• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

استنبول: 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی مخالفت

فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا
فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

استنبول میں 8 علاقائی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کا بند کمرہ اجلاس ہوا ہے جس میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلے 4 علاقائی ممالک کا اجلاس ہوا، جس میں ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں پر بات کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں 4 یورپی ممالک بھی اجلاس میں شریک ہو گئے، جس میں جاری تنازعات کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے کے دو بڑے تنازعات آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور بحیرۂ اسود سمیت اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ اور آزاد تجارت کو شدید متاثر کر رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام شریک ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ تباہی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، کسی ملک نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی حمایت نہیں کی۔

ترک وزیرِ خارجہ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور جامع امن معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جبکہ بحیرۂ اسود میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید