آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جہاں وطن عزیز میں مقیم پاکستانیوں کو تذبذب کا شکار کیا ہے وہاں تارکین وطن پاکستانی بھی عدم برداشت کا یہ رویہ سیاست اور معاشرے کے لئے انتہائی خطر ناک قرار دے رہے ہیں۔ تارکین وطن پاکستانیوں کی سوچ ہے کہ سیاسی عدم برداشت اور رواداری کا فقدان پاکستانی جمہوریت کی بقااور سالمیت کے لئے نیک شگون نہیں۔ سیاست وہ اہم پیشہ ہے جس کے فرائض کی انجام دہی کے دوران عدم برداشت کے بہت سے پہلوئوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بعض اوقات عوام اخلاق اور جمہوری روایات کو پس پشت ڈال کر عدم برداشت میں سیخ پا ہوتے ہوئے سیاستدانوں کی طرف جوتے تک اُچھال دیتے ہیں۔ پاکستان میں وفاقی وزراء اور سینئر رہنماؤں پر جوتے اور سیاہی سے حملے کے واقعات سامنے آئے ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی پاکستان میں متعدد سیاست دانوں پر ایسے وار ہو چکے ہیں۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نارووال میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان نے ان کی جانب جوتا اچھال دیا جو ان کے ہاتھ پرلگا، جوتا پھینکنے والا گرفتار ہوا لیکن بعد ازاں وزیر داخلہ کے کہنے پر مجرم کو رہا کر دیا گیا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف پر نوجوان نے سیاہی پھینکی جو اُن کے چہرے اور کپڑوں پر گری، سیاہی

پھینکنے والا گرفتار ہوا لیکن وزیر خارجہ خواجہ آصف نے نوجوان کو معاف کر دیا جس سے اُسے رہائی مل گئی۔ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم بھی اس گھنائونے فعل کا نشانہ بن چکے ہیں، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پر انٹرویو کے دوران جوتا اچھالا گیا تھا، اس قسم کی ’’جوتا بازی‘‘ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ اس سے عالمی رہنما اور سیاست دان بھی محفوظ نہیں رہے، سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر2008میں عراق میں ایک تقریب کے دوران یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینکے گئے لیکن وہ بال بال بچ گئے تھے، سابق آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ پر اس وقت ایک شخص نے جوتا اچھالا جب وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے، سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پر لاس ویگاس میں تقریب کے دوران ایک خاتون نے جوتے سے حملہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی سابق وزیر داخلہ چدم برم، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجر یوال، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ پر بھی جوتوں اور طمانچوں کے وار ہو چکے ہیں جبکہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ٹونی بلیئر بھی جوتے کی زد میں آ چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف جامعہ نعیمیہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص نے ان پر جوتا اچھال دیا جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی تاہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ جوتے کے حملے تو ایک طرف میکسیکو کے وزیراعظم کو تو وہاں کے عوام نے کرپشن میں ملوث ہونے پر ’’کوڑے دان‘‘ میں ڈال کر سڑکوں پر گھمایا تھا۔ تارکین وطن پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن غیر شائستہ عمل کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، کسی بھی سیاسی مخالفت کا اظہار کرنے کے لئے بہت سے مہذب طریقے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں، اگر جوتا پھینکنے کی اس روایت کا قلع قمع نہ کیا گیا تو پھر کوئی بھی سیاسی رہنما اس انسانیت سے عاری عمل سے بچ نہیں پائے گا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب میاں محمد نواز شریف کی طرف جوتا پھینکا گیا تو اُس سے کچھ ہی دیر بعد تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو فیصل آباد میں مرزا محمد رمضان نامی شخص نے جوتا مارنے کی کوشش کی، جسے قابو کرکے پولیس کے حوالے کر دیا گیا، مرزا رمضان نے یہ عمل کیوں کیا؟ اُس کے اپنے بیان کے مطابق کہ ’’مجھے پنجاب کے وزیر قانون کے داماد نے کہا تھا کہ ہم نے عمران خان سے بدلہ لینا ہے۔‘‘ تارکین وطن پاکستانی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کسی کے چہرے پر سیاہی پھینکنے کی بجائے وہی سیاہی اپنے انگوٹھے پر لگا کر ایسے امیدواروں کو ووٹ دینا چاہئے جو عوام کی خواہشات کے عین مطابق کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں کیونکہ ایسا کرنے سے کسی پر جوتا پھینکنے یا سیاہی گرانے کی نوبت نہیںآئے گی۔ دوسری طرف وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور سابق نااہل وزیراعظم پر جوتا پھینکنے والے واقعہ پر مسلم لیگ ن کی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ عوام آخر ان کی پالیسیوں سے کیوں کر نالاں ہیں؟ جس کے اظہار کیلئے غیر شائستہ قدم اٹھانے کی نوبت آرہی ہے، بہر حال جو ہونا تھاوہ ہو گیا لیکن اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کوایک دوسرے کا تمسخر اُڑانے کی بجائے معاشرے میں عدم برداشت کے خاتمے، جمہوری روایات واقدار کو فروغ دینے اور ایسے واقعات کی مذمت اور حوصلہ شکنی کیلئے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ 2018کے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اور اُن کی اتحادی سیاسی جماعتوں کے امیدوار راجہ ظفرالحق اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار صادق سنجرانی سے شکست کھا گئے، سینیٹرز کے جوڑ توڑ میں آصف زرداری کامیاب ہو گئے، میاں نواز شریف اکیلے ہی جوڑ توڑ کرتے نظر آئے، میاں شہباز شریف نہ تو کسی سینیٹر کو ملے اور نہ ہی انہوں نے اپنی جماعت کے امیدوار کو فتح دلانے میں کسی قسم کا کوئی کردار ادا کیا، پنجاب اسمبلی میں زبیر گل کو کاسٹ نہ ہونے والے10مسلم لیگی ووٹ اور چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں کاسٹ نہ ہونے والے7لیگی ووٹ کہاں گئے؟ اُن ’’رفو چکر‘‘ ہونے والے ووٹوں کا پتا چلانا بہت مشکل ہے لیکن میاں شہباز شریف اور اُن کے ساتھیوں کی سینیٹ میں اپنے ہی امیدوار زبیر گل کی شکست کے لئے لابنگ اور چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں جوڑ توڑ میں عدم دلچسپی میاں برادران اور اُن کے بچوں کے اندرونی اختلافات کا پتا ضرور دے رہی ہے اور جب میاں برادران کے یہی پوشیدہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے تو پھر مسلم لیگ ن کو تقسیم ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور ویسے بھی بہت سے ایم پی اے اور ایم این ایز ’’جوتا‘‘ اور سیاہی پھینکنے کے واقعات کے بعد دوسری پارٹیوں کی جانب اُڑان بھرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں