آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شطرنج اور سیاست جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں اِن کی ’’بساط‘‘ بالکل ایک جیسی ہوتی ہے، اِسے بچھانے کا طریقہ بھی تقریباً ملتا جلتا ہے، سوچ سمجھ کرچال چلنا، ایک دوسرے پروار کرنا، لالچ دینے کے لئے اپنا کوئی ’’پیادہ‘‘ طاقتور مہرے کے سامنے رکھ دینا تاکہ دوسرا کھلاڑی اُسے مارنے کی جلدی اور لالچ میں اپنا طاقتور مہرہ گنوا بیٹھے، کبھی کامیاب ہونا اور کبھی پیادوں کی قربانی دے دینا یہ سب کچھ اِس کھیل کا حصہ ہے جو ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ سیاسی بساط پر دونوں اطراف کے کھلاڑیوں کے پاس مساوی تعداد کے مہرے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اُن مہروں کے رنگ ایک جیسے نہیں ہوتے، ایک طرف سیاہ اور دوسری طرف سفید مہرے آمنے سامنے اپنے اپنے بادشاہ کو بچانے کے لئے میدان میں موجود ہوتے ہیں، دونوں اطراف کے گھوڑے اڑھائی چال چلتے ہیں، دو خانے سیدھے اور ایک خانہ دائیں یا بائیں، قلعہ جہاں پڑا ہو وہاں سے سیدھا چلتا ہے، دو ہاتھی ایک دائیں اور ایک بائیں جاتا ہے، پیادہ ایک گھر ہی چل سکتا ہے جبکہ وزیر سب سے زیادہ چالیں چلتا ہے وہ جس جانب چاہے جا سکتا ہے، بادشاہ ’’شہ‘‘ ہونے سے پہلے تک ایک بار اڑھائی چال چل کر خود کو محفوظ بناتا ہے اور اپنے ارد گرد مختلف مہروں کا حصار بنا کر بساط پر جاری جنگ کا حصہ بن جاتا ہے۔ شطرنج اور سیاسی چالوں میں سب سے

زیادہ پیادوں کی قربانی دی جاتی ہے تاکہ اُن کے پیچھے رہ جانے والے طاقتور مہروں کو راستہ صاف مل جائے اور وہ مدمقابل کے بادشاہ کو اپنی گرفت میں لے کر شکست دے سکیں۔ پاکستان میں آج تک جتنی بھی سیاسی جماعتیں برسر اقتدار رہیں ان کے طاقتور مہروں نے اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے ہمیشہ ’’پیادوں‘‘ کی قربانی دی، شطرنج اور سیاست اِس اعتبار سے بھی دلچسپ کھیل ہیں کہ ایک طرف کا بادشاہ اور وزیر مل کر تمام چالوں پر نظر رکھتے ہیں اور خود کو بچانے کے لئے کئی بار طاقتور مہروں کو بھی دائو پر لگا دیتے ہیں۔ سیاسی اور شطرنج کی بساط پر جیتنے کے لئے ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے مہرے دوسرے کھلاڑی کے بادشاہ کو شکست دینے کے لئے اُس کے حصے میں لے جائے جاتے ہیں لیکن اگر وہاں خطرہ محسوس ہو کہ ہمارا مہرہ وہیں شکست کھا جائے گا تو اُسے کسی بہانے یا چال سے واپس لایا جاتا ہے، بس اِسی طرح ایک دوسرے پر ’’وار‘‘ کرتے ہوئے کھیل کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ 2013میں مسلم لیگ ن نے بساط بچھائی، اپنے قلعے، گھوڑے، ہاتھی، وزیر اور پیادوں کی فوج پاکستان کے خراب حالات کے مقابلے میں اُتاری، سب سے پہلے تو بادشاہ اور وزیر نے مل کر اپنے آپ کو محفوظ کیا اُس کے بعد کبھی پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، طارق فاطمی، زاہد حامد اور کبھی مشاہد اللہ خان جیسے پیادوں کی قربانی دیکر اپنی حکومت کو بچانے کی کوشش کی، لیکن مدمقابل کھلاڑی بھی شاطر تھے انہوں نے چار سال تک بادشاہ اور وزیر کو شکست دینے کے لئے پے در پے حملے کئے، کبھی گھوڑے نے ’’دھرنے‘‘ کی اڑھائی چال چلی تو کبھی ہاتھی نے ’’پانامہ لیکس اسکینڈل‘‘ کی دائیں اور بائیں چالوں میں الجھائے رکھا، قلعے نے ’’ڈان لیکس‘‘ ایسی سیدھی چالوں سے وار کئے کہ خدا کی پناہ، خیر ہاتھی کی چال کامیاب ہوئی اور اُس سے پانامہ لیکس اسکینڈل کا نتیجہ سامنے آگیا جس سے حکومتی سیاسی بساط کا وزیر شکست کھا گیا، اب بغیر وزیر کے کھیل کھیلنا مشکل ہوا تو حکومت نے وزیر کی خالی جگہ پر ایک خیالی وزیر کو براجمان کیا اب حکومت اپنی تمام چالیں اُس خیالی وزیر کو سامنے رکھ کر چل رہی ہے۔ اِس صورت حال کے پیش نظر حکومتی بساط پر طاقتور مہروں نے اپنی پوزیشنیں اور اختیارات تبدیل کر لئے، جس سے یہ کھیل نہ صرف ختم ہوتے بچا بلکہ اس میں دونوں اطراف سے شدت بھی آ گئی۔ پاکستان میں بچھی اِس سیاسی بساط پر جاری کھیل اور اُس کی شدت کا پاکستانی عوام سمیت دوسرے ممالک میں مقیم تارکین وطن پاکستانیوں پر گہرا بلکہ انتہائی بُرا اثر ہوا ہے، یورپی ممالک میں مقیم پاکستانی جو کئی سالوں سے اکھٹے رہ رہے ہیں اُنہوں نے ان سیاسی جماعتوں کی چالوں کو نہ سمجھنے کی کوشش کی ہے اور شاید یہ چالیں اُن کی سمجھ میں آ بھی نہیں سکتیں، دُنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے دیارِ غیر میں ملکی سیاسی پارٹیاں بنا لی ہیں، اُن پارٹیوں کے صدور، ایگزیکٹو باڈیز اور دوسرے عہدیداران کا قیام عمل میں آ چکا ہے، فنڈز اور چندے اکٹھے کئے جاتے ہیں جو پاکستان میں سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کو بھیجے جاتے ہیں، دیارِ غیر میں مختلف مذہبی اور پاکستانی قومی دنوں کے منعقدہ پروگرامز میں مقررین ایک دوسرے پر اِس طرح کیچڑ اچھالتے ہیں کہ سننے والا کانوں میں انگلیاں دے لے، سیاسی پارٹیوں کے قائدین اُن کے بیٹوں، بیٹیوں اور بہنوں کے حوالے سے نازیبا الفاظ سے مزین واقعات بیان کئے جاتے ہیں، تقاریر میں سنائی دینے والے طوفان بدتمیزی پر فخر محسوس کیا جاتا ہے، اِن ممالک میں پاکستانی کمیونٹی اپنی سیاسی جماعتوں کی ہی نہیں بلکہ مقامی انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواران کے سپورٹر بھی ایک دوسرے پر بالکل پاکستانی روایات کے مطابق کیچڑ اُچھال رہے ہیں، کوئی مقرر تبدیلی لانے کی بات کرتا ہے تو کوئی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا حساب مانگ رہا ہے، کوئی موجودہ حکمرانوں کو بُرا کہہ رہا ہے تو کوئی کسی پارٹی کے قائد کے اہل خانہ اور اُس کی سابقہ زندگی کے اوراق پلٹ رہا ہے، یہ سب کیا اور کیوں ہے؟ اسپین کے صوبہ کاتالونیا کے صوبائی انتخابات میں دو پاکستانی بھی بطور اُمیدوار ممبر پارلیمنٹ میدان میں اُترے تھے، وہ جیت نہ سکے لیکن دونوں اُمیدواروں کے حامی ایک دوسرے سے لا تعلق ہو گئے، حامی یہ سمجھ ہی نہیں رہے کہ کل کو یہ دونوں اُمیدوار اکھٹے ہی میٹنگز، سیمینار اور جلسوں میں جائیں گے، دونوں پاکستانی ہیں پاکستان کے قومی پروگرامز میں اکٹھے ہونگے، کل کو دونوں کی صلح ہو گی لیکن وہ صلح کرتے یا اکھٹے ایک جگہ پر بیٹھتے وقت یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ چلو یار اپنے حامیوں کی بھی صلح کروا دیں، کیوں کہ ایسا ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ اسپین میں سیاسی، مذہبی اور سماجی معززین کہتے ہیں کہ ہم یہاں اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اچھا اور مثبت پلیٹ فارم پیدا کر رہے ہیں، وہ بالکل غلط کہہ رہے ہیں یہاں ہم اپنے بچوں کو سوائے نفرت اور دوسروں کے خلاف چلنے کے علاوہ کوئی ترغیب نہیں دے رہے، یہاں مقیم ہماری آئندہ نسلیں اِن نام نہاد معززین کے مشورے کے بغیر ان شاءاللہ اپنا راستہ خود تلاش کریں گی، ہم سے بہتر، بھائی چارے اور محبت والا پلیٹ فارم پیدا کرنے کے لئے بچوں کو ہمارے نقشِ قدم پر چلنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ محبت سے عاری نفرت سے بھرے ایسے صحرا کی طرف چلے جائیں گے جس کا کنارہ ڈھونڈنے میں مدتیں درکار ہوتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں