آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بھارت میں مکہ مسجد دھماکے کے تمام ہندو انتہا پسند ملزم بری

حیدر آباددکن(مانیٹرنگ سیل)بھارتی عدالت نے مکہ مسجد دھماکے کے تمام ہندو انتہا پسند ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کردیا۔ حیدرآباد کی خصوصی تحقیقاتی عدالت نے کیس میں قرار دیا کہ ملزمان کیخلاف شواہد ناکافی ہیں،واقعے کی ذمہ داری انتہا پسندتنظیم ابھینو بھارت نے قبول کی تھی،بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد کی خصوصی تحقیقاتی عدالت نے کئی برس تک چلنے والے مکہ مسجد دھماکے کیس کے تمام ملزمان کو بری کردیا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملزمان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں، اس لئےانہیں بری کیا جاتا ہے۔بھارتی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدر آباد کی تاریخی مکہ مسجد سے ملحقہ چار مینار میں 18 مئی 2007 کو اس وقت دھماکا ہوا تھا جب لوگوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد وہاں موجود تھی، واقعے میں 9 افراد جاں بحق جب کہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، واقعے کے بعد مسلمانوں کے احتجاج پر پولیس کی فائرنگ سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کی ذمہ داری ہندو انتہا تنظیم آر ایس ایس سے منسلک ذیلی تنظیم ابھینو بھارت نے قبول کی

تھی۔حیدر آباد پولیس نے واقعے کو حرکت الجہاد اسلامی نامی فرضی تنظیم سے جوڑتے ہوئے 200 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ جن میں سے 21 پر باقاعدہ مقدمہ بھی چلایا گیا تاہم عدالت نے تمام ملزمان کو رہا کرتے ہوئے اس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپی، بعد ازاں اس کی تحقیقات بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے سپرد کی گئی۔این آئی اے نے تحقیقات کے دوران ملنے والے شواہد اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں ابھینو بھارت سے تعلق رکھنے والے 10 ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں