• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیخ ایاز ادب کی دنیا میں ایک خلا چھوڑ گئے

Ayaz Left Space In World Litereature

سندھی زبان کے معروف شاعر اور ادیب شیخ ایاز کی 20 ویں برسی آج منائی جارہی ہے، 28 دسمبر 1997 کو شیخ ایاز دل کی تکلیف کے باعث انتقال کرگئے اور ادب کی دنیا میں ہمیشہ کے لئے ایک خلا چھوڑ گئے۔

شیخ ایاز 2 مارچ 1923 کو شکار پور میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام مبار ک علی شیخ تھا، شعبے کے لحاظ سے وہ ایک قانون دان تھے اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

شیخ ایاز کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے اگر انہیں جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔

شیخ ایاز نے سندھی شاعری اور ادب میں جدید رحجانات متعارف کرائے۔ ایاز نے سندھی میں متعدد کتابوں، کھیل اور مختصر کہانیوں کے علاوہ اردو زبان میں شاعری کی اور مضمون لکھے اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کے مجموعہ شاھ جو رسالو کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔

23 مارچ 1994 کو شیخ ایاز کو ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلالِ امتیاز سے نوازہ گیا،جبکہ 16 اکتوبر 1994 کو ’فیض احمد فیض ایوارڈ‘ بھی ملا۔

 

تازہ ترین