آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں آج کل عدالتی فیصلوں پر تبصروں اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ملکی تاریخ میں کبھی بھی عدالتی فیصلے اس طرح زیر بحث نہیں رہے جیسا اب ہورہا ہے۔ مضبوط عدالتی نظام کسی بھی ملک کی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔ جس ریاست یا ملک کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگ جائے، وہ ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ عدلیہ کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی پاکستان کے لئے اشد ضروری ہے۔ کسی بھی شخص کو عدالتوں کو سیاسی نہیں بنانا چاہئے اور معزز عدالتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ خود کو سیاسی معاملات سے دور رکھیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عدالتیں اور عدالتی فیصلے عوامی سطح پر مثبت یا منفی طور پر زیربحث آنا شروع ہوجائیں، تب عدالتی سسٹم کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کسی بھی قیمت پر عدالتی فیصلوں کو ایک حد سے زیادہ عوامی سطح پر ڈسکس نہیں ہونا چاہئے۔ عدالتوں کا بھرم ہی اسی میں ہوتا ہے کہ ان کا احترام عوام کے دلوں میں قائم رہے۔ جب کسی بھی معاملے پر ایک حد سے زیادہ تبصرے اور بحث شروع ہوجاتی ہے تو اس کا بھرم ختم ہوجاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ مرحوم جنرل (ر) حمید گل مجھ سے کہنے لگے کہ انٹیلی جنس ایجنسیز کے سیاسی کردار اور کارکردگی پر سر عام بحث شروع ہوچکی ہے حالانکہ جب میں انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ

تھا تو کسی کی جرات نہیں تھی کہ ہمارے ادارے کا نام لے۔ اس خاکسار نے وجہ پوچھی تو جنرل (ر) حمید گل کہنے لگے کہ اس کی وجہ ہمارا ادارہ خود ہے۔ جنرل (ر) صاحب کہنے لگے کہ لوگ اداروں سے ڈرتے نہیں ہیں بلکہ ان کا احترام کرتے ہیں اور اس احترام کے پیچھے بھرم ہوتا ہے وگرنہ کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جنرل (ر) حمید گل مرحوم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور کہنے لگے کہ یہ بھرم ہم نے خود توڑا ہے۔جب ادارے ایک حد سے زیادہ عوام یا کسی بھی طبقے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ردعمل آتا ہے اور اس ردعمل میں سب کچھ ٹوٹ جاتا ہے، چاہے وہ بھرم ہو یا پھر احترام۔ جنرل (ر) حمید گل مرحوم کہنے لگے کہ ایک تھانے میں بمشکل چالیس کے قریب نفری ہوتی ہے۔مگر چالیس افراد کئی ہزار لوگوں کے امن و امان کو یقینی بنارہے ہوتے ہیں۔ ایک گاؤں میں کانسٹیبل چلا جائے تو پورا گاؤں ایس ایچ او کے پیغام پر عمل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں احترام اور بھرم ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایس ایچ او علاقے میں زیادتی کاسلسلہ مسلسل جاری رکھے اور ہر معاملے میں زیادتی کرتا رہے تو ایک دن آتا ہے کہ پولیس کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے اور لوگ تھانے کو آگ لگادیتے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی گاؤں یا علاقے میں ایسی صورتحال پیدا ہو تو عقلمند ڈی پی او پہلے ہی متعلقہ ایس ایچ او ہٹا دیتا ہے۔ اس کا پہلا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کا اداروں پر اعتماد اور احترام بحال رہے۔جب اداروں پر تنقید بڑھ جائے اور عوام اداروں کا احترام کرنے پر تیار نہ ہوں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ فوری ایکشن کرکے اداروں میں تبدیلی لائی جائے ،تاکہ بھرم قائم رہے۔
پاکستان میں مضبوط عدالتی نظام جمہوریت کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی کے لئے اشد ضروری ہے۔ عدالتوں کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر ہر عدالتی فیصلہ عوامی سطح پر زیر بحث ہونا شروع ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ اداروں کو سوچنا چاہئے۔ جس ملک کا عدالتی نظام کمزور ہوتا ہے وہ ملک ٹوٹ جاتے ہیں لیکن جس ملک کا عدالتی نظام عوامی سطح پر زیر بحث ہونا شروع ہوجائے وہ ملک بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ عدالتوں کی عزت و تکریم پر کوئی سمجھوتہ نہیں مگر دنیا بھر میں عدالتوں نے جب بھی کبھی سیاسی مقدمات سننا شروع کئے ہیں، نقصان عدالتوں کا ہوا ہے۔ عدلیہ کی بحالی اور آئین کی بالادستی میں سابق چیف جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری کا اہم کردار ہے۔ پاکستان میں کبھی بھی کسی چیف جسٹس کو اتنی شہرت اور عزت نصیب نہیں ہوئی جو افتخار محمد چوہدری صاحب کا مقدر بنی لیکن نہ ان کا وقت واپس آسکتا ہے اور نہ ہر بندہ افتخار چوہدری بن سکتا ہے۔جن حالات میں افتخار چوہدری صاحب نے حق کا علم بلند کیا، خدا وہ حالات کسی بھی معزز جج صاحب کو نہ دکھائے۔لاپتہ کیس سے لے کر بلوچستان و سندھ بدامنی کیس تک سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات لازوال ہیں۔ ایگزیکٹو کی اربوں روپے کی کرپشن روکنے کا سہرا اس مرد طرح دار کے سر ہے۔صرف ریکوڈک کیس دیکھ لیں، افتخار چوہدری کی عدل فراہمی کے لئے خدمات بھولی نہیں جاسکتیں۔ آج افتخار چوہدری نہیں ہے تو سامنے آصف زرداری بھی نہیں ہے۔ آج ملک میں زرداری دور جیسے حالات نہیں ہیں۔ زرداری کی کرپشن کو روکنا افتخار چوہدری کا بڑا کارنامہ تھا مگر پی پی پی کی کرپشن روکنے کے کیسز میں بھی افتخار چوہدری نے آئین و قانون کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔ افتخار چوہدری ایگزیکٹو پر ہاتھ ڈال کر مضبوط چیف جسٹس نہیں بنا تھا بلکہ افتخار محمد چوہدری مضبوط ہاتھوں پر ہاتھ ڈال کر مضبوط ترین چیف جسٹس بنا تھا۔ افتخار چوہدری کی وجہ مقبولیت لاپتہ کیسز اور توہین عدالت کے وہ نوٹسز تھے، جنہیں عام وضاحت جاری نہیں کی جاسکتی اور توہین عدالت کا نوٹس دینا تو دور کی بات ہے۔ ایسے اداروں کے سربراہان کو توہین عدالت کے نوٹسز دے کر افتخار چوہدری نے ایگزیکٹو کی نظروں میں اپنی اہمیت ،عزت اور بھرم قائم کیا۔ وگرنہ ایگزیکٹو کے ماتحت اداروں کے سربراہان فارغ کرنے یا توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے سے کبھی انتظامیہ آپ کا احترام نہیں کرتی۔ ہر بندہ افتخار چوہدری بننے کی کوشش کرتا ہے مگر افتخار چوہدری تو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ عدالتی نظام میں خرابیوں کو درست کرنے سمیت بہت سے کام سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نہیں کرسکے مگر جو کام اس نے کئے وہ بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ آج پاکستان میں عدالتی نظام پر تنقید ہوتی ہے تو شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ شاہراہ دستور کی عمارت میں بیٹھے ہوئے معزز جج صاحبان اس قوم کی آخری امید ہوتے ہیں۔ لیکن جب عدالتیں یوں زیر بحث ہونا شروع ہوجائیں تو انہیں خود غور کرنا چاہئے کہ وہ کون سے معاملات ہیں جو عدالتی نظام کو سیاسی اکھاڑے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اداروں کے سربراہان کو چاہئےکہ مضبوط اور موثر عدالتی نظام کو بچانے کے لئے اپنی حکمت عملی پر غور کریں۔ یہ نہ ہو کہ نوازشریف کو نااہل کرنے کے بعد جی ٹی روڈ پر نمودار ہونے والا جم غفیر دیکھ کر اندازہ ہو کہ Calculationمیں غلطی ہوگئی ہے اور پھر اس غلطی کو سدھارنے کا وقت گزر جائے۔ پاکستان کی بقا کے لئے اشد ضروری ہے کہ اداروں کا بھرم اور احترام قائم رہے،باقی جاتے جاتے عطاالحق قاسمی صاحب کی نظام عدل کو کئی برس قبل دی گئی دعا حاضر ہے۔ قاسمی صاحب کے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے مگر میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ اردو ادب کے لئے قاسمی صاحب کی خدمات لازوال ہیں۔
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں