لاہور(نمائندہ جنگ)مسلم امۃ کے مسائل میں انتہاء پسند اور دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے ، الاقصیٰ کی آزادی اور ارض الحرمین الشریفین کا دفاع اور سلامتی مسلمانوں پر فرض ہے ، مسلمانوں کے مقدسات پر حملہ آور گروہوں اور ان کے سر پرستوں کے خلاف اتحاد وقت کی ضرورت ہے ، مستحکم اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کیلئے عالم کفر سازشوں میں مصروف ہے، پاک افغان بارڈر پر دہشت گرد گروہوں کے کیمپ پاکستان کی سا لمیت اور استحکام کے خلاف سازش ہیں ، انتخابات میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور الاقصیٰ کی آزدی اور ارض الحرمین الشریفین کی سلامتی اور دفاع کا عزم کرنے والے امیدواروں کی حمایت کریں گے ، پاکستان اور سعودی عرب کا مسئلہ فلسطین پر مؤقف ایک ہے ، فلسطینیوں پر کسی جارحیت کو قبول نہیں کیا جائے گا ، سعودی عرب پر میزائل حملے کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف اسلامی سربراہی کانفرنس اور سلامتی کونسل ایکشن لے ،میزائل حملوں میں شہید ہونیو الوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں، یہ بات پاکستان علماء کونسل لاہور کے زیر اہتمام ناصر باغ لاہور میں تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے کہی ، کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی ۔کانفرنس سے مولانا عبد الحمید وٹو ، قاضی مطیع اللہ سعیدی ، مولانا اسد اللہ فاروق ، حاجی طیب شاد قادری ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا اسید الرحمن سعید ، مولانا شکیل قاسمی ، مولانا حسان احمد حسینی،علامہ طاہر الحسن، مولانا عبد الحکیم اطہر ، مولانا زبیر زاہد ، میاں راشد منیر ، مولانا عبد القیوم فاروقی ، قاری شمس الحق ، قاری مبشر رحیمی ، مولانا اسلم قادری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علماء کونسل مسلم امۃ کی وحدت اور اتحاد کیلئے کوشاں ہے ، الاقصیٰ اور حرمین الشریفین مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کے مرکز ہیں اور مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کو ختم کرنے کیلئے مسلمانوں کے مقدسات پر حملے کیے جا رہے ہیں ، مسلم ممالک کی عوام اور حکومتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے،مقررین نے کہا کہ عرب اسلامی ممالک اور ایران کو تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کیلئے سازشیں کی جا رہی ہیں، مسلم ممالک کے معاملات کے حل کیلئے اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس مکتہ المکرمہ میں بلایا جائے ، پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ارض الحرمین الشریفین کی سلامتی ، دفاع اور استحکام کیلئے سربکف ہیں ، فلسطینی اور کشمیری مظلوم تنہا نہیں ہیں، ہم سب ان کے ساتھ ہیں وقت آ گیا ہے کہ شام سے عراق تک اور یمن سے فلسطین اور کشمیر تک مظالم کرنے والوں سے مسلم امۃ حساب لے ، انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی نے مسلم امۃ کو کمزور کیا ہے ، مسلم علماء ، مفکرین ، دانشوروں اور حکمرانوں کو انتہاء پسندی ، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر نے قومی بیانیہ پیغام پاکستان کی صورت میں دیا ہے ، پیغام پاکستان پر مزید مشاورت کا عمل شروع کر کے عوام الناس تک اس کی تعلیمات پہنچائی جائیں اور پیغام پاکستان کو قانونی شکل دینے کیلئے جدوجہد کی جائے ۔ا نہوں نے کہا کہ شام ، عراق ، یمن ، لیبیا کے بعد اب اردن کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں ، قطر کو عرب ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے ، الزام تراشی سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے مسائل حل نہیں ہوتے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل 27 رمضان المبارک یوم پاکستان پیغام پاکستان کے عنوان سے منائے گی ، ۔ کانفرنس میں ایک اور قرارداد میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کی طرف سے اردن کے معاشی ،ا قتصادی مسئلہ کے حل کیلئے عرب ممالک کے اجلاس کو درست سمت قدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ شاہ سلمان بن عبد العزیز نے ہمیشہ کی طرح قائدانہ کردار ادا کر کے مسلم امۃ کے جذبات کی ترجمانی کی ہے ، کانفرنس میں ایک اورقرار داد میں کہا گیا کہ انتہاء پسند، دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں سے مسلم نوجوانوں کو دور رہنا چاہیے ، انتہاء پسند اور دہشت گرد گروہوں نے مسلم امۃ کو کمزور کیا ہے اور ان گروہوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمانوں کے مصائب اور مسائل میں اضافہ ہوا ہے ۔