آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاست میں پوٹینشل شہریوں(سول سوسائٹی) کا کسی مخصوص معاشرتی شعبے کی مہارت سے اخلاص اور اس خلوص سے معاشرے کو فیضاب کرنا بڑا شیوہ انسانیت ہے۔ پاکستان میں آج کل شعر و ادب کے روبہ زوال ہونے کی نوحہ گری پر رسمی و غیر رسمی ادبی محفلیں ہورہی ہیں، جبکہ پاکستان کے سماجی اثاثے کی ہر قسم کی جانب سے اس شعور اور اعتراف کا اظہار برملا ہوتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی تشکیل میں ادب کا کردار جدید برصغیر کی مسلم صحافت و سیاست کے متوازی، تاریخ ساز رہا ہے۔ بلاشبہ دنیا کے ہر خطے میں صدیوں سے ادب معاشرے کی مسلسل صورت گری میں اپنا اعجاز دکھاتا رہا ہے۔
آج کےقومی منظر میں پاکستانی شعر و ادب کا المیہ یہ ہے کہ ملک میں کمیونیکشن ٹیکنالوجی کے تیز تر فروغ، یونیورسٹیوں کی بڑھتی تعداد، سب سے بڑھ کر ا دب کو میڈیا کی بھرپور معاونت اور ادیبوں کے معیار زندگی کا گراف خاصا بلند ہونے کے باوجود پاکستانی شعر و ادب، ہماری پارلیمنٹ، انتظامیہ، فارن ریزرو، پی آئی اے اور اسٹیل مل کی طرح روبہ زوال ہے۔ حوصلہ ا فزاء بات یہ ہے کہ جینوئن ادبا اور شعرا میں اس کا کھلا اعتراف پایا جاتا ہے اور وہ اس پر پریشان بھی ہیں۔ یہ فکران کی ہی نہیں سب ہی اہل دل اس پر فکر مند ہیں، لیکن ممتاز ماہر تعلیم و تحقیق، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سربراہ

ڈاکٹر شاہد صدیقی صرف اس صورتحال پر مضطرب نہیں، وہ ہمارے تاریخ ساز شعر و ادب کی بحالی اور اس کی ادارہ سازی تک عملاً کوشاں ہیں۔ انہوںنے ’’سالانہ لڑیچر کارنیوال‘‘ کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا مستقل فیچر بنادیا جو موسم بہار میں ادب کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس اور کتاب میلہ پر مشتمل ہے۔یوں انہوں نے فروغ صحافت کا سہارا لے کر ملک میں شعر و ادب کی زبوں حالی کا رخ اس کی بحالی اور ادارہ سازی کی طرف موڑ دیا ہے جس میں ’’صحافت کی معاونت‘‘ کو خصوصی حوالہ بنایا ہے۔ادیبوں کے اس قومی میلے میں مجھ ایسے فقط تدریس و عملی صحافت میں رنگے بےادب کو ادبا کی اس قومی بیٹھک میں بٹھا کر باادب ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ آج کا ’’آئین نو‘‘ اسی تناظر میں ہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب نے’’معاشرے کی تشکیل میں ادب صحافت اور سیاست کا کردار‘‘ کے حوالے سے اس ناچیز کو بھی نامی گرامی صحافیوں اور ادیبوں کی محفل میں اظہار خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔ جناب عطاء الحق قاسمی کی صدارت میں افتتاحی اجلاس کے بعد پہلی نشست کے موضوع پر شرکاء بحث محترمہ زاہدہ حنا، اور حامد میر کے اظہار خیال سے قبل ڈاکٹر صاحب نے مجھے تمہید باندھنے کا کٹھن کام سونپ دیا کیونکہ وجاہت مسعود غیر حاضر تھے، جنہیں ترتیب شدہ پروگرام کے مطابق یہ فریضہ سونپا گیا تھا اس پر شاگرد عزیز حامد میر نے اپنی گفتگو کا آغاز اس احتجاجی نوٹ سے کیا کہ’’اس ادبی محفل میں میرے استاد(ناچیز) کو شاگرد (حامد میر) سے پہلے بلوانے کی بےادبی کا ارتکاب ہوا ہے‘‘، تاہم میزبان ڈاکٹر صدیقی نے وضاحت کردی کہ ایسا موضوع پر گفتگو کے آغاز کے لئے تمہید فراہم کرنے کے لئے کیا گیا۔ میں نے بھی حامد میر کو مطمئن کردیا کہ فکر نہ کرو میں شاد ہوں کہ کٹورے پہ کٹورا، بیٹا باپ سے بھی گورا۔ ایسے قہقہوں میں سب حاضرین محفل مطمئن ہوگئے۔
یہ ہی تمہید میر اآج کا کالم ٹھہرا، امید تو ہے کہ اتفاق و اختلاف کے ساتھ شائقین سیاست اور ادب و صحافت کے لئے کچھ دال دلیہ ہو ہی گیا۔
اپنی اپنی عملی شکل کے اعتبار سے لیکن جدا جدا مقاصد کے لئے صحافت، ادب اور سیاست تینوں ہی ابلاغ عامہ کے ذرائع ہیں اس میں سیاستدانوں کا عوام الناس سے ابلاغ مسلسلTwo step flow of communicationکے زمرے میں آتا ہے کہ پہلے وہ سیاسی سرگرمیوں اور واقعات میں سیاسی ابلاغ کرتے ہیں جو میڈیا کی نیوز رپورٹنگ سے عوام الناس تک پہنچتا ہے۔ ادبی تخلیقات مختلف ا لنوع ادب پاروں کی شکل میں تیار ہو کر تو خاموش تفریح طبع کے لئے عوام الناس تک پہنچتی ہیں لیکن جاندار ہوں تو دھیرے دھیرے کمال نتائج دیتی ہیں۔ مختلف انسانی معاشروں کی تاریخ اور اس کے مختلف سنگ ہائے میل ثابت کرتے ہیں کہ سیاسی نظریات کی تشکیل، ترویج اور نتائج میں ادب پاروں اور کھلی یا لپٹی شاعر ی نے کمال کا کام دکھایا۔ بنتے بگڑتے معاشروں میں یہ کھیل زمانہ قدیم سے جاری ہے۔ پوری تاریخ انسانیت میں شعر و ادب شاہی درباروں کی لونڈی بھی رہا اور اس نے حریت فکر سے نئے معاشروں کی تشکیل بھی کی۔ کیا بہادر شاہ ظفر کا اجڑا دیارمجروں میں ڈھل جانے والی شاعری سے ہی نہیں تیار ہوا تھا؟ اور انقلاب فرانس، جس کے جھٹکے 7ہزار میل کا اوقیانوس عبور کرکے نومولود امریکہ تک پہنچے، روسو اور والٹر کی تحریروں کے بغیر زلزلے کی مانند ہی آتا؟ پندرہویں صدی کے وسط میں جرمنی میں پرنٹنگ مشین (چھاپے خانے کی ایجاد) کی ایجاد تاریخ انسانیت کی آخری پانچ صدیوں پر محیط زمانہ جدید کی سب سے انقلاب آفریں ایجاد نہیں؟ جس کے بعد ابلاغ عام کی طاقت اسلحے کی طاقت کو کمزور کرتی سماج و سیاست کو تبدیل کرتی، عوامی رویوں میں انقلاب برپا کرتی پیشہ صحافت میں ڈھلتی شاہانہ طاقت کے مقابل عوامی سیاست برپا کرتی مغربی(ویسٹ منسٹر برانڈ) جمہوریت کی شکل اختیار کرگئی جو متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد بھی جدید سیکولر جمہوری بھارت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان ہر دوریاستوں کی آزادی کے بعد بھی سیاسی نظام (پارلیمانی) کے لئے مرکز محویت قرار پائی۔
بلاشبہ ایک ہزار سال کی عالمی تاریخ کے بڑے سیاسی واقعات میں، برصغیر ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا قیام سرفہرست واقعات میں سے ایک ہے، جس کا خمیر سرسید کے حکیمانہ ادب، صحافت اور عرصے تک پوشیدہ سیاست سے تیار ہوا، جس سے دو قومی نظریے کی تشکیل، سید صاحب کے جداگانہ انتخابات کے پوشیدہ ایجنڈے کو مطالبے کے طور پر اٹھانے سے ہوئی، جو سماج کے قدرتی ادیبوں، شعراء اور بنتے صحافیوں کا زور ابلاغ نئے سیاسی مکتب فکر میں تبدیل ہوتا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم میں ڈھل گیا۔ یہ سیاسی شاعر اور فلسفی کا ویژن تھا جس نے عین صورتحال کے مطابق حضرت قائد اعظم جیسی یکتا قیادت کو پالیا اور پا کر انہیں سیاسی ادباء ، شعراء اور صحافیوں کے قافلہ آزادی کی معاونت دی جو دو قومی نظریے پر فوکس ہوگیا،یوں قائد اعظم کی قیادت میں پاکستان بنا ڈالا۔ گویا مسلم ادباء اور صحافیوں کے قافلے نے قائد کی قیادت اور نظریہ ساز فلسفی اقبال کے فلسفے کی کمال اور نتیجہ خیز انسپائریشن سے برصغیر کے ماحول میں فرنگی حکومت کی موجودگی میں ہلچل مچادی۔
وائے بدنصیبی آج پاکستان کا ادب اپنے ارتقاء سے اتنا محروم رہا جتنا فوجی آمرانہ ادوار میں بھی سرکاری سرپرستی میں بمشکل ادارہ سازی اور حریت فکر کی ترویج دونوں سے ارتقاء پذیر رہا۔ بدقسمتی سے ہمارے ادباء اور شاعر صحافت اور سیاست کی طاقت کے اسیر ہو کر اس میں اپنی آسودگی کے لئے پناہ تلاش کرتے اپنا تخلیق کار کا تشخص کھو بیٹھے ہیں۔ وہ سیاسی دھڑوں کے اسیر ہو کر نظریاتی سیاست آنکھیں چرانے لگے ہیں اور خود کو ادیب ثابت کرپارہے ہیں، نہ صحافی وہ صحافت میں تو فقط پناہ گزین کے درجے پر ہیں۔ جس سے پاکستان میں دانش کی دائیں اور بائیں کی شکل میں قدرتی تقسیم سے نکلنے والے وہ سیاسی نظریات زوال پذیر ہوگئے جو آئیڈیل جمہوری معاشروں میں جمہوری اتفاق اور اختلاف کے زور پر پوری دنیا کے لئے عمل میں ڈھل جانے والی مثالی جمہوریت ہے۔ یہ ادیبوں اور شعراء کے لئے ہی نہیں، قومی فکر کی بات ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں