آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے عظیم قائد کا پاکستان، تتربتر ہوچکامنٹر ۔ کمزور ترین قوم کو جگایا، ناقابل تسخیر بنایا۔ تاریخ، جغرافیہ، قوم بنائی۔ صدیوں پر گہری نظر ڈالیں، ملکوں ڈھونڈیں، غرقاب سمندر کھنگالیں، تحقیق و تجسس میں ساتوں آسمان چھوئیں، قائداعظم کے پائے کا رہنما، دور دور، خال خال۔ قائداعظم کی اہلیت، صلاحیت، ذہانت، فطانت، فراست ،فرات، تدبر و تدبیر میں ہزاروں کتابیں آچکیں، ساتوں براعظم ملوث رہے۔ تمام مصنفین و محققین جستجو و تحقیق کے سفر میں قائد کی شخصیت کے سحر کے اسیر ہوئے، ایسا دیدہ و بینا، ناقابلِ یقین تھا۔ بیسویں صدی زرخیر، عالمی سطح پر کئی بہترین سیاست دان، معتبر مدبر، ممتاز سیاست مدار نمودار ہوئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک، تقابلی جائزہ ممکن نہیں۔ لینن، ٹیڈی روز ویلیٹ، صدر ڈیگال، چرچل، گاندھی، موزے تنگ، کمال اتا ترک، ہیل سلاسی، ٹرومین، منڈیلا بیسیوئوں نام ایک سے ایک بڑھ کر منجھا ہوا سیاستدان سیاسی افق پر روشن رہا، قائداعظم سب سے نمایاں کہ مستند تاریخ دان، فلسفی، محقق پروفیسر اسٹینلے والپرٹ کی، ’’گل مکا دی‘‘۔ ’’انسانی سیاسی تاریخ میں معدودے چند نے تاریخ کا دھارا بدلا، اس سے بھی کم نے دنیا کے نقشے بدلے، تاریخ انسانی میں ایک بھی نہیں جس نے سیاسی ملی ریاست (NATION STATE)قائم کی ہو۔ عظیم قائد تاریخ انسانی کا واحد

سیاستدان تینوں کام سرانجام دے گیا۔‘‘ تاریخ بدلی، جغرافیہ بدلا، نئی قوم نئی ریاست بنا ڈالی۔
اسٹینلے والپرٹ نے"JINNAH OF PAKISTAN"میں قائد پر اعتقاد، اعتماد، بھروسہ، تعریف و توصیف کے پل باندھ ڈالے۔ جگہ جگہ ہکا بکا، ایک خوبصورت نوجوان لندن تھیٹر میں شکسپئر ڈرامے میں پانچ ہزار پونڈ ماہانہ کلیدی کردار آفر ہوا، آمادہ بھی ہوا لیکن بالآخر چھوڑ کر ہندوستان واپس آ گیا کہ والد سے وعدہ تھا۔ اسٹینلے ورطہ حیرت میں کہ خوبرو جناح کا ساری جوانی ایک اسکینڈل نہ بنا، کبھی جھوٹ نہ بولا، معمولی بددیانتی قریب نہ پھٹکی۔
جس مورخ محقق نے اپنی تحقیق و جستجو میں قائداعظم محمد علی جناح کو موضوع بنایا، ششدر رہا۔ ہیکٹربلیٹو سے شروع کہانی ،والپرٹ (1984) تک، نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ والپرٹ کے بعد بھی جہاں جہاں جس جس نے جناح کو موضوع بنایا، جناح کی کرشماتی سحر طراز شخصیت کو مسحور کن پایا، سحر زدہ رہا۔ نوزائیدہ حکومت پاکستان کی درخواست پر قائداعظم کی ذاتی، سماجی، تعلیمی، سیاسی زندگی پر نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ہیکٹر بلیٹو نے پہلی بار باقاعدہ کام کیا۔ ہیکٹر نے 200صفحات پر مشتمل قائداعظم کی بائیو گرافی مکمل کی، شکایت ایک ہی کہ جناح پر مواد اور تفصیلات کثیر تعداد میں میسر نہیں۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے اپنی ساری معلومات من و عن ہیکٹر کے حوالے رکھیں، چار سال تحقیق کرتے رہے۔ زمانہ ایسا، قائداعظم کے متعلقین، عزیز و اقارب، دوست، دشمن سب زندہ تھے۔ ہیکٹر، ملاقاتوں کے لئے پاکستان بھارت درمیان شٹل ہی کرتا رہا۔ لگ بھگ 600اہم شخصیات کے انٹرویو لئے۔ 1954میں قائداعظم پر کتاب مکمل ضرور کی، ناکافی معلومات کا شکوہ رفع نہ ہوا۔ گو اسٹینلے والپرٹ اور بعد کے زمانہ کے مورخین محققین کی سہولت کئی گنا بڑھ چکی ہے، بے شمار دستاویزات، مندرجات، یادداشت، واقعات، رپورٹس موجود، منظرعام پر آ چکی ہیں۔ اُس زمانے کے صیغہ راز کی معلومات آج صیغہ عام میں ہیں۔ واقعات کے تانے بانے، باہمی جوڑ توڑ مختلف جائزے، تجزئیے، آسان اور عام فہم، ہر طالب علم کی دسترس میں ہیں۔ پچھلی 3دہائیوں میں قائداعظم پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ہر گزری گھڑی، دہائی قائد اعظم کی شخصیت کی سحر انگیزی،غیر معمولی، غیر مرئی پیچیدگی میں اضافہ کر جاتی ہے۔ چند ماہ پہلے شیلا ریڈی کی کتاب ’’مسٹر اور مسز جناح‘‘ نے عظیم قائد کی خانگی زندگی کا احاطہ کیا تو نئی نویلی شخصیت، نیا تکلیف دہ پہلو سامنے آیا، لب لباب کہ سیاست کے لئے لاڈلی بیوی بھی نظرانداز ہوئی، تنہائی مسز جناح کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ثبت سمجھیں کہ ہر آنے والی صدی نے قائداعظم کا قد کاٹھ مزید بڑھانا ہے۔ مافوق الفطرت شخصیت ہونے کے درجات مزید بلند ہوں گے۔
پچھلی تین دہائیوں سے کتابوں کے جم غفیر میں، ولیم ایس منٹر کی کتاب، "THE POLITICAL CAREER OF MOHAMMAD ALI JINNAH" نے سب سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ ولیم منٹر (1918-1971) نے 52 سال عمر پائی۔ 1948میں یونیورسٹی آف پینسلوانیا میں ڈاکٹریٹ کے لئے رجسٹر ہوا۔ 1952میں ڈاکٹریٹ مکمل کر لی۔ خبر نہیں ،کیا سوجھی کہ تحقیقی مقالہ کا موضوع ’’محمد علی جناح کی سیاسی زندگی‘‘ بنایا۔ حیرت، دوران تعلیم یا اوائل عمر میں کبھی امریکہ سے باہر قدم رنجا نہ فرمایا۔ ایسی جامع تحقیق کہ چاروں طبق روشن رکھتی ہے۔
ہیکٹر بلیٹو نے 4سال پاک بھارت لائبریریاں اور سرکاری دستاویزات کھنگالے، حکومت پاکستان کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی جب"JINNAH, CREATER OF PAKISTAN" لکھی تشنگی ختم نہ ہو پائی۔ مرٹنر کا اعزاز کہ کھوج، تحقیق میں قائد کی سیاست کی تہہ تک جا پہنچے، کماحقہ ٗ انصاف کیا۔
ولیم منٹر کا کام کٹھن اس لئے کہ سات سمندر پار ہیکٹر سے پہلے مکمل کیا۔ یقیناً1948 میں ناموافق حالات، ناکافی مندرجات، نامناسب مشمولات یقینی رہے ہوں گے، آفرین! شاہکار تحقیق تخلیق کی۔ تحقیق کا مرکزی خیال حیرت کا بھنور ہی، کھوج لگایا کہ ایمبیسڈر آف ہندو مسلم یونٹی، ہندو کانگریس اور مسلم لیگ کو قریب لانے جوڑنے والا بالآخر دو قومی نظریہ کا علمبردار کیسے اور کیونکر بنا؟ جناح کے سیاسی سفر کا ایسا احاطہ، دانشورانہ مہارت کی انوکھی مثال رقم کی۔ مرٹنر بتاتے ہیں کہ علامہ اقبال کا رول کلیدی تھا۔ قائداعظم کاحکیم الامت سے نظریاتی رہنمائی لینا اور اس کی تہہ تک پہنچنا ریسرچ کا حاصل کلام ہے۔ کامیاب تحقیق ڈاکٹریٹ ڈگری کا وسیلہ ضرور بنی، لائبریری کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گم ہو گئی۔ مقالہ 60سال سے لائبریری میں، دن کی روشنی سے محروم، الماریوں میں بند تھا، اگر ڈاکٹر رضا کاظمی سفر وسیلہ ظفر نہ بناتے۔ عظیم قائد کے عاشق، محقق پروفیسر ڈاکٹر رضا کاظمی، اپنی تحقیق تگ و دو ، حوالہ جات کی تصدیق کرتے کرتے یونیورسٹی آف پینسلوانیا پہنچے۔ جھاڑ پونچھ کر مٹنر کے مقالہ کو2010میں باہر نکالا، سورج کی روشنی دکھائی، کتابی صورت میں چھپوا کر عام کیا۔ ڈاکٹر کاظمی! قوم آپ کی اس کاوش پر آپ کو سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ آپ کو اس کارِ عظیم پر اجر عظیم دے (آمین)۔ پچھلے 7سالوں میں،یہ کتاب درجنوں خرید کر بے شمار دوستوں کو تحفہ دے چکا ہوں۔ مجیب الرحمن شامی، ڈاکٹر صفدر محمود کی سطح کے دانشور دوستوں کے حوالے کیں۔ کتاب کی پہلی ریڈنگ مکمل کی تو عمران خان کے حوالے کرتے تلقین کی کہ کتاب کو گھوٹ لو۔ سیاسی اسرار و رموز، تدبیر و تدبر کی کمی بیشی کتاب پوری رکھے گی۔ کتاب کو آج بھی سیاستدانوں کے لئے بہترین استاد جانتا ہوں۔ پچھلے چار سالوں میں چند ہفتے ہوئے، میاں نواز شریف اور مریم نواز سے پہلی دفعہ بالمشافہ آمنا سامنا ہوا تو، چھوٹتے ہی مریم نواز کو ولیم منٹر کی کتاب نذرکر دی۔ پاکستانی سیاست میں سیاسی کردار کی تربیت میں اس سے بڑی رہنمائی کہیں اور دستیاب نہیں۔
ولیم منٹر کا حاصل مطالعہ ہے کیا؟دو قومی نظریہ تک پہنچنے کا رازپا لیا۔ بتا دیا، (1936-37)کے الیکشن کی ذلت آمیز شکست نے جناح کو متاثر کیا۔ عظیم قائد سیاسی اسٹرٹیجی پر غور و فکر پر مجبور ہوئے۔ قائد کی زندگی کا چوتھا موقع جب ایسی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہوئے۔
علامہ اقبال کے خطوط نے جہاں قائد اعظم کے حوصلے بڑھائے وہاں نظریاتی راستہ شدومد سے اپنانے کی تلقین کی۔ عظیم قائد نے حرف بحرف پلو سے باندھ لیا۔ 1938کی نظریاتی یکسوئی نے آناً فاناً برصغیر کے مسلمانوں کو عظیم قائد کا گرویدہ بنا ڈالا۔ بعد ازاں23مارچ1940، وجودِ پاکستان کا غیررسمی اعلامیہ ہی سمجھیں، یہ وہ نکتہ جس پر ولیم منٹر کو ڈاکٹریٹ ڈگری ملی۔ ایس ایم برق نے قائداعظم کے 92افکار، بیانات، انٹرویوز(1947-48) کو یکجا کرکے کتابی صورت پیش کرکے بڑی خدمت کی ہے، 236صفحات کی ریڈنگ وقت کا بہترین استعمال ہے۔ ایک دفعہ پڑھیں، یقین دلاتا ہوں، کوئی کنفیوژن نہیں، نظریاتی ابہام دور ہو جائے گا۔ زبان، نظام، اسلام، جمہوریت، شہری آزادی، بنیادی حقوق، اداراتی ڈسپلن کوئی پہلو تشنہ طلب نہیں چھوڑا۔ سوچتا ہوں دنیا کی سب سے بڑی معجزاتی حقیقت قرآن حکیم، دنیا کی سب سے بڑی شخصیت ذاتِ مبارکہ ﷺ، چلتا پھرتا قرآن، احکامات فرامین متفقہ علیہ ہمارے درمیان موجود، 72فرقے بنا چکے۔ آج قائداعظم کے ارشادات بارے کنفیوژن پھیلتا، توڑ موڑ کر پیش ہوتے دیکھتا ہوں۔ قوم کو گمراہ کرنے کی تگ و دو جاری دیکھتا ہوں افسوس نہیں ہوتا، قوم کی بدقسمتی پر مایوسی ضرور رہتی ہے۔
قائداعظم کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے سیاستدانوں کے لئے، پوری قوم کے لئے مشعل راہ بننا تھا۔ دیکھ کر تکلیف ہوئی کہ عظیم قائد کا یوم پیدائش، کروفر کا اہتمام رہا، قابل ستائش ہے۔ مگر تقاریر اور میڈیا پر پیغام کو مسخ ہوتے دیکھ کر تکلیف رہی۔ قائداعظم کے پیغام کو بذریعہ جہالت یا بدنیتی مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ قومی رہنمائوں سے قائداعظم اور تحریک پاکستان بارے 10سوالات کا پوچھیں شرطیہ کہتا ہوں۔ ایک سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے پائیں گے۔ حال مقیم سیاست دانوں کی پہلی ترجیح سیاست ہر گز نہیں جبکہ 45سالہ سیاسی زندگی میں قائداعظم کی پہلی ترجیح ہمیشہ سیاست رہی۔ روز اول سے پیشہ وکالت جو آج کی تاریخ میں اربوں روپے قائداعظم کا واحد نان نفقہ تھا۔ وکالت کے پیشے کو کبھی سیاست کے آڑے نہ آنے دیا۔ رتی جناح سے شادی کی ناکامی یا رتی جناح کی تکلیف دہ موت، قائداعظم کی ترجیح کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سیاست آئیڈیل ازم کا دوسرا نام ہے۔ نظریہ سے بانجھ سیاست مفاداتی تو ہو سکتی ہے، نظریاتی ہرگزنہیں۔ آج کے سیاست دان، عظیم قائد کے سامنے، کہاں عظیم قائد اور کہاں آج کے گنگو تیلی۔قائد اعظم کی سالگرہ پر، یہی تعین ہو جاتا، کہ نظریہ پاکستان، ریشہ دوانیوں کی کیوں بھینٹ چڑھا۔ نظریہ اور زبان نے قوم بنانی تھی۔ زباں نہ نظریہ، قوم تتر بتر، یہ ہے عظیم قائد کا پاکستان

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں