے وابستہ ہوئے۔ 1920ء میں اپنا ہفتہ وار اخبار ’’الامان‘‘ جاری کیا۔ بعد ازاں اسے دہلی منتقل کر دیا گیا۔ اس اخبار کے ذریعے تحریک خلافت کی پر زور حمایت کی بلکہ ضلع بجنور کی خلافت کمیٹی کے صدر بھی رہے ۔ 1935ء میں حج کی سعادت حاصل کی اوربعد میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور مسلم لیگ کی سر گرمیوں اور تحریک پاکستان کو گھر گھر پہنچانے کیلئے اپنا اخبار ’’وحدت‘‘ جاری کیا۔ 14 مارچ 1939ء کو مولانا صاحب کو ان کے دفتر ہی میں قتل کر دیا گیا ۔ 1937ء میں مولانا مظہر الدین نے محمد علی جناح کو ’’قائد اعظم ‘‘کا لقب دیا لیکن بعد ازاں دسمبر 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ پٹنہ میں میاں فیروز الدین احمد نے ’’قائد اعظم زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا ۔ اس کے بعد محمد علی جناح عوامی اور مقبول نام ’’قائد اعظم ‘‘ ہی ہو گیا۔اسی انسائیکلو پیڈیا کے صفحہ نمبر 720پر اس کی تصدیق کی گئی ہے۔میاں فیروز الدین 1901ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ مجلس خلافت کے قیام پر رجمنٹ کے سالار مقرر ہوئے۔ آل انڈیا مجلس خلافت کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے وقت کی تمام قومی و سیاسی تحریکوںمیں سرگرمی سے حصہ لیا۔ جمعیت العلمائے ہند ، یونٹی کانفرنس ، نہرو رپورٹ کی مخالفت ، سائمن کمیشن کا بائیکاٹ ، جلیا نو الا باغ کا سانحہ ، مسجد شہید گنج کی واگزاری، اور بالاخر 1918ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم نو کے بعد اس جماعت کیساتھ دائمی وابستگی رکھی۔علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان ، سر فضل حسین اور خضر حیات خان ٹوانہ کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم تھے بلکہ خضر حیات ٹوانہ نے تو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انہیں پانچ مربع اراضی اور ’’خان بہادر‘‘ کا لقب دینے کی پیشکش کی تھی بشرطیکہ وہ مسلم لیگ کی حمایت سے دست کش ہو جائیں۔ آپ نے اکتوبر 1946ء میں وفات پائی ۔ نومبر 1984 ء میں لاہور میونسپل کارپوریشن نے ایک سڑک انکے نام سے منسوب کی ۔ 1987ء میں حکومت پنجاب نے ’’تحریک پاکستان گولڈ میڈل‘‘ سے نوازا۔قائد اعظم کے لقب کے سلسلے میں مذکورہ انسائیکلو پیڈیا کے علاوہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان سے متعلق لکھی گئی تمام کتابوں میں مولانا مظہر الدین اور مولانا فیروز الدین کا نام ہی آتا ہے ۔