آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بلوچستان: مارچ میں گرمی کا کئی سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

گزشتہ ماہ مارچ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پڑنےوالی گرمی کا کئی سال کاریکارڈ ٹوٹ گیا۔

29مارچ کےدن بلوچستان کے 3علاقوں لسبیلہ، تربت اور نوکنڈی میں گرم ترین رہا، لسبیلہ میں گرمی کا 34اور تربت اورنوکنڈی میں گرمی کا8،8سال کاریکارڈ ٹوٹا اور ان علاقوں میں زیادہ سےزیادہ گرمی کےنئے ریکارڈ قائم ہوگئے۔

بلوچستان کے مختلف میدانی علاقے آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،لسبیلہ، تربت اور نوکنڈی وہ علاقے ہیں جہاں مارچ شدید گرم رہا۔

محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ ماہ مارچ میں مختلف علاقوں میں پڑنے والی گرمی کے کئی سال کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

29مارچ 2018ءکو بلوچستان کےتین علاقوں میں سب سےزیادہ ریکارڈ گرمی پڑی۔

مارچ کےدوران لسبیلہ میں گرمی کا34اورتربت اور نوکنڈی میں 8،8سالہ ریکارڈ ٹوٹا ، لسبیلہ میں 29مارچ کوزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

اس سےقبل لسبیلہ میں سب سےزیادہ گرمی 30مارچ 1984ء کو پڑی تھی،اس دن 34سال قبل لسبیلہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسی طرح تربت میں گرمی کا 8سال کا ریکارڈ ٹوٹا، 29مارچ 2018کوتربت میں پارہ 44اعشاریہ 5ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیاتھا ، اس سےقبل تربت میں 16مارچ 2010ء کو سب سے زیادہ گرمی پڑی تھی، محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق 16مارچ 2010ءکو تربت میں درجہ حرارت 42ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا تھا۔

صوبے کے ایک اورعلاقے نوکنڈی میں بھی گزشتہ ماہ زیادہ سےزیادہ گرمی کا 8سالہ ریکارڈ ٹوٹا، نوکنڈی میں 29مارچ 2018ء کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40ڈگری تک پہنچ گیا تھا جبکہ اس سےقبل نوکنڈی میں 18مارچ 2010ء کو درجہ حرارت 38اعشاریہ 6ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔

محکمہ موسمیات نے رواں موسم گرما کے دوران صوبے کے بیشترعلاقوں میں عمومی طور پر گرمی کی شدت زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں